Book Name:Rasail e Madani Bahar

کھڑا ہے۔ میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ یہاں آبادی بھی تھی اس لئے کسی بچے کی موجودگی ایک عام سی بات تھی۔ میں اپنی دُھن میں آگے بڑھی اور بس میں سوار ہو گئی۔ یکایک وہی بچہ ہاتھ میں پھول لئے میرے سامنے آکھڑا ہوا اور مجھے پھول دینے لگا۔ میں فوراً چونک اٹھی خوف کے مارے میرا برا حال ہو گیا دہشت کے مارے میری زبان سے بند ہو گئی اور ڈر کے مارے میں رونے لگی۔ اسی اثناء میں میری منزل آ گئی۔ میں نے اس واقعے کو بھلانے کی بہت کوشش کی لیکن جب رات میں سونے لگی تو پھر اسی بچے کی شکل میرے سامنے آگئی۔ مجھ پرعجیب سا خوف طاری ہو گیا۔ وحشت کے مارے نیند بھی کوسوں دور بھاگ گئی۔ جیسے تیسے کر کے وہ رات تو کٹ گئی مگر اب یہ معمول ہو گیاکہ پوری رات ڈرتے ڈرتے آنکھوں ہی آنکھوں میں گزرنے لگی۔ وہ بچہ عجیب وغریب شکلیں بنا بنا کر سامنے آتا اور مجھے ڈراتا رہتا۔ بالآخر میں جس مدرسے میں پڑھتی تھی وہاں ایک اسلامی بہن کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے مجھے تسلی دی اور نماز پڑھنے کی تلقین کی۔ اسی رات میں نے خواب دیکھا کہ اس اسلامی بہن (جنہوں نے مجھے حوصلہ دیاتھا) کو اس بچے نے بے رحمی و سفاکی سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے میرے سامنے ڈال دیا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر ایسا خوف طاری ہوا کہ میں نے اس اسلامی بہن سے ملنا ہی کم کر دیا۔ بالآخر میں نے اسی اسلامی بہن کی ترغیب پر رات کو سوتے وقت شجرۂِ عطاریہ سرہانے رکھنے کا معمول بنا لیا۔ جیسے ہی میں نے یہ عمل شروع کیا اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اسی رات سے سکون کی نیند نصیب ہونے لگی (ورنہ میں تقریباً چارماہ سے چین کی نیندنہ سوسکی تھی) میرا ڈر ختم ہو گیا اور کوئی بھیانک خواب بھی نظر نہ آیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  پابندی سے شجرۂِ عطاریہ کے اوراد پڑھنے اور رات کو سوتے وقت سرہانے رکھنے کی برکت سے وہ بچہ جوکبھی عورت کی شکل میں آ کر پوری پوری رات مجھے جگاتا اور خوف میں مبتلا کر تاتھا وہ ایسا دور ہوا کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد  

(19)حافظہ مضبوط ہو گیا

        ضلع لودھراں (پنجاب ، پاکستان) کی مقیم اسلامی بہن کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ میری یادداشت بہت کمزور تھی۔ اوّل تو کوئی چیز یاد ہی نہیں ہوتی تھی اگر ہو بھی جاتی تو کچھ ہی دنوں بعد بھول جاتی۔ حافظے کی کمزوری کا یہ عالم تھا کہ گھر میں چیزیں رکھ کر بھول جاتی۔ جسکی وجہ بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ گھر والے میری اس عادت سے بے زار تھے۔ بارہا والدہ سے ڈانٹ بھی پڑتی یوں مجھے گھروالوں کے سامنے شرمندگی بھی اٹھانا پڑتی۔ جب میں نے تعویذاتِ عطاریہ کے ذریعے بیماروں کی شفایابی، پریشان حالوں کی خوشحالی، بے جا مقدمات سے خلاصی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے فرسودہ حال لوگوں کی آسودہ حالی کے ایمان افروز واقعات سنے تو مجھے بھی امید کی کرن نظر آنے لگی۔ میں نے حافظے کے لیے بستے سے تعویذات منگوائے اور بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق استعمال کرنا شروع کر دیے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ   تعویذاتِ عطاریہ کی برکت سے میرا حافظہ قوی ہو گیا۔ اب کوئی بھی چیز یاد کرتی ہوں تو فورا ً یاد ہو جاتی ہے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

       شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانی ٔدعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’مسجدیں خوشبودار رکھئے‘‘ میں اَ لْقَوْلُ البَدِیْع کے حوالے سے حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بَنِی آدم، نبیِّ مُحْتَشَمْ، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّمکا ارشادِ رحمت بنیاد ہے :  ’’جو مجھ پر میرے حق کی تعظیم کے لیے دُرُودِ پاک بھیجے، اللّٰہ  تَعَالٰی اس دُرودِ پاک سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جس کا ایک بازو مشرق میں ایک مغرب میں ، اللّٰہ  تَعَالٰی اسے حکم فرماتا ہے :  صَلِّ عَلٰی عَبْدِی! کَمَاصَلّٰی عَلٰی نَبِیِّی، یعنی : دُرُود بھیج میرے اس بندے پر جیسے اس نے دُرُود بھیجا میرے نبی صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم پر۔ وہ فرشتہ قیامت تک اس پر دُرُود پاک بھیجتا رہتا ہے۔‘‘

(القَوْلُ البَدِیْع، ص۲۵۱، مؤسسۃالریان)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

کفن کی سلامتی

       محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْباری مقیم (ہیرآباد نزد تکونی مسجد) حیدر آباد 2004ء میں پیٹ کے عارِضہ میں مبتلا ہوئے اور مرض کینسر تشخیص ہوا، حالت اِنتہائی خراب ہونے پر آغا خان ہسپتال میں آپریشن کروایاگیا ۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد تکلیف کی شِدّت مزید بڑھ گئی۔ حتّٰی کہ ’’موشن‘‘ شروع ہوگئے اور اس میں خون آنے لگا۔ گھر میں آہ وبُکا شروع ہوگئی۔

      ان کے چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ اس دوران کسی کے مشورے پراسی حالت میں بذریعہ کار بھائی کو باب المدینہ (کراچی) قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے دُعا کیلئے لے جایا گیا، وہاں ملاقات کا سلسلہ جاری تھا اور سینکڑوں اسلامی بھائی زمانے کے ولی کی زیارت و ملاقات کیلئے حاضر تھے ۔ جب محمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری کو ملاقات کی سعادت ملی اور مرض بتاکر دُعا کیلئے عرض کی تو  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے بڑی شفقت کے ساتھ انہیں سینے سے لگایا، محبت سے سر پر ہاتھ پھیرا ، تسلّی دی اور دُعا بھی کی پھر فرمایا :  ’’بیٹا گھبراؤ مت اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  شفاء عطا فرمانے والا ہے ۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  بہترہوگا۔ ‘‘یہ واپس آئے توبھائیمحمد اسلم عطاری عَلَیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری نے حلفیہ بتایا کہ رات مجھے خواب میں دو بُزُرگ نظر آئے ایک کو تو مَیں پہچان گیا وہ  



Total Pages: 81

Go To