Book Name:Rasail e Madani Bahar

        اس شعر کوسن کر میں نے نیت کی کہ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  مسلسل بارہ ماہ تک ہر ماہ تین دن کے مدنی قافلے کامسافر بننے کی سعادت حاصل کرتا رہوں گا۔(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رحمت، اس کے محبوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے کرم اور مرشد پاک  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نظر عنایت سے اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّمیں نے بہت جلد12 مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت بھی حاصل کر لی )

         ظہر کی جماعت کے بعد سنّتیں ادا کرنے کیلئے پچھلی صف میں آیا توایک بزرگ کو دیکھا جو سفیدلباس میں تھے اور سر پر عمامہ شریف بھی باندھا ہواتھا۔وہ میری  طرف ہی متوجہ تھے، مجھے فوراً نظریں جھکا نی پڑیں کیونکہ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی جس کی میں تاب نہ لاسکا ۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ یقینا یہ کوئی اللّٰہ والے ہیں ۔ بہرحال میں نے نماز کی نیت باندھ لی ، نمازکی سنّتیں ادا کرنے کے بعد جب مبلغ دعوت اسلامی نے بیان شروع کیا اور یہ ا علان کیا : ’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قریب قریب تشریف لائیے ‘‘تو میں قریب ہوکر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد دیکھا تو وہی چمکتی آنکھوں والے بزرگ  میری دائیں جانب موجود تھے۔اس بار بھی ان کی آنکھوں کی چمک نے مجھے دوبارہ نظریں جھکانے پر مجبور کردیا ۔ پھر بیان ختم ہونے تک میں ان سے نظر نہیں ملا سکا اور سر جھکائے بیٹھا رہا۔بیا ن کے بعد جب اسلامی بھائیوں نے آپس میں مصافحہ کیا تومیں بے اختیار اُن چمکتی آنکھوں والے بزرگ کی طرف بڑھ گیا، انہوں نے سلام ومصافحہ کے بعد مجھے دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اگر حصولِ علمِ دین کیلئے باب المدینہ (کراچی)چلے جاؤ تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ   بانیٔ دعوت اسلامی کی توجہ کی برکت سے علمِ دین کی دولت سے مالا مال ہوجاؤ گے۔ اس کے بعد انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیر ا اور تشریف لے گئے۔ہم تین دن تک وہیں رُکے رہے مگر دوبارہ ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں نے  علمِ دین کے باقاعدہ حصول کیلئے سوچا تک نہ تھا اورنہ ہی کبھی گھر میں کسی نے کہاتھا، مگر اس مَدَنی قافلے میں سفر اور چمکتی آنکھوں والے بُزُرگ کی انفرادی کوشش کے بعد علمِ دین کے حصول کے لئے میرا ایسا ذہن بنا کہ میں گھر سے سینکڑوں میل دور جامعۃ المدینہ باب المدینہ کراچی میں درسِ نظامی کے لئے حاضر ہوگیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے 8سال کا طویل عرصہ گزر گیا اور پیرومرشد امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی توجہ سے میں نے درسِ نظامی مکمل کرنے کی سعادت حاصل کر لی ۔جب امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مبارک ہاتھوں سے میری دستار بندی ہوئی تومجھے چمکتی آنکھوں والے بزرگ کی کہی ہوئی بات یاد آئی ، چُنانچہ میں ایک مرتبہ پھر خُصوصی طور پر ڈیرہ غازی خان کی اُسی مسجد میں اُن چمکتی آنکھوں والے بزرگ کی تلاش میں گیا اور آس پاس کے لوگوں سے پوچھا تو سبھی نے اس قسم اور اس حلیے کے بزرگ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔(واللّٰہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بحقیقۃ الحال )

پندرھویں صدی کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان ایمان افروز مَدَنی بہاروں سے معلوم ہوا کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگان پراللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاص کرم ہے ۔جب وابستگان کا یہ عالم ہے تو جس نے اس تحریک کا آغاز کیا یعنی پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت، شیخِ طریقت ، امیرِاَہلسنّت  ، با نیِٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطارقادِری رَضَوی دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہان کی شان کا کیا عالم ہوگا!

احترامِ مسلم

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان ایمان افروز مَدَنی بہاروں سے یہ مَدَنی پھول بھی ملا کہ کسی بھی مسلمان بالخصوص جو سادہ وگم نام دکھائی دے ، اس کو کمتروحقیر نہیں جاننا  چاہئے ، کسی کا دل دُکھائیں نہ ہی اس کے بارے میں بدگمانی کو دل میں جگہ دیں بلکہ ہر مسلمان کا احترام کیجئے ۔کیا عجب! کہ سادہ لباس وعمامے میں ملبوس نظر آنے والا یہ اسلامی بھائی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا مقبول بندہ ہو ، اگر ایسا ہوا تو اس کی دل آزاری وبے ادبی کرنا کہیں ہمیں دُنیا وآخرت کے خسارے میں مبتلا نہ کر دے ، جیسا کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے اس شعر میں توجّہ دلائی ہے    ؎

تمہیں معلوم کیا بھائی! خدا کا کون ہے مقبول

             کسی مومن کومت دیکھو کبھی بھی تم حَقارت سے  (وسائل بخشش)

        بلکہ ایک بار مَدَنی مذاکرہ میں   امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شرکاء کو احترامِ مسلم کا درس دیتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ بھی سُنایا، چُنانچِہ

گُدڑی کا لعل

          امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا : ’’ایک بارمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سفر پر تھا، ہمارے ڈِبّے میں ایک دبلا پتلابے ریش و بے کشش لڑکاانتِہائی سادہ لباس میں ملبوس سب سے جُدا کھویا کھویا سا بیٹھا تھا۔کسی اسٹیشن پر ٹرین رُکی، صِرف دو مِنَٹ کا وقفہ تھا ، وہ لڑکا پلیٹ فارم پراتر کر ایک  بَینچ پر بیٹھ گیا۔ ہم سب نے نَمازِ عصر کی جماعت قائم کر لی، ابھی بمشکل ایک رَکْعت ہوئی تھی کہ سیٹی بج گئی لوگوں نے شور مچایا کہ گاڑی جا رہی ہے۔ سب نَماز توڑ کر ٹرین کی طرف لپکے تو وہ لڑکا کھڑا ہو گیا اور اُس نے مجھے اشارہ سے نَماز قائم کرنے کا حکم صادِر کیا! ہم نے پھر جماعت قائم کر لی، حیرت انگیز طور پر ٹرین ٹھہری رہی ، نَماز سے فارِغ ہو کر ہم جُوں ہی سُوار ہوئے ، ٹرین چل پڑی اوروہ لڑکا اُسی بَینچ پر بیٹھا لا پرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھتا رہا۔ اِس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کوئی ’’ مجذوب‘‘ ہو گاجس نے ہمیں نَماز پڑھانے کیلئے اپنی روحانی طاقت سے ٹرین کو روک رکھا تھا!اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بہرحال ہمیں ہر مقام پر مسلمانوں کو اچھی نظر سے دیکھنے کی عادت بنالینی چاہئے ، چاہے کوئی نگران ہو یا ماتحت ، اجنبی ہویا رشتہ دار جس سے بھی واسطہ پڑے ، احترامِ مسلم کا جذبہ برقرار رہنا



Total Pages: 81

Go To