Book Name:Rasail e Madani Bahar

صرف نماز کے لئے باہر نکلتے ، بقیہ وقت نعتیں سُنتے اورروتے رہتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے چہرے پر ایک مٹھی داڑھی شریف ، سر پر سبز سبزعمامے کا تاج اور بدن پر سفید لباس دکھائی دینے لگا۔ اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرتے کرتے آج وہ مبلِّغ بن چکے ہیں اورمیں بھی مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں سمیٹ رہا ہوں ۔

       سنّتوں بھرے اِجتماع سے واپسی پروقتاً فوقتاً مجھے بھی اُن کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا کرتا ، جب کبھی میں اُن کے ساتھ قبرستان جاتا تو وہ قبروں کی طرف دیکھتے اور اندر کے حالات بتانا شروع کردیتے کہ’’ یہ فلاں کی قبر ہے ، دیکھو! وہ اس وقت کتنے اَفسردہ ہیں سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں ، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔اِس قسم کی باتیں سن کر میں ڈر جاتا تھا، آخِر کار میں نے ان کے ساتھ قبرستان جانا ہی چھوڑ دیا ۔

 راقِمُ الْحُرُوف کی چمکتی آنکھوں والے نوجوان سے ملاقات

        میں ( یعنی راقم الحروف )نے جب یہ ایمان افروز باتیں سنیں تو ان کے خوش نصیب دوست سے ملنے کا شوق پیدا ہوا مگر باوجود کوشش کے رابطے اورملاقات کی کوئی صورت نہ بن سکی ، آخر کار کئی سالوں بعد ان کو تلاش کرنے اور ملاقات کا شرف پانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔میری ان سے پہلی ملاقات دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ(کراچی)میں ہوئی۔ قد آور، با ریش اورسنّتوں بھرے سفید لباس میں ملبوس نوجوان شخصیت میرے سامنے تھی ، سر پر سبز سبز عمامہ شریف اپنی بہاریں لُٹا رہا تھا ۔ میں نے جب اُن سے مذکورہ واقعہ کا تذکرہ کیا تو ان پر رقّت طاری ہوگئی اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ یہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا خاص کرم اور مرشدِ کامل کی نگاہِ فیضِ اثر کاثمرتھا، مگر میری اب وہ کیفیت نہیں ۔ میں نے مزید معلومات کے لئے عرض کی توکچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے پھر کچھ یوں فرمانے لگے :  ’’میں دنیا کی رنگینیوں میں گُم زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر رہا تھا مگر کسی پیرِ کامل سے مرید ہونے کی خواہش بہرحال رکھتا تھا کہ جو میرے دل کی سیاہی کو دھو کرمجھے اللّٰہ والوں کے راستے پر چلا دے ۔کبھی کبھی نماز بھی پڑھنا شروع کردیتا مگر اِستقامت نہ مل پاتی۔ہاں ! ایک معمول ضرورتھا کہ جب نماز پڑھنے مسجدجاتاتو 100بارجاتے اور 100با رآتے ہوئے دُرُودِ پاک لازمی پڑھتا تھا ۔ اِس واقعہ کے رُونما ہونے سے کم و بیش 15دن پہلے مجھے خواب میں سفید لباس میں مَلبوس ایک بُزُرگ کی زیار ت ہوئی، انہوں نے فرمایا :  تمہارا دُرُودِ پاک پڑھنے کا معمول بہت اچھا ہے اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  چند دنوں میں اس کی بَرَکتیں دیکھ لو گے ۔  اُن دنوں میں ویٹ لفٹنگ( wait lifting) بھی کیاکرتا تھا ۔ خواب دیکھنے کے چند روز بعدمیں کلب جارہا تھا کہ دعوتِ اسلامی کے بین الا قوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کے لئے بس کھڑی دیکھی ۔ ایک با عمامہ عاشقِ رسول نے جو مجھے پہلے سے جانتے تھے ، مجھ سے رُکنے اور بات سننے کی درخواست کی ، پھر اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو میں نے ہامی بھر لی اور گھر والوں سے اجازت لے کرایک دوست کو ساتھ لیا اور عاشقانِ رسول کے ہمراہ باب المدینہ روانہ ہوگیا پھر جو کچھ وہاں ایمان افروز واقعات ہوئے وہ تو آ پ جان چکے ہیں ۔

       انہوں نے اِس واقعہ کی تصدیق کے سا تھ ساتھ مزید معلومات بھی فراہم کیں ، مثلاً :  انہوں نے بتایا کہ میں جب اجتماع گاہ میں  چمکتی آنکھوں والے بُزُرگوں سے ملاقات کیلئے پہنچتا تو دیکھتا کہ ان میں کسی کے سینے تک تو کسی کے ناف تک اور کسی کے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے ۔ اجتماع سے واپسی پر کئی روز تک میری عجیب کیفیت رہی ، مضبوط قفلِ مدینہ لگ گیایعنی بولنا با لکل کم کردیا ، چوتھا ئی ٹکڑا روٹی کاکھاتا تو پیٹ بھر جاتا اورسوتا بھی بہت کم تھا۔ رات کم و بیش3بجے خود بخود آنکھ کھُل جاتی اور تہجد پڑ ھنے کی سعادت پاتا ، نعتیں سُنتااور اشک باریاں کرتا، اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّمیرا دل مسجِد میں لگتا ، نمازِظہرکے لئے جا تا تو عشاء پڑھ کے لوٹتا تھا ، اُن دنوں کا کیف و سُرُور اور رِقّتِ قلبی میں زندگی بھر نہیں بھو ل سکتا۔پابندی سے قبرستان حاضری کے لئے جاتا ، وہاں خاص بات یہ دیکھتا کہ جن قبروں پر گھاس اُگی ہوتی وہاں نور کی بارش برستی دکھائی دیتی ۔

قبروں سے تَر گھاس نہ نوچئے

         دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 48 صَفْحات پر مشتمل رسالے ، ’’قبر والوں کی 25حکایات‘‘  صَفْحَہ 7 پرہے :  قَبْر پر سے تَر گھاس نوچنا نہ چاہیے کہ اُس کی تسبیح سے رَحمت اُترتی ہے اور میِّت کو اُنْس حاصِل ہوتا ہے اور نوچنے میں میِّت کا حق ضائِع کرنا ہے۔      (رَدُّالْمُحتار ج۳ص۱۸۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تصورِ مُرشِد کی بہاریں

     میر پور خاص (باب الاسلام سندھ)  کے وہ اسلامی بھائی جنہوں نے راقم الحرو ف کویہ مذکورہ ایمان افروز واقعہ سنایا تھا اُن کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی محبت دل میں ایسی بسی کہ ہر وقت تصوُّرِمُرشِد میں گم رہنے لگا ، انہیں یاد کر کے رویا کرتا، مجھے محبتِ مُرشِد کی ایسی بہاریں نصیب ہوئیں کہ میرے وارے نیارے ہوگئے ، ایک مَدَنی بہار پیش کرتاہوں :

(2) کشفِ عطّار کی کیا بات ہے !

        ایک روز میرے دل میں عجیب خواہش پیدا ہوئی کہ کاش مجھے اپنے پیرومُرشِد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مبارک آنکھوں کو عقیدت سے چُومنا نصیب ہو جائے ۔ لہٰذا میں دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) جاپہنچا اور عام ملاقات کے لئے قِطار میں جاکھڑ ا ہوا۔جب بارگاہِ مُرشِدی میں حاضری کی سعادت ملی تو  رقعے پر اپنی خواہش لکھ کر پیش کردی۔  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہرقعہ پڑھ کر مُسکرادئیے اور اشارے سے فرمایا کہ’’ پہلے 30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کیجئے ۔‘‘  اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّمیں مُرشِد کے حکم پر لَبَّیْک کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ عاشِقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر پر روانہ ہوگیا ۔     

 



Total Pages: 81

Go To