Book Name:Rasail e Madani Bahar

آیا مگر ایمبولینس کے ذریعے جونہی عمر بھائی کی میت گھر پہنچی حیرت انگیز طور پر مَطْلَع اَبر آلود ہوگیا اور ہلکی ہلکی پُھوار برسنے لگی ، اور تین دن تک مَوسِم اسی طرح ٹھنڈا رہا ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

بعدِ وفات اجتماع کی دعوت

        انہی کا بیان ہے کہ اِنتقال کے تین روز بعد محمد عمر ریاض عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری اپنے ایک دوست کے خواب میں تشریف لائے اور ازراہِ خیر خواہی نیکی کی دعوت دیتے ہوئے کہنے لگے :  ’’آپ اِس جمعرات ہفتہ وار اجتماع میں تشریف نہیں لائے؟مزید فرمایا مَیں  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہاں بَہُت خوش ہوں ۔‘‘

        چند روز بعد ایک عزیز کے خواب میں آئے تو پیالے میں پانی پی رہے تھے ، پوچھنے پر بتایا کہ ’’یہ حوضِ کوثر کا پانی ہے‘‘۔

        ایک روز بھائی جان ہماری خالہ کے خواب میں تشریف لائے تو سر سبز و شاداب باغ میں باوقار انداز میں ٹہلتے ہوئے انگور اور انواع و اقسام کے پھل توڑ توڑ کر کھا رہے تھے۔ خالہ جان کو دیکھ کر کہنے لگے :   

’’میں یہاں بَہُت خوش ہوں ‘‘۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7) نماز کے فوراً بعد انتقال

        راولپنڈی (پنجاب) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ ہمارے علاقہ کے رہائشی غلام حیدر عطاری (عمر تقریباً 72سال) دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے متأثر ہو کر 2002ء میں مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے۔ مدنی ماحول سے تو کیا وابستہ ہوئے ان کے تووارے ہی نیارے ہو گئے، یہ سنّتیں سیکھنے کاشوق اورنیکی کی دعوت دینے کاجذبہ ہی تھاکہ وہ ہرپندرہ دن کے بعد تین دن کے مدنی قافلے میں باقاعدگی سے سفر فرماتے۔ رمضان المبارک ۱۴۲۴ ھ میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اِجتماعی تربیتی اِعتکاف میں سنّتِ اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔ دورانِ اعتکاف مبلغینِ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے بیانات میں نہ صرف خود شرکت فرماتے بلکہ دوسرے معتکف اسلامی بھائیوں کو بھی شرکت کی ترغیب دلاتے۔ بائیسویں شب ہونے والے اجتماعِ ذِکرو نعت کے بعد مبلّغِ دعوتِ اسلامی (جو اس وقت پنجاب مکی کے نگران تھے) سے ملاقات کے بعد کہنے لگے : ’’ دُعا فرمائیے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے اپنے رستے میں موت عطا فرمائے‘‘۔ چُنانچِہ اگلے ہی روز یعنی 22رمضان المبارک کو عصر کی نمازسے قبل اچانک فرمانے لگے، میرے جسم کے بائیں جانب دردہورہا ہے، لیکن درد کے باوجود تربیتی حلقے میں شریک ہوگئے ۔عصر کی نماز باجماعت پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ادا کی اور کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ کا وِرد کرتے کرتے، پیچھے کی جانب آہستگی سے گر گئے۔ اسلامی بھائیوں نے جونہی آگے بڑھ کر اُٹھانا چاہا تو دیکھا کہ وہ جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکے تھے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)موت کے بعد والدہ کی بیٹے کو نصیحت

        ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ میری امی جان دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل گانے باجوں اور فلموں ڈراموں کی بَہُت شوقین تھیں ۔ میں چونکہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھا اور وقتاً فوقتاً امی جان کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں رُونُما ہونے والے ایمان افروز واقعات سناتا رہتا تھا ۔ چُنانچِہ ایک دن  امی جان نے فرمایا :  ’’میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہونا چاہتی ہوں ۔‘‘ میں نے وکیلِ عطار (وہ خوش نصیب اسلامی بھائی جنہیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے لوگوں کو اپنا مرید بنانے کی اِجازت سے نوازاہے انہیں وکیلِ عطار کہا جاتا ہے ) سے رابطہ کر کے ہاتھوں ہاتھ امی جان کو امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سرکارِ بغداد ، حضور غوثِ پاک َرضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ  کا مرید کرا دیا۔ بیعت ہوتے ہی امی جان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا ہو گیا، ایک دن مجھے بتایا کہ بیٹا میں نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر لی ہے۔ میں نے دیکھا کہ اب نماز روزے کی پابندی کرنا، گانے باجے سننے کے بجائے نعتیں پڑھنا ان کا معمول بن گیا۔ ایک روز جب نمازِفجرکے لئے بیدارہوئیں تو چہرے پرخوشی کے آثاردیکھ کر میں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا :  ’’آج رات میرے پیرو مرشد حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ میرے خواب میں تشریف لائے تھے۔‘‘ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ ہی عرصے کے بعد ان پر فالج کا اٹیک ہو گیا لیکن اس بیماری کے باوجودبھی امی جان کے معمولات میں کوئی فرق نہ آیاحتّٰی کہ نماز کے وقت فرماتیں :  ’’مجھے وُضو کرا دو‘‘ اور اشاروں سے نماز ادا فرماتیں ۔ ایسی بیماری کی حالت میں بھی تلاوتِ قرآن پاک کرنا ان کا وظیفہ تھا، علاوہ  ازیں ان کی زبان ہر وقت کَلِمَۂ طَیِّبہ اور دُرُود پاک سے تر رہتی تھی۔ کم و بیش ایک سال بعد حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کی منقبت پڑھتے ہوئے فالج کا دوسرا حملہ ہوا ، جس کے باعث امی جان کی طبیعت اور زیادہ بگڑ گئی۔ دوسرے دن عصر کے وقت اچانک بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ پڑھتے ہوئے بڑی بہن سے فرمانے لگیں : ’’ دروازہ کھول دو۔‘‘ وجہ پوچھی تو فرمایا :  ’’ میرے مہربان آقا، سرکارِمدینہ  صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم مجھے لینے کے لئے تشریف لا رہے ہیں ۔‘‘ بڑی بہن نے جونہی دروازہ کھولا تو امی جان کی روح قَفَسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔

 



Total Pages: 81

Go To