Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)وہ دیکھو سبز گنبد

        ایک اسلامی بھائی نے زیارتِ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا ایک واقعہ بیان کیاجسکالبِّ لباب پیشِ خدمت ہے :  ۱۴۱۳ ھ بمطابق  1993ء کی بات ہے کہ ایک مرتبہ شبِ جمعہ کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع سے فراغت کے بعد گھر جاتے ہوئے مجھے کافی دیرہوگئی، رات چونکہ کافی گزر چکی تھی اس لئے سوتے وقت یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں میری فجر کی نماز قضاء نہ ہو جائے۔ لہٰذا سونے سے قبل میں نے اپنے پیرومرشد شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو یاد کیا اور دل ہی دل میں نمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کی تمنا لیے نیند کی وادیوں میں جا پہنچا۔ رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت کے پاس بہت سے اسلامی بھائی جمع ہیں میں بھی ان کے درمیان جا بیٹھا۔ اتنے میں وہاں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہبھی تشریف لے آئے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے میرے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور ارشاد فرمایا :  ’’وہ دیکھو سبز سبز گنبد سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔‘‘ میں نے جونہی نظر اٹھائی تو گنبدِخضراء کی نہ صرف زیارت نصیب ہو گئی بلکہ ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ    ‘‘ کی پُرکیف صدا ئیں کانوں میں رس گھولنے لگیں ۔ ابھی میں یہ دلنشین صدائیں سن ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی او ر میں نے باجماعت نماز ادا کر لی۔  

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

 ہوسکتا ہے  شیطٰن آپ کو یہ رِسالہ( 32صفحات)  مکمَّل پڑھنے سے  روک دے مگر آپ پڑھ  لیجئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ          آپ جھوم اُٹھیں گے

شَفاعت کی بِشارت

       شیخِ طریقت ، امیرِاَہلسنّت، با نیِٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علّامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّاؔرقادِری  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کے تحریری گلدستے’’باحیا نوجوان‘‘ میں منقول ہے کہسرکارِمد ینۂ منوّرہ ، سردارِ مکۂ مکرمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کافرمان ِدلنشین ہے : ’’جو شَخص صُبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرُود شریف پڑھے گا بروزِ قِیامت میری شَفَاعت اُسے پَہُنچ کر رہے گی۔‘‘ (اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۱ ص۲۶۱حدیث ۲۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        غالباً 2005ء میں راقم الحروف کوایک روز سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان کے سلسلے میں ’’کوٹ غلام محمد ‘‘(باب الاسلام سندھ، پاکستان)جانا ہوا ۔ دورانِ سفر’’ مِیر پور خاص ‘‘  (بابُ الاسلام سندھ)کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ ’’ہمار ے شہر کے ایک مَدْرَسَۃُ الْمَدِینہ (بالِغان) کے بارے میں کسی طرح یہ بات مشہور ہوچکی ہے کہ وہاں ایک عطّاری اسلامی بھائی ایسے ہیں جو روزانہ کم وبیش 3000مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھتے ہیں اور اپنے پیرومُرشِد امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں اِستِغاثہ پیش کرتے ہیں ، مدرسے کے ذمّہ دار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں مگر اس اسلامی بھائی کا نام نہیں بتاتے چُنانچہ ابھی تک یہ پتا نہیں چل سکا کہ وہ کو ن سے اسلامی بھائی ہیں ؟ (کیونکہ اس مدرسے میں 15سے 20اسلامی بھائی ہوتے ہیں )‘‘ یہ ایمان افروز خبر سُن کر میں نے رات ’’میر پور خاص‘‘ رُکنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ اُس عاشقِ رسول کے قُرب کی برکتیں سمیٹ سکوں ، چنانچہ بعد ِ اجتماع’’ میر پور خاص‘‘ پہنچ کر جب مدرسہ ذمّہ دار سے معلومات کیں توپہلے انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر جب تنہائی میں لے جا کرمیں نے اُن سے اِصرارکیا تو انہوں نے یہ راز آشکار کیا کہ وہ خوش نصیب عطّاری میں ہی ہوں ۔ میں نے عرض کی :  ’’آپ کوعشقِ مُرشِد کی یہ عظیم د ولت کیسے نصیب ہوئی ؟‘‘ توان کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے حلفیہ(یعنی قسم کھا کر )اپنا ایمان افروز واقعہ سُنایا۔

(1) چمکتی آنکھوں والے بُزُرگ

        اُس عاشقِ رسول کے بیان کا لُبِّ لُباب یہ ہے کہ میں آٹھویں جماعت کا طالبِ علم تھا ،  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مُریدتوبنا مگر دوستوں کی فُضول صحبت کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں سمیٹنے سے محروم رہا ۔ایک روزکسی نے مجھے اولیائِ کِرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ السَّلَام کی چند کرامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اِس پُرفِتَن دَور میں ایسے ’’اللّٰہ والے ‘‘ کہاں !جو فرائض وواجبات کی ادائیگی اور سنّتوں پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ  صاحبِ کرامات بھی ہوں ۔اِس گفتگو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان نے میرے دل میں یہ وَسوَسہ ڈالاکہ میں نے  امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی کرامات کے بارے میں سُنا تو ہے مگر اپنی آنکھوں سے کوئی کرامت نہیں دیکھی، اب میں  امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اللّٰہ کا ولی تبھی مانوں گا جب میں خودکوئی کرامت دیکھوں گا۔  [1]؎

        دو سال کا طویل عرصہ یونہی گزر گیا۔ایک روزکسی نے کورنگی (باب المدینہ کراچی) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اِجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں



1       فتاویٰ رضویہ جلد 26صفحہ 581پر حقوقِ مُرشِدکا بیان ہے جس میں یہ بھی ہے کہ ’’ (مُرید)اپنے مُرشِد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ج۲۶ ص۵۸۱)حضرت سیدنا عبدالعزیز دَبَّاغ علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاق فرماتے ہیں:اگر کوئی شخص ولایت یا سِر (یعنی راز) کے حصول کے لئے مُرشِد سے محبت کرے یا مُرشِد کے علم، مہربانی یا اسی کی مانند کسی اور خوبی کی وجہ سے محبت کرے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔(الابریز ،ج۲، ص۷۵)ایک اور جگہ فرماتے ہیں:آج کل لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر وہ دیکھیں کہ کسی ولی کی دعا قبول نہیں ہوئی تو یہ کہہ کر اُس کی وِلایت کا انکار کردیتے ہیں کہ اگر یہ ولی ہوتا تو اس کی دُعا ضرور قبول ہوتی ۔ (ایضاً۹۱ ملخصاً )



Total Pages: 81

Go To