Book Name:Rasail e Madani Bahar

امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی طرف سے عید کے دن مدنی قافلے میں سفر کرنے والوں کے لئے تحفہ ملنے کی خوشخبری ملی تومیں نے بھی مدنی قافلے میں سفر کی نیت کرلی اور عید کے دن عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی طرف سے مجھے تحفے میں بادام کی گری یا اس طرح کی کوئی اورچیزملی ۔میں نے اس کواس نیت سے کھایا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   مجھے اولاد کی نعمت سے نوازدے کیونکہ میری شادی کو تین سال گزر چکے تھے لیکن میں اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔کچھ ہی عرصہ بعد اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے اپنے فضل وکرم اور مرشد پاک کے تبرک کی برکت سے مجھے اولاد کی نعمت سے نواز دیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    تادم تحریرمیں اپنے علاقے میں ذیلی مشاورت کے خادم (نگران)کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ    عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12)انفرادی کوشش نے متأثرکردیا

        ڈیرہ مرادجمالی (بلوچستان)میں رہائش پذیرایک اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں غفلت بھری زندگی گزاررہاتھا، نہ تومیں نمازپڑھتااورنہ ہی قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل ہوتی۔ بڑوں کی بے ادبی کرنے سے نہ کتراتا بلکہ انہیں ’’توتکار‘‘سے مخاطب کرتا۔ ہمارے گھرکے قریب ہی تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کامدنی مرکز’’فیضانِ مدینہ‘‘اپنی برکتیں اور بہاریں لٹا رہا تھا مگرافسوس!کہ میں ان برکتوں سے محروم تھا۔ایک دن ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی برکات سنائیں اور اس میں شرکت کی دعوت دی۔ میں ان کے حسنِ اَخلاق اور ’’آپ جناب‘‘ والی گفتگوسے بہت متأثرہوا اور اجتماع میں شریک ہوگیا، اجتماع میں ہونے والی تلاوت، نعت شریف کے بعد پُرسوز بیان اور رِقّت انگیز دعا نے میری آنکھیں کھول دیں اور میں نے سچے دل سے توبہ کرکے خودکو مدنی رنگ میں رنگ لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اب میں نہ صرف خودپنج وقتہ نماز باجماعت پڑھتا ہوں بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی نمازکی دعوت دیتاہوں ۔ میرے اخلاق میں بھی نُمایاں تبدیلی ہوئی ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)جب دل پرخوف طاری ہوا

        ڈیرہ مرادجمالی (بلوچستان، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا  لُبِّ لُباب ہے :  آہ!دینی ماحول سے دوری کے سبب میری حالت انتہائی افسوسناک تھی دن رات گناہ ہی گناہ!فلموں کااس قدرشوقین تھاکہ جس دن فلم نہ دیکھتا تو بے چین ہو جاتا اور نمازوں سے اتنا دور تھا کہ سال میں صرف عید کی ہی نماز پڑھتا حالانکہ دعوتِ اسلامی کامدنی مرکز’’فیضانِ مدینہ‘‘ ہمارے گھرکے بالکل قریب تھا۔ ایک دن میں نے سوچاکہ یہاں ہر جمعرات دعوتِ اسلامی کاہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے، دور دور سے لوگ آتے ہیں میں جا کر دیکھوں تو سہی کہ وہاں ہوتا کیا ہے؟ یہ سوچ کر میں ہفتہ وار اجتماع میں حاضر ہو گیا، اجتماع کے اختتام پررقت انگیز دعا ہوئی تو میرے دل پرخوفِ خدا طاری ہو گیا، مجھے اپنے گناہوں پرندامت ہونے لگی اور اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا کہ افسوس!میں نے زندگی کے قیمتی لمحات غفلت کی نذر کر دیئے۔ چنانچہ میں نے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی اورمجھے چہرے پرداڑھی مبارکہ اورسرپرعمامہ شریف کا تاج سجانے کی سعادت حاصل ہوگئی۔یہ بھی کرم ہو گیا کہ میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہ بیان دیتے وقت میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم کے ڈویژن ذمہ دارکی حیثیت سے مَدَنی کاموں میں مصروف ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)ٹیبل ٹینس کاشائق

        باب المدینہ (کراچی )کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے :  مذہبی ذہن نہ ہونے کے باعث میں ٹیبل ٹینس کا بے حدشائق تھا، شام ہوتے ہی ٹیبل ٹینس کھیلنے میں مصروف ہو جاتا اور بسا اوقات یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتاالغرض اسی طرح کے دیگرفضول ولغو مشاغل میں شب وروز بسر کر رہا تھا۔ دعوت ِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی ہمارے پاس تشریف لاتے اور مجھ سمیت سبھی کھیلنے والوں پر انفرادی کوشش کر کے نماز اور دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کرتے مگر میں ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا لیکن ان کے پایۂ استقلال میں کوئی کمی نہ آئی اور وہ مسلسل میرے دل کے دروازے پر نیکی کی دعوت کی دستک دیتے رہے۔ بالآخر میرا دل نرم ہو گیا اور میں ان کے ساتھ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ہفتہ وار اجتماع کی برکت سے آہستہ آہستہ میرے سیاہ دل کی کالک اترنے لگی میں نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اور فضولیات کو چھوڑکر اس مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول سے وابستہ ہو گیا۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To