Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10)برسوں کی خواہش پوری ہو گئی

        خوشاب (پنجاب، پاکستان) میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے :  میں کچھ عرصہ سے پیرِکامل کی تلاش میں تھا اور ارادہ یہ کر رکھا تھا کہ جس کی طرف خواب میں اشارہ ہو گااسی کا مرید بنوں گا۔ اسی اثناء میں قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃ الاولیاء ملتان میں ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کے دن قریب آگئے ۔ہمارے علاقے میں بھی اس کی تیاری کی دھوم تھی۔ اسلامی بھائی وقتاًفوقتاً علاقے میں لوگوں سے  ملاقات اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے اجتماع کی دعوت پیش کرنے لگے۔ اس دوران جب مجھے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو میں نے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے شرکت کی نیت کر لی۔ اجتماع میں شرکت کرنے کی نیت کی بَرَکت سے میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی اور میری برسوں کی خواہش پوری ہوگئی جب میں رات سویا تو خواب میں ایک حسین منظر دیکھا کہ : ایک حسین وجمیل نورانی چہرے والے بزرگ سبز سبز عمامہ سجائے سفید لباس میں ملبوس مجھے اجتماع میں شرکت کی نیت کی مبارک باد پیش فرما رہے ہیں ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ اجتماع گاہ میں آنے والے قافلوں کا استقبال بھی فرما رہے ہیں ۔ جب میں نے اجتماع گاہ میں اسلامی بھائیوں کے مدنی قافلے دیکھے تو حیرت کے مارے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ، اسی دوران میری آنکھ کھل گئی۔ صبح اٹھتے ہی میں نے اپنے علاقے کے اسلامی بھائیوں سے ملاقات کی اور خواب میں نظر آنے والے نورانی چہرے والے بزرگ کاحلیہ بیان کیا تو اس پر وہ کہنے لگے کہ یہ تو امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتھے ۔ چنانچہ میں اسی کو اشارہ سمجھتے ہوئے اجتماع میں شریک ہوا اور اجتماع کے اختتام پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دامن سے وابستہ ہو کر غوث پاک کا مرید بن گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(11)اُٹھو!عمامہ شریف باندھو

        کشمیر کے علاقے ’’کوٹلی‘‘ میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے :  میں امیرِ اہلسنّت سے مرید ہونے کے باوجود پوری طرح مدنی ماحول سے وابستہ نہ تھا۔ میری زندگی میں سنّتوں کی بہار اس طرح آئی کہ مجھے میرپور ( کشمیر) میں دعوتِ اسلامی کے تحت رَمَضان المبارک میں ہونے والے تربیتی اعتکاف میں معتکف ہونے کی سعادت حاصل ہوگئی۔ دورانِ اِعتکاف مبلغِ دعوتِ اسلامی انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے عمامہ شریف باندھنے کی ترغیب دلاتے رہے لیکن میں مسلسل حیلے بہانے کرتا رہا۔ دورانِ اعتکاف ہی ایک رات جب میں سویا تو میری قسمت چمک اٹھی میرے خواب میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنا نورانی چہرہ چمکاتے تشریف لے آئے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے خواب میں حکم فرمایا : ’’اٹھو! عمامہ شریف باندھو۔‘‘ جب میں بیدار ہوا تو اسی انفرادی کوشش کرنے والے مبلغِ دعوتِ اسلامی سے عرض کی :  ’’پیارے بھائی! ہاتھوں ہاتھ مجھے عمامہ شریف باندھ دیجئے کہ آج خواب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے عمامہ شریف سجانے کاحکم ارشاد فرما دیا ہے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(12)خواب میں آکردم فرمادیا

        ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی آمد آمد تھی۔ اسلامی بھائی اجتماع کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ ہم بھی اپنے علاقے کے اسلامی بھائیوں کو انفرادی کوشش کے ذریعے اجتماع کی ترغیب دلا رہے تھے اجتماع میں جانے کے لئے گاڑی بھی کروائی جا چکی تھی۔  اجتماع سے قبل ہی  ایک روز اچانک میرے سر میں شدید درد اٹھا، ساتھ ہی ساتھ آنکھوں میں ہونے والے درد نے اس تکلیف میں اضافہ کر دیا۔ درد اس قدر شدّت اختیار کر گیا کہ میں اجتماع میں شرکت نہ کرسکا۔ اجتماع میں شرکت سے محرومی کے سبب میں بہت غمگین ہو گیا جس کی وجہ سے طبیعت مزید خراب ہو گئی۔ ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اس نے کہا کہ آپ کا تو شوگر ہائی (High) ہو چکا ہے اور ساتھ میں ہیپاٹائٹس Cکا مرض بھی لاحق ہو چکا ہے، اس نے کچھ دوائیاں دے کر دوبارہ آنے کو کہا مگر مرض نے اس قدر شدت پکڑی کہ مجھے مرکز الاولیاء لاہور سے گوجرانوالہ منتقل کر دیا گیا، میرے جسم نے حرکت کرنا چھوڑ دی گویا کہ میں موت کے منہ میں پہنچ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ابھی تو دین کا بہت کام کرنا ہے، والدۂ محترمہ کوحج بھی کرواناہے، اسی سوچ و بچار میں میری

 آنکھ لگ گئی۔ خوابوں کی دنیا کا سفر شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنورانی چہرہ چمکاتے میرے خواب میں تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا :  ’’ وضو کر کے نماز ادا کرلو۔‘‘ میں نے خواب ہی میں نماز ادا کی تو شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے کچھ پڑھ کر مجھے دم فرما دیا۔ جب میں بیدار ہوا تو میری حالت کافی بہتر ہو چکی تھی۔ جب مُعالج (ڈاکٹر) نے دوپہر کو شوگر چیک کیا تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  خواب میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت اور دَم فرمانے کی برکت سے نارمل ہو چکا تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے صدقے مجھے اس مرض سے شفا عطا فرماکر نئی زندگی عطا فرما دی۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

 



Total Pages: 81

Go To