Book Name:Rasail e Madani Bahar

        اللّٰہ  تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی انعامات پر عمل اور مَدَنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِینَۃُ الْعِلْمِیۃ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِ اَہلسنّت         مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

 ۳۰ شعبان المُعظَّم  ۱۴۳۰ ھ، 22اگست   2009ء 

(3) قابلِ رشک وفات

        دیپالپور (پنجاب ، پاکستان) کے ایک مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِ لُباب ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ رہا کرتے تھے، ہم نے انہیں کبھی نمازکے لئے مسجد میں آتے نہ دیکھا حتّٰی کہ رمضان شریف کے مبارک مہینے میں بھی وہ مسجد میں نظرنہ آتے ۔ بالآخران پر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل وکرم کی بارش اس طرح برسی کہ ایک روز ہمارے علاقے کے ایک مبلّغِ دعوت اسلامی سے ان کی ملاقات ہوگئی ۔اس اسلامی بھائی نے انہیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اجتماعی اعتکاف میں شرکت کی دعوت پیش کی جسے انہوں نے بڑی فراخ دِلی سے قبول کیا اور اِعتکاف میں بیٹھ گئے۔ تربیتی اعتکاف میں ہونے والے مبلغین کے سنتوں بھرے بیانات نے ان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب بَرپا کر دیا ، اب تو نماز کی پابندی کے حوالے سے ان کا جذبہ قابلِ ستائش تھا، نہ صرف فرض نمازبلکہ تہجد، اِشراق، چاشت اور اَوّابین کی بھی ذوق وشوق سے پابندی فرماتے ۔ الغرض تربیتی اعتکاف کے دوران مُیسَّر آنے والی اسلامی بھائیوں کی صحبت نے ان پر سنّتوں کے ایسے گہرے نقوش چھوڑے تھے کہ محرم الحرام کے مہینے تک نماز پنجگانہ کے علاوہ نفل نماز اور روزوں کی پابندی کرتے رہے ۔ ایک دن  اچانک گھروالوں سے ایک اسلامی بھائی کانام لے کرانہیں بُلانے کوکہا مگر گھر والے کسی وجہ سے نہ بُلا پائے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے دوبارہ دریافت کیا کہ کیا کوئی بُلانے گیا ہے؟ جب جواب نفی میں ملا توسب گھر والوں کو جمع کر کے کچھ اس طرح فرمانے لگے : ’’ ان مبلغِ دعوت اسلامی سے کہنا کہ تمہارا اسلامی بھائی دنیا سے جارہا ہے، دِل چاہتا تھا کہ اپنے محسن کی آخری بار زیارت کر لوں ‘‘ ان بُزُرگ اسلامی بھائی نے یہ کہنے کے بعد اپنے گھر والوں سے فرمایا :  ’’سب پڑھو الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللّٰہ اور خود بھی دُرُودِ پاک کا وِرد کرنے لگے ۔ابھی تھوڑی ہی دیرگزری تھی کہ فرمایا پڑھو ’’ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ ‘‘ا ور خود بھی پڑھنے لگے ، اسی طرح بآوازِ بلند کلمہ طیبہ پڑھتے پڑھتے ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)وفات سے قبل توبہ نصیب ہوگئی

       با ب المدینہ (کراچی ) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ ہمارے علاقہ کی جامع مسجدمیں کچھ مسائل کی وجہ سے فیضانِ سنّت کا درس دینے کی اجازت نہ تھی، اسی وجہ سے مسجد کے باہرعشاء کی نمازکے بعد چوک درس ہوتا تھا جس میں بَہُت سے اسلامی بھائی شرکت کرتے ، ایک دن حسبِ معمول بعدِ عشاء چوک درس کے لیے مبلّغ اسلامی بھائی تشریف لائے تو قرب و جوار میں موجود لوگوں کودرس میں شرکت کی دعوت پیش کی ، ایک اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر قریب ہی رکشا اسٹینڈ پرموجودچوکیدار راجو بھائی کو بھی درس میں شرکت کی دعوت پیش کی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ’’راجو بھائی‘‘ دعوت قبول کرتے ہوئے درسِ فیضا نِ سنّت میں شریک ہوگئے ۔درس کے بعدمبلغِ دعوتِ اسلامی نے رِقّت انگیز دُعا سے قبل شرکائے درس کو سابقہ گناہوں سے توبہ کروائی ۔ اور دورانِ دُعا حاضرین کی مغفرت کے لیے بھی دُعامانگی جس پر سب نے بآوازِبلند آمین کہا۔ دُعا کے آخرپر شرکائے درس نے بلند آوازسے دُرُودِپاک پڑھا، راجو بھائی نے دُرُودِ پاک پڑھتے ہوئے انگوٹھے چُوم کر آنکھوں سے لگائے اور بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللّٰہ پڑھا اور بے اختیار زمین پر گر پڑے۔ ایک اسلامی بھائی نے لپک کر جونہی اُٹھایا تو ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر چکی تھی۔

        درس میں شریک اسلامی بھائی ’’راجوبھائی ‘‘کی وفات پررشک کر رہے تھے کیونکہحضرتِ سیِّدُناامام فخر الدین رازی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی اپنی مایہ ناز تفسیر ’’تفسیر کبیر ‘‘میں اس آیت وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (پ۱ البقرۃ ۳۱)  (ترجَمۂ کنزالایمان : اوراللّٰہ  نے آدم کو تمام نام سکھائے )کے تحت لکھتے ہیں :  سرکارِ دوعالَم ، نورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم ایک صَحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اِس صحابی کی زندگی کی ایک ساعَت (یعنی گھنٹہ بھر زندگی) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عَصْر کا تھا ۔ رحمت ِ عالم صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سلَّم نے جب یہ بات اس صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کو بتائی تو انہوں نے مُضْطَرِب ہو کر اِلْتِجا کی :  ’’یارسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم ! مجھے ایسے عَمَل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا : علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہو جاؤ! چُنانچِہ وہ صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا اِنْتِقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ  اگر عِلْم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسُولِ مقبول صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم  اسی کا حُکْم اِرشاد فرماتے ۔ (تَفسِیرکَبِیر ج۱ ص۴۱۰ داراحیاء التراث العربی بیروت)

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

         اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سے رکشا اسٹینڈ کا چوکیدار وہاں سے اُٹھ کر علمِ دین کی مجلس میں آ گیا اور اسی بابَرَکت محفل میں سابقہ گناہوں سے تائب ہوکردُنیائے ناپائیدارسے عالَمِ جاودانی کی طرف رخصت ہو گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

 



Total Pages: 81

Go To