Book Name:Rasail e Madani Bahar

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)عاشقانِ مصطفٰی کی رفاقت

       سردارآباد (فیصل آباد، پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے :  میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ حسنِ اتفاق کہ اسی فیکٹری میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی بھی کام کرتے تھے جو وقتاًفوقتاً مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کرتے رہتے مگر میں کام کی مصروفیت کا عذر کر کے جان چھڑا لیتا ۔بالآخر ایک روز میں نے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کر ہی لی۔ ایسا پیارا اور خوبصورت ماحول دیکھ کر میں متأثر ہوئے بغیرنہ رہ سکا اور پابندی سے ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے لگا۔ ابھی صرف چار ہفتہ واراجتماع میں جانے کاشرف حاصل ہوا تھا کہ اسکی برکت سے میرے اندر سنّتوں کا جذبہ بیدار ہو گیا اور مجھے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کاتاج اور سفید لباس زیبِ تن کرنے کی سعادت حاصل ہوگئی۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت نصیب ہوگئی ۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہئے کہ سفرمیں ہوں یاحضر میں ، گھر  میں ہوں یادوکان میں ، جہاں بھی ہوں انفرادی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتے رہیں ۔کیامعلوم کہ زبان سے ادا کئے ہوئے چندالفاظ رب  تَعَالٰی کی بارگاہ میں مقبول ہوجائیں اورہماری آخرت سنورجائے۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)دل موہ لینے والا انداز

        ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  میں نیکیوں سے دور اور دنیا کی محبت میں چُور سر تاپاگناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا معاشرے کا بدترین فرد تھا۔ ایک دن جمعۃُالمبارک کی نمازکے بعدایک باریش اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے، سنتوں کے پیکراس عاشقِ رسول کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔انہوں نے آگے بڑھ کر انتہائی گرم جوشی اور خندہ پیشانی کے ساتھ معانقہ کیا اور مصافحہ کے دوران نہایت نرمی سے میرا نام اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد ہر جمعرات کو نمازِمغرب کے بعد ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔اُن کے دل موہ لینے والے انداز سے متأثر ہو کر میں نے اسی وقت نہ صرف نیت کر لی بلکہ ان اسلامی بھائی کا دل خوش کرنے کے لیے اجتماع میں بھی شریک ہو گیا۔ اس اجتماع کی برکت سے مجھے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی کی دولت نصیب ہوئی جس کی بدولت مجھے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت نصیب ہوئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں اپنے گناہوں سے توبہ کر کے نیکی کی راہ پرگامزن ہو چکا ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)حق کامُتلاشی

        وزیرآباد(ضلع گوجرانوالہ، پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے : میں عقائد کے مُتعلّق تردُّد کا شکار تھا، مذہبِ حق کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا تھا مگر مجھے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ کون سامذہب حق ہے؟ حتی کہ میں نے مساجد میں نماز پڑھنا ہی ترک کر دیا۔اب گھر پرہی نماز پڑھ لیا کرتا۔ ایک عرصے تک یہی سلسلہ جاری رہا، پھر محلہ کی مسجدکے امام صاحِب کے سمجھانے پر دوبارہ مسجد میں نماز پڑھنے لگا، ایک دن مسجد میں کچھ اسلامی بھائیوں نے مجھے قلبی سکون حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلائی تو میں نے اجتماع میں شرکت کرنا شروع کر دی۔ اجتماعات میں ہونے والی قراٰن پاک کی تلاوت، نعت، بیانات اور آخر میں ہونے والی رِقّت انگیز دعاؤں نے رفتہ رفتہ میرے دل کے زنگ کو دور اور میرے سینے کو عشقِ رسول سے معمور کر دیا۔ مجھ پر اہلِ سنت وجماعت کا حق ہونا واضح ہو گیا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار دعوتِ اسلامی کے زیرِاہتمام ہونے والے30 روزہ اجتماعی اعتکاف میں شرکت کی سعادت حاصل کی تو مجھ پر آفتابِ نیم روز سے بڑھ کر روشن ہو گیا کہ اہلِ سنّت و جماعت ہی حق پر ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اب مجھے قلبی سکون حاصل ہے۔ اب تومیں نہ صرف مسجد میں نماز پڑھتا ہوں بلکہ درسِ فیضانِ سنّت کی سعادت بھی پارہاہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9) عِصیاں کامریض عالِم بن گیا

       حافظ آباد (پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکاخلاصہ ہے :  ۱۴۱۴ ھ بمطابق1993 ء کی بات ہے کہ جب میں آٹھویں کلاس کا طالبِ علم تھا۔ ٹی وی اوروی سی آر پر فلمیں دیکھنا، گانے باجے سننا، بدنگاہی کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، بات بات پرہرکسی کو جھاڑ دینا اوردن بھرآوارہ گردی کرتے رہنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز میرے ایک کلاس فیلو نے مجھے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا کہ ’’یہ عشقِ رسول کی شمع تھامے راہِ شریعت پر گامزن ایک ایسی تحریک ہے جس سے وابستہ اکثرو بیشتر افراد سر تا پا اتباعِ سنّت کا نمونہ ہیں ۔ ہر جمعرات کو مغرب کی نمازکے بعد دعوتِ اسلامی کاہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے آپ بھی سنّتوں کی تربیت کیلئے اس اجتماع میں شرکت فرمایا کریں ۔‘‘ میں نے سوچا



Total Pages: 81

Go To