Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5) نیکی کی دعوت کا شیدائی

       وٹے پلی فاطمہ نگر( حیدرآباد دکن ، ہند) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ سَیِّد نور عطاری (عمرتقریباً 25سال)تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے اِنتہائی ماڈرن نوجوان تھے۔ نت نئے فیشن اپنانا اور دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ایک دن اچانک ان کی ملاقات سنّت کے مطابق سفید لباس میں ملبوس سبز سبز عمامہ سجائے ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہو گئی۔ مبلّغِ دعوتِ اسلامی کی پُرتاثیر انفرادی کوشش کی بَرَکت سے وہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر ’’عطاری‘‘ بن گئے۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مرید تو کیا ہوئے ان کی قسمت ہی سنور گئی، اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ فرائض و واجبات کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ سنن و مستحبات پر بھی کاربند نظرآنے لگے ۔ سارا دن سبز سبز عمامہ سر پر سجائے رہتے ۔

       جُمَادَی الْاُخْرٰی ۱۴۲۷ھ /جولائی 2006ء میں ایک بُزُرگ کے مزار پر حاضری دے کر واپس آ رہے تھے کہ گاڑی کا حادِثہ ہوگیا ، سیِّد نور عطاری شدید زخمی ہوگئے ، نہ صرف پاؤں کی ہڈی 3جگہ سے بُری طرح کُچلی جاچکی تھی بلکہ زبان بھی زخمی ہوگئی۔فی الفورانہیں قریبی ہسپتال میں داخل کرا دیاگیا، جہاں 4دن زیرِعلاج رہے، ساتھ رہنے والے اسلامی بھائیوں کابیان ہے کہ ان کی زبان پر مسلسل دُرُودِ پاک’’ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللّٰہ  وَعلٰی اٰلک وَ اَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ‘‘ جاری رہتا جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا وُضو کیلئے فرمانا شروع کر دیتے ۔ بار بار اصرار کرتے کہ’’ مجھے باہر لے چلو میں علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کروں گا‘‘۔ چوتھے روز سیِّد نور عطاری نیبلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ  لَا ٓاِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ پڑھا اور ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔

        جنازے میں ہزاروں اسلامی بھائی شریک ہوئے ، تدفین کے وقت ان کے سر پر سبزسبز عمامہ شریف سجانے کے ساتھ ساتھ چہرے پر خاکِ مدینہ مَل دی گئی اور آنکھوں پر مدینے شریف کی کھجوروں کی گٹھلیاں رکھی گئیں اور بعدِ تدفین قبر کے گرداسلامی بھائی حلقہ بناکرکافی دیر تک اجتماعِ ذکر و نعت کرتے رہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

دُ نیا سے زیا دہ وسیع اور اچھا رِزْق

        حیدرآباد دکن (ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے مرحوم کو خواب میں دیکھا کہ سَیِّد نور عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کی قبر سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہیں اور قبر حدِ نگاہ تک وسیع ہے ، مرحوم مسکراتے ہوئے فرمارہے ہیں :   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   مَیں بَہُت چین سے ہوں اور مجھے یہاں دُنیاسے زیادہ وسیع اور اچھا رِزق مل رہا ہے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)کمسِن مُبلّغ کی ایمان افروز وفات

       صوبہ پنجاب کے شہر گلزارِ طیبہ (سرگودھا) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اعلیٰ کردار اور آپ کی ذاتِ مبارکہ سے صادِرہونے والی کرامات کاتذکرہ سن کر  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مَیں شوال المکرم ۱۴۱۷ھ/  مارچ1997ء میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو گیا، نہ صرف تنہا بلکہ کچھ ہی عرصے میں تمام گھر والوں کو عطاری بنوا دیا۔ ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ میرے چھوٹے بھائی محمد عمر ریاض عطاری (عمر تقریباً 17 سال) کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا ہونا شروع ہو گیا۔ باجماعت نمازوں کا اِہتمام، ہر وقت نگاہیں جھکائے رکھنا اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں نہ صرف خود شریک ہوتے بلکہ انفرادی کوشش کر کے اپنے ہم عمر اسلامی بھائیوں کو بھی اجتماع میں لے جاتے۔ اگرکبھی کوئی انہیں انفرادی کوشش پر جھڑک دیتا تو سر جھکائے اس کی جلی کٹی باتیں سن کر صبر کرتے اورکوئی جواب نہ دیتے۔ والدین کا اَدَب و احترام اوران کی قدم بوسی کرنا خاندان بھر میں ان کی پہچان بن چکا تھا۔

            31مئی 2006 ء کو میرا میٹرک کا پرچہ تھا، مجھے کہنے لگے :  ’’مَیں بھی موٹرسائیکل پر آپ کے ساتھ جاؤں گا، آپ پیپر دیجئے گا اور میں باہر بیٹھ کر غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کا تحفہ پیش کرتا رہوں گا۔‘‘ چُنانچِہ میں نے ان کی بات مان لی۔ الغرض جب گھر سے نکلنے لگے تو عمر بھائی نے والدہ کے قدم چُومے اور والدہ سے دُعائیں لے کر روانہ ہو گئے۔ اتفاقاً مَیں اس دن موٹر سائیکل نہ چلا سکا اس لئے چھوٹے بھائی موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔ گھرسے نکلتے ہی انہوں نے بلند آواز سے دُرُودِ پاک پڑھنا شروع کر دیا، ساتھ ساتھ حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کا وِرد کرنے لگے۔ اسی دوران مجھے کہنے لگے :  ’’آپ بے فکر ہو کر پیپر دیجئے گا میں تو گیارہویں والے پیر صاحب ، غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کا نذرانہ پیش کرتا رہوں گا ‘‘اِتنا کہنے کے بعد پھر دُرُود شریف پڑھنے میں مصروف ہو گئے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، عمر بھائی نے جونہی موڑ مڑنا چاہا موٹرسائیکل قابو میں نہ رکھ سکے اور موٹر سائیکل زور دار دھماکے کے ساتھ سامنے مسافر خانے سے جا ٹکرائی ۔ عمر بھائی نے بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ  پڑھا اور ان کی گردن ایک جانب جُھک گئی ۔ مجھے گردن اور سر پر چوٹ آئی، مَیں نے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر جونہی اپنے چھوٹے بھائی محمد عمر ریاض عطاری کو اُٹھایا تو مسافر خانے سے ٹکرا جانے کی وجہ سے ان کے سر سے خون کا فوارہ اُبل پڑاجبکہ ان کی روح تو پہلے ہی پرواز کر چکی تھی ۔یہ واقعہ دوپہرکی چلچلاتی دھوپ کے وقت پیش



Total Pages: 81

Go To