Book Name:Rasail e Madani Bahar

ماحول کی برکتیں لوٹتا رہا۔ پھر بد قسمتی سے مدنی ماحول سے دور ی ہوگئی اور کم و بیش16سال تک دُنیا کی محبت میں مارا مارا پھرتا رہا ، 16سال بعد ایک روز خواب میں پھر  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لائے اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے کچھ یوں فرمانے لگے : ’’بے عملی کے طوفان اور بد عقیدگی کے سیلاب کی تباہ کاریاں آپ کے سامنے ہیں ، فی زمانہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر نیکی کی دعوت عام کرنے کی کس قدر ضرورت ہے ۔‘‘جب میں بیدار ہوا تو میرا دل بھی بیدار ہوچکا تھا چنانچہ میں پھر سے دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا اورمساجد کی تعمیرات ومعاملات میں مصروف رہنے والی’’مجلسِ خدّام المساجد (دعوتِ اسلامی)‘‘کے تحت مدنی کاموں کی بہاریں لوٹنے میں مصروف ہوگیا۔

        انہوں نے مزید بتایا کہ میں جمادی الثانی ۱۴۲۹ھ بمطابق جو ن 2008ء میں بیمار ہواتو علاج کے لئے  باب المدینہ (کراچی)  کے ایک اسپتال جانا ہوا۔اسپتال میں مریضوں کے ہمراہ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھا تھا ، میرے بچوں کی امی بھی ساتھ تھیں کہ اچانک ایک سبز عمامے والے بزرگ میرے پاس سے تشریف لائے، بآواز بلند سلام کے بعد خندہ پیشانی سے ملاقات کرتے ہوئے میری خیریت دریافت کی اور تسلّی دیتے ہوئے فرمانے لگے ’’ :  گھبرائیے گانہیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  جلد آپ کی طبیعت بہترہوجائے گی، بس آپ دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرتے رہئے اورتعویذاتِ عطاریہ بھی استعمال فرمائیے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’ آپ کی ذمہ داری؟‘‘تو انہوں نے فرمایا : ’’ مسلمانوں کی خیرخواہی و خدمت کرناہی میری ذمّہ داری ہے۔‘‘ میں حیرت زدہ تھا کہ یہ اجنبی بزرگ آخرکون ہیں جو اتنی شفقت فرما رہے ہیں !انہوں نے مجھے نگرانِ شوریٰ اوراپنا موبائل نمبر بھی دیا اورکہا :  نگرانِ شوریٰ کو فون کرکے میری طرف سے کہنا کہ امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے دعا کر وا دیں ۔پھر وہ واپس تشریف لے گئے۔ان کے جانے کے بعد بچوں کی امی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ آپ کے پُرانے جاننے والے ہیں ؟میں نے کہا : ’’ یہ ہماری پہلی مُلاقات ہے۔‘‘ تو وہ بھی بہت حیران ہوئیں ۔میں نے دو ماہ بعدان کے دئیے ہوئے نمبر پر کسی ضرورت کے تحت نگرانِ شوریٰ کو میسج(sms) کیا تو انکی طرف سے جواب(reply) بھی آیا۔پھر کچھ عرصہ بعدہمت کرکے جب ان ’’اجنبی بزرگ‘‘  کو فون کیا تو رِسیو نہیں ہوابلکہ دو دن بعد حیرت انگیز طور پران کا نمبر میرے موبائل سے ازخود مِٹ گیا۔

        یہ واقعہ سُن کر راقم الحروف کے ذہن میں چمکتی آنکھوں والے بزرگوں کے واقِعات گھومنے لگے، چنانچہ میں نے بے اختیارپوچھا : ’’جو بزرگ آپ سے ملے تھے اُن کے چہرے میں کوئی خاص بات جو آپ نے محسوس کی ہو اور ابھی تک یاد ہو ؟‘‘ تو وہ جھٹ سے بولے :  ہاں ! ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کی آنکھیں بہت چمک رہی تھیں جس کے باعث میں ان سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔‘‘یہ سن کر میرے جسم میں سنسناہٹ پھیل گئی، دعوتِ اسلامی اور  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے وابستگا ن پر کرم کی یہ بارشیں دیکھ کر مجھ پر ایسی رقّت طاری ہوگئی کہ میں کافی دیر تک کسی سے گفتگو نہ کر سکا۔کچھ دیر بعد جب میں نے مکتب میں موجود اسلامی بھائیوں کو چمکتی آنکھوں والے بزرگوں کے مزیدواقعات سنائے تو سب حیران رہ گئے اور دعوتِ اسلامی اور  امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامن سے وابستگی پر رشک کرنے لگے۔

موبائل نمبر خود بخود مٹ گئے

        جب میں نے عطّار آباد(جیکب آباد) کے اسلامی بھائی سے پوچھاکیاکسی طرح  اُس چمکتی آنکھو ں والے اسلامی بھائی کا فون نمبر مل سکتا ہے جو آپ کو اسپتال میں ملے تھے تو کہنے لگے میں نے کمپیو ٹر میں بھی اُن کا نمبرمحفوظ(save) کیا تھا، جا کر دیکھتا ہوں ۔چند دنوں بعدانہوں نے مجھے وہ نمبر sms کردیا جسے میں نے اپنے موبائل میں محفوظ (save) کرلیا۔ایک دن ہمت کرکے اسی نمبر پر فون کیا تو کسی نے فون نہیں اٹھایا، پھر میں نےsms بھیجاکہ’’آپ کون ہیں ؟اگر مناسب خیال فرمائیں تو تعارف کروادیجئے۔‘‘ دوسرے دن کسی اور نمبر سے جوابی sms آیاجس میں انہوں نے اپنا نام مع ولدیت لکھا تھا۔راقم الحروف نے وہ نمبر بھیsave کرلیا، مگر حیر ت انگیز طورپر دوسرے ہی دن وہ دونوں نمبرخود بخود ختم(یعنیdelete) ہوگئے۔

صَلُّو اعَلَی الْحَبِیْب              صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد

(6)  وہ چمکتی آنکھوں والے کون تھے؟

       غالباً 2010ء میں راقم الحروف عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المد ینہ (کراچی)میں ’’مجلس المدینۃ العلمیہ‘‘ کے مکتب میں چمکتی آنکھوں والے بُزُرگوں کے واقعات کمپوز کروانے کے لئے حاضرہوا، مدینۃ الاولیائ(ملتان شریف) ’’باواصفرا‘‘ کے مقیم مدنی اسلامی بھائی [1]؎نے کمپوزنگ کے دوران جب چمکتی آنکھوں والے بُزرگوں کے واقعات پڑھے تو چونکے اورفرمایا : اسی طرح کا واقعہ تو میرے ساتھ بھی پیش آچکاہے۔پھر انہوں نے جو کچھ بتایااس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں کم وبیش 1994ء میں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہوا۔ایک مرتبہ مجھے مدنی قافلے کے ساتھ مجھے سنّتوں بھرے سفر کی سعادت حاصل ہوئی۔ہمارا مَدَنی قافلہ ڈیرہ غازی خان کی ایک مسجد میں قیام پذیر ہوا ۔چونکہ میں نے پہلی بارمَدَنی قافلے میں سفر کیا تھااس لئے دورانِ قافلہ وہاں کے نگران نے انتہائی شفقت کے ساتھ مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ذہن بنایا کہ دعوت اسلامی ایک پاکیزہ تحریک ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی کسی چھوٹی سی لغزش سے بھی اسے ٹھیس پہنچ جائے ، آپ کو اس مدنی قافلے میں سفر مبارک ہو ، میری آپ سے ایک درخواست ہے کہ جو بھی قد م اٹھائیں بڑی احتیاط کے ساتھ اٹھائیں ۔ پھر انہوں نے مجھے مزید مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیتے ہوئے امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا شعر سنایا :    ؎

اپنی ساری نیکیاں عطار نے کیں اس کے نام

بارہ مدنی قافلوں میں جو کوئی کرلے سفر

 



1      دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ سے درسِ نظامی کی سند پانے والے خوش نصیب اسلامی بھائی کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ’’مَدَنی ‘‘ کہا جاتا ہے۔



Total Pages: 81

Go To