Book Name:Rasail e Madani Bahar

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)طویل راستہ ، رہبرامیرِاہلسنّت

        جہلم (پنجاب، پاکستان) میں مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے :  اَلْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ تھا اور پندرہویں صدی ہجری کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت بھی تھا میں نے کئی بار اپنے والد صاحب کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ کرنے کے لئے ان پر انفرادی کوشش کی مگر بے سُود، ایک رات سویا تو خواب دیکھا کہ میں اور میرے والد صاحب ایک نامعلوم سنسان راستے پر پیدل سفر کر رہے ہیں ، راستہ نہایت کٹھن اور دشوار گزار تھا، تاحدِ نگاہ پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا تھا چلتے چلتے شام کے بادل گھِر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرے نے چار سو اپنا ڈیرہ جما لیا، جس تاریکی میں ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہ دے اس میں بھلا ہم زیادہ دیر تک صحیح راستے کا انتخاب کیسے کر سکتے تھے بالآخر وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھااور وہ یہ کہ تھوڑی دیر بعد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ  ہم راستہ بھٹک چکے ہیں ابھی اسی مصیبت میں گرفتار تھے کہ اچانک لگنے والی ٹھوکر کی وجہ سے والد صاحب ایک  کھائی میں جاگر ے۔ میں اس پریشانی کے عالم میں اس امید پر اپنے آپ کو دلاسے دینے لگا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے میرے مرشد کے طفیل ہم پر کرم ہو گا اور ہمیں اس مصیبت سے نجات ملے گی۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ مجھے اپنے عقب میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، مڑ کر دیکھا تو امید کی مُرجھائی ہوئی کلیاں کھِل اُٹھیں ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنورانی چہرہ چمکاتے میرے سامنے موجود تھے، آپ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا : ’’بیٹا! گھبراؤ نہیں آپ کے والد صاحب کو کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ بس آپ کے فرمانے کی دیر تھی کہ والد صاحب بخیر و عافیت کھائی سے نکل آئے اور آتے ہی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا شکریہ ادا کیا، اس پر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے انہیں تسلی دی اور تشریف لے گئے۔ جب میں نے یہ خواب والد صاحب کو بتایاتو ان کے دل میں دعوتِ اسلامی اور امیرِاہلسنّت کی محبت گھر کر گئی ، رفتہ رفتہ ان میں تبدیلی رونما ہونے لگی اورکچھ ہی دنوں میں اَلْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  وہ مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)مدنی ماحول کیسے میسرآیا؟

        ٹنڈوجام (باب الاسلام، سندھ) میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کالب لباب پیشِ خدمت ہے :  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک مبلغ اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی معرکۃُ الآراء تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ پڑھنے کے لئے دی۔ ایک رات اس کتاب کے ابتدائی چند صفحات کامطالعہ کرتے کرتے میں نیندکی آغوش میں چلا گیا اور خوابوں کی دنیاکی سیر کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ایک نورانی چہرے والے باریش بزرگ موجود ہیں ۔ پہلی ہی نظر میں میرا دل گواہی دینے لگا کہ ہونہ ہویہ وہی ہستی ہیں جن کی تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ کے چند صفحات کا میں نے مطالعہ کیا ہے۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے خواب میں ہی میری جانب کئی مرتبہ اس طرح دیکھا کہ جیسے مدنی ماحول کی دعوت دے رہے ہوں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نگاہِ پراثرنے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا کر دیا۔ صبح اٹھتے ہی نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر فرائض و واجبات بجا لانے کامصمم ارادہ کیا اورآہستہ آہستہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہو اوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9)مدنی قافلے کی برکت

        صوابی (صوبہ خیبر پختونخوا) کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ پیشِ خدمت ہے :  قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں غفلت بھری زندگی گزار رہا تھا۔ فکرِآخرت نہ خوفِ خدا، نمازوں کی پابندی نہ حقوق العباد کا خیال حتیٰ کہ سارا وقت کھیل کود میں برباد کر دیتا۔ میری خوش بختی کہ ایک مرتبہ ہمارے علاقے کی جامع مسجد میں دعوتِ اسلامی کے علمِ دین سیکھنے کے لئے راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کا ایک مدنی قافلہ تشریف لایا۔ مجھے ان عاشقانِ رسول کی صحبت میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا جس کی برکت سے مجھے زندگی کا اصل مقصد معلوم ہوا کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے فقط ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے مجھے ان کی باتیں اچھی لگنے لگیں جب انہوں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا تعارف کروایا تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اس ولیٔ کامل کا مرید ہو جاؤں چنانچہ میں خط کے ذریعہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت تو ہو گیا مگر آپ کی زیارت سے محروم تھا۔ ایک روز جب میں نمازِ عشاء ادا کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنورانی چہرہ چمکاتے تشریف فرما ہیں اور اسلامی بھائی دیوانہ وار ملاقات کے لیے آپ کی   

جانب بڑھ رہے ہیں ۔ ایسامحسوس ہو رہا تھا کہ آپ کوئی چیز تقسیم فرما رہے ہیں ، میں بھی آپ کے دستِ مبارک سے وہ چیز لینے کے لیے آگے بڑھااور عرض گزار ہوا حضور! میں بہت دور سے آیا ہوں ، آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ارشاد فرمایا ’’جو میں کہتا جاؤں آپ دہراتے جائیے۔‘‘ چنانچہ آپ نے مرید کروانے والے الفاظ کہنا شروع کئے اور میں دہراتا چلاگیا میں خواب میں جونہی مرید ہوا اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

 



Total Pages: 81

Go To