Book Name:Jhagralu Kaisay Sudhra

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                 

دُرُوْدِ پاک کی فضیلت

          شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘کے باب فیضانِ رمضان، صَفْحَہ845پردُرودِپاک کی فضیلت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ تَقَرُّبنشان ہے’’بے شک بروزِقیامت لوگوں میں سے میرے قریب تروہ ہوگاجومجھ پرسب سے زیادہ درودبھیجے۔‘‘ (ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃعلی النبی، ۲/۲۷، حدیث : ۴۸۴)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(1)جھگڑالو کیسے سُدھرا؟

          مضافاتِ عطار آباد (منچن آباد) ضلع بہاولنگر (صوبہ پنجاب، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے احوال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :  دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں سرتاپا گناہوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ شرابیوں اور آوارہ گرد دوستوں کی صحبت کی وجہ سے موجودہ معاشرے میں پائی جانے والی کئی برائیوں کا عملی نمونہ بن چکا تھا۔ غصے کا اس قدر تیز تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتا، یہ لڑائی جھگڑے میرے معمولات کا حصہ تھے نیز آئے دن اسکول سے بھاگ جانا، نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ساتھ دوستیاں کرنا ان کے ساتھ آوارہ گھومنا پھرنا، سارا سارا دن کرکٹ کھیلتے رہنا، والدین کو ستانا، ان کی نافرمانی کرنا، ان کے سمجھانے پر زبان درازی کرنا، گالیاں دینا، مَعَاذَ اللہ اپنے باپ پر ہاتھ تک اٹھا دینا میرے نزدیک بُرا نہ تھا ۔ میں کیا کیا ذکر کروں ؟۔ میری حرکتوں سے تنگ آ کر گھر والوں نے میرا اسکول جانا بند کر دیا مگر میں پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آیابلکہ مزید بگڑتا گیا۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق گھر والوں سے ناراض ہو کر منچن آباد آ گیا اور ایک ڈرائی کلینر کی دکان پر ملازمت اختیار کر لی۔ ایک دن میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی سے ہو گئی جو وہاں کے علاقائی قافلہ ذمہ دار تھے انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی مگر میں نے کام کا بہانہ بنایا اور ان کے ساتھ اجتماع میں شرکت سے معذرت کر لی۔ انہوں نے آئندہ جمعرات شرکت کی نیّت کرنے کا کہا تو میں نے ہامی بھر لی۔ آئندہ جمعرات وہی اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے ابتداً تو میں نے بڑے بہانے بنائے مگر میرے خیر خواہ اسلامی بھائی نے ہمت نہ ہاری اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے کچھ اس انداز میں شرکت کی دعوت پیش کی کہ میں انکار نہ کر سکا اور ان کے ساتھ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو گیا۔ اجتماع میں مانگی جانے والی رقت انگیز دعا سن کر مجھ جیسا سخت دل آدمی بھی رو پڑا۔ مگر افسوس! میں اپنے آپ کو گناہوں کی پُرخار وادیوں سے مکمل طور پر نہ نکال سکا مگر قسمت میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی اور امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی غلامی لکھ دی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ مدنی چینل لگاؤ میں نے کہا کونسا مدنی چینل؟ وہ کہنے لگے کہ دعوتِ اسلامی کا مدنی چینل۔ میں نے کہا کہ چھوڑو یار! پھر انہوں نے خود ہی مدنی چینل لگا دیا۔ میری خوش قسمتی کہ اس وقت مدنی چینل پر دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران و مبلغِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی کا بیان بنام ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا۔ ان کے جھنجھوڑ دینے والا انداز اور پُرتاثیر الفاظ کانوں کے راستے میرے دل میں اتر گئے جس سے میرا دل چوٹ کھا



Total Pages: 11

Go To