Book Name:Rasail e Madani Bahar

چاہئے ۔مگرایک مرید کیلئے ضروری ہے کہ وہ احترام و عقیدت کے فرق سے واقِف ہو ورنہ ہر ایک سے متأثّر ہونے والا کسی بھی قسم کی ٹھوکر کھاسکتا ہے جیسا کہ بعض مریدین جب کامِل مرشِد کے عطا کردہ طریقۂ کارا ور وظائف چھوڑ کر کسی اور سے متأثِّر ہوکر ان کے طریقے، چِلّے اور وظا ئف کے ذریعے منازِلِ سلوک طے کرنے، دل جاری کرنے اور جنّات قابو کرنے کی سعی کرتے ہیں تو بعض اوقات اُنہیں ناقابلِ تصوّر نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیونکہ اُس نے دوسری طرف توجّہ کرکے اپنے پیر و مرشِد سے عقیدت و محبّت میں کمی پیدا کی جو کہ کسی بھی مرید کیلئے دُرُست نہیں ۔اسلئے مرید کو یہ پیشِ نظر رکھناضروری ہے کہ اس کی عقیدت کسی صورت تقسیم نہ ہو بلکہ مرید نے محبتِ مرشد کا ایسا لبا لب جام پی رکھا ہو کہ بظاہر کیسا ہی باکمال شخص سامنے آئے مگر اسے اپنے مرشدِ کامل کے سواکچھ اور نظر ہی نہ آئے کیونکہ طریقت میں مریدمحبتِ مرشِد کے ذریعے ہی ترقّی کی منازِل طے کرسکتا ہے ، چنانچہ

محبتِ مُرشِد کی اہمیت

         حضرتِ سیِّدناعبدالعزیز دباغ علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاق فرماتے ہیں : ’’ محض شیخ ( یعنی مرشد) کی محبت فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اصل صلاحیت مرید کی محبت میں ہوتی ہے، لہٰذا اگر کسی مرید کا وجودپاک نہ ہو، اس کے نفس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو اور اس کی محبت شیخ کے اسرار جذب نہ کرسکتی ہو تو شیخ کچھ بھی نہیں کرسکتاکیونکہ صرف شیخ کی محبت فائدہ مند ہوتی تو اس کے حلقۂ بگوش ہونے والا ہر مرید مرتبۂ کمال پر فائز ہوتا۔‘‘ (مزید لکھتے ہیں : )بعض اوقات مرید کی سچی محبت کسی دُینوی سبب کے باعث منقطع ہوجاتی ہے، لہذا اپنے شیخ کے بارے میں اس کا ارادہ تبدیل ہوجاتا ہے اور شیخ کی توجہ اس سے ہٹ جاتی ہے، پھر قلیل یا طویل عرصے کے بعد شیخ کی محبت آجائے تو دوبارہ وہی اَسرار حاصل ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اصل چیز مرید کی اپنی کیفیت ہے کہ اس کی حالت کیسی ہے؟(الابریز، ج۲، ص۷۷)   

نسبتوں کی بَہار(محبت ِمُرشِد بڑھانے کا نُسخہ)

       اَ لْحَمْدُ للّٰہ عَزَّوَجَلَّ  25اور26تاریخ کو عالمِ اسلام کی دو عظیم ہستیوں اعلٰیحضرت، امامِ اَہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عظیم المرتبت، مُجَدِّدِ دین و ملت، مولانا شاہ اَحمد رضا خان قادِری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری اور پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت ، بانیِٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نسبت حاصل ہے۔

   ٭25 صَفَرُ المُظَفَّر۱۳۴۰ ھ امامِ اَہلسنّت‘‘ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کا ’’یومِ عرس‘‘ ہے۔

  ٭26  رَمَضانُ المبارَک۱۳۶۹ ھ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا  ’’یومِ ولادت‘‘ ہے۔

      لہٰذا ہرمَدَنی ماہ کی 25تاریخ کو  ’’ عُرسِ امامِ اَہلسنّت‘‘ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ   اور26 تاریخ کو  ’’ یومِ ولادتِ امیرِ اَہلسنّت‘‘دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق منانے کا اہتمام کیجئے۔

 ہر ماہ یومِ رَضا  کی د ھوم

        ہر مَدَنی ماہ کی25تاریخ کوعمر بھر پنج وقتہ باجماعت نماز ادا کرنے کی نِیت کے ساتھ نمازِ عَصْرمع سنتِ قبلیہ پہلی صف میں ادا فرمائیں اور نیّت کر لیجئے کہ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   فُضول باتوں سے بچنے اور خاموشی کی عادت بنانے کے لئے عَصْر تا مغرب صرف لکھ کر یا اشارے سے کام چلا نے کی کوشش کرونگا۔ضَرورتاً بولنا پڑا تو کم سے کم لفظوں میں گفتگو نمٹاؤں گا۔ اس د و ر ا ن پریشان نظری اور بد نگاہی سے بچنے کی نیت سے نگاہیں جھکا کر رکھنے کی عادت بنانے کے لئے قُفلِ مدینہ کا عینک بھی استعمال کرونگا۔عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کرونگایا مریض یا دُکھی کی گھر یا ہسپتال جا کرسُنّت کے مطابق غم خواری کرونگا اور اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   اِن تمام اُمور کا ثواب اعلیٰ حضرت رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کو ایصال کرونگا۔     

ہر ماہ ولاد تِ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی د ھوم

     دھڑکتے دل کے ساتھ غروبِ آفتاب کے منتظر رہیں کہ’’26ویں شب‘‘کی آمد ہے۔نمازِ مغرب پہلی صف میں مع نفل اَوابین و صلٰوۃ التوبہ پڑھ کر سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کرکے آئندہ زندگی ’’رِضائے رَبّ الانام کے مَدَنی کام ‘‘کے مطابق گزارنے یعنی عطار کا دوست، پیارا ، محبوب اور منظورِ نظر بننے کی نیّت کے ساتھ’’26ویں شریف‘‘ کا استقبال کیجئے ۔ ولادت ِامیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرکاتُہم العالیہکی خوشی میں سورۂ مُلک شریف و سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت کے بعد فکرِ مدینہ(یعنی مدنی انعامات کے رسالے میں دئیے گئے خانے پُر کرتے ہوئے) اس طرح تصورِ مُرشِد کیجئے کہ امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہم العالیہمجھ سے بذریعہ مَدَ نی انعامات سُوالات فرما رہے ہیں اورمیں ان کی بارگاہ میں جوابات عرض کر رہا ہوں ۔ 26عددمَدَنی انعامات کے رسالے حاصل کر کے تقسیم اور مَدَنی ماہ کے اختتام پَر وُصول کرنے کی نیّت کے ساتھ قفلِ مدینہ پیڈ پر آئندہ ماہ اپنی مَدَنی قافِلے میں سفر کی تاریخ بھی نوٹ کیجیے اس مدنی ترکیب کے نفاذ سے آپ کے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے 2مدنی کام مدنی قافلہ و مدنی انعام کے تو اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   پَرلگ جائیں گے اور یہ بے ساختہ مدینہ منورہ کی طرف اڑنا شروع کر دیں گے ۔ پھر شَجَرۂ عالیہ پڑھ کر سلسلۂ عالیہ قادِریہ رَضَویہ عطاریہ کے مشائخِ کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہ تعالٰیکے لئے فاتحہ اور ایصالِ ثواب کی ترکیب بنائیں ۔ لنگر ِرَسائل (یعنی مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل کی تقسیم )بھی ایصالِ ثواب کا بہترین ذریعہ ہے ۔

     اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّاِس ترکیب سے تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں ہرمَدَنی ماہ کی 25اور26 تاریخ کو یومِ رَضا منانے کے ساتھ ساتھ  امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے یومِ ولادت کی بَرَکتوں سے بھی مستفیض ہو سکتے ہیں ۔(اسلامی بہنیں حسبِ ضَرورت ترمیم کرلیں )   

آپ بھی مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے

        خربوزے کودیکھ کرخربوزہ رنگ پکڑتاہے، تِل کوگلاب کے پھول میں رکھ دو تو اُس کی صُحبت میں رَہ کرگلابی ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ



Total Pages: 81

Go To