Book Name:Rasail e Madani Bahar

        اوکاڑہ (پنجاب، پاکستان) میں رہائش پذیر اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے :  میری دادی جان کافی عرصہ سے ہیپاٹائٹس کے مہلک مرض میں مبتلا تھیں ۔ جہاں تک ہو سکا ہم نے ڈاکٹروں سے علاج کروایا، خاطر خواہ فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے حکیموں کا رخ کیا لیکن ’’ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوسکی۔ بڑھتے بڑھتے مرض اس حد تک پہنچ گیا کہ ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دے دیا۔ ڈاکٹروں ، حکیموں کی طرف سے جب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ہمت ٹوٹ چکی تھی قریب تھا کہ ہم مکمل طور پر مایوس ہو جاتے مگر بعض احباب کے توجہ دلانے سے دعائیں کروانے اور اورادو وظائف پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک رات میرے بڑے بھائی (جو کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دامن سے وابستہ ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ میں مرید ہیں ) سوئے توان کی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی اور انہیں خواب میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت نصیب ہو گئی۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے خواب میں بھائی جان سے کچھ یوں ارشاد فرمایا :  ’’بیٹا! پریشان نہ ہوں اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  آپ کی دادی جان کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی‘‘ مزید فرمایا کہ کل ان کاچیک اپ کروا لینا۔‘‘ یہ کہنے کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لے گئے۔ بھائی جان صبح بیدار ہوئے تو گھر والوں کو رات کا خواب سنایا اور ہاتھوں ہاتھ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے دادی جان کا نئے سرے سے چیک اپ کروانے کی ترکیب بنائی گئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  رپورٹ میں مرض کا نام و نشان نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہانہ رہی کہ جس مرض کے علاج پر طویل عرصے سے اتنا پیسہ خرچ کیا لیکن خلاصی ہونے کے بجائے ہر طرف سے مایوسی ہی مایوسی کاسامنا کرناپڑا تھا وہی مرض اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل وکرم اور اسی کی عطاسے ایک ولئی کامل کی نظرِعنایت سے ایک ہی رات میں کافور ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میری دادی جان تادمِ تحریربالکل صحت یاب ہو چکی  ہیں گویا کہ وہ بیمارتھی ہی نہیں ۔

نگاہِ ولی میں وہ تاثیردیکھی         بدلتی ہزاروں کی تقدیردیکھی

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)مدنی ماحول سے وابستہ ہو جاؤ!

        بابُ المدینہ (کراچی) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  میرے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کا سبب کچھ یوں بنا کہ میرے استادِ محترم نے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے متعارف کروایا۔ پھر وہ وقتاًفوقتاً  انفرادی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مرید ہو گیا۔ مجھ پرکرم بالائے کرم اس طرح ہوا کہ  میں سنّتوں کی خدمت کرتے کرتے مدنی ماحول میں بڑی ذمہ داری پر فائز ہو گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد کچھ وجوہات کی بنا پر میرے استاد صاحب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایک دن اچانک استاد صاحب میرے گھر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ کل رات خواب میں مجھے پیرومرشد امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت ہوئی تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے مجھ سے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ :  ’’ اب دوبارہ مدنی ماحول سے وابستہ ہو جاؤ!۔‘‘   

 استاد صاحب نے مزید فرمایا کہ خواب دیکھنے کے بعد اس بات کا احساس ہوا ہے کہ مجھے مَدَنی ماحول سے دور نہیں ہونا چاہئے تھا ، آپ چونکہ تنظیمی طور پر ذمہ دار ہیں تو امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے کسی طرح میری ملاقات کی ترکیب بنا دیں ۔ ان کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے جب میں انہیں  لے کر امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہانہیں دیکھ کر مسکرا دیے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کے بعد میرے استادِ محترم دوبارہ مبلغِ دعوتِ اسلامی بن گئے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)مَدَنی قافلے میں سفرکرلو

        نواب شاہ (باب الاسلام سندھ، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ پیش خدمت ہے :  میری زندگی گناہوں میں بسر ہو رہی تھی حصولِ دُنیا کے سوا میرا کوئی مقصدنہ تھا ۔اتفاقاً ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۰۷ ھ بمطابق جولائی 1987 ء میں میری ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ملاقات ہوگئی جن کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں ان کے ساتھ کچھ وقت کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ نواب شاہ میں آ گیا وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے مجھے تخلیقِ انسانی کا مقصد بتایا کہ اللّٰہ  تَعَالٰی نے ہمیں بے کار نہیں بلکہ اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے ان کے سمجھانے سے مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی زندگی کو غفلت میں گزار رہا ہوں اور اب تک آخرت کے لئے بھی کوئی تیاری نہیں کی چنانچہ میں نے30 دن کے مدنی قافلے میں سفر کی نیت کی اور گھر آ گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد شیطان نے میرے دل میں طرح طرح کے وساوس ڈالنا شروع کر دیئے حتی کہ میں اپنے ارادے میں ڈگمگانے لگا اور میری نیت متزلزل ہو گئی۔ ایک دن میں سویا تو خواب میں مجھے سفید لباس زیبِ تن کیے، سبز سبز عمامہ سجائے ایک نورانی چہرے والے بزرگ کی زیارت نصیب ہوئی (جنہیں میں نہ جانتا تھا) مجھے فرما رہے ہیں :  ’’بیٹا ! قافلے میں سفر کر لو‘‘ خواب میں اس نورانی چہرے والے بزرگ کا حکم ملنے کی بَرَکت سے تمام شیطانی وَساوِس دور ہو گئے۔ چونکہ میں مدنی مرکز میں قافلے کی تاریخ دے چکا تھا اس لیے مَدَنی مرکزسے پیغام بھی آ گیا کہ آپ کا مَدَنی قافلہ روانہ ہونے والا ہے لہٰذا آپ فیضانِ مدینہ تشریف لے آئیں ۔ میرے وَساوِس تو پہلے ہی کافور ہو چکے تھے چنانچہ میں ہاتھوں ہاتھ زادِراہ لے کر مدنی قافلہ مکتب پہنچ گیا اور مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ مدنی قافلے کا سفر مکمل کرنے کے بعد مجھے علمِ دین سیکھنے کا مزید شوق ہوا اور میں نے ’’تربیتی کورس‘‘ میں داخلہ لے لیا۔ تربیتی کورس کے دوران رَمَضان المبارک کا بابرکت مہینہ تشریف لایا تو میں فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں 30دن کے اعتکاف کی بَرَکتیں لوٹنے لگا۔دورانِ اعتکاف ایک دن جب مجھے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا دیدار نصیب ہوا تو میری حیرت کی انتہانہ رہی کیونکہ یہ تو وہی نورانی چہرے والے بزرگ تھے جنھوں نے خواب میں آ کر مجھے مَدَنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلائی تھی۔ آپ کی یہ برکت وکرامت دیکھ کرمیں نے اپنے آپ کو ’’وقفِ مدینہ‘‘ کر دیا۔



Total Pages: 81

Go To