Book Name:Rasail e Madani Bahar

       ضیاء کوٹ (سیالکوٹ، پاکستان) کی چھاؤنی کے قریب واقع گاؤں  میں مقیم ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب ہم مدینۃ الاولیاء (ملتان) میں عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔ گھر میں مدنی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے فلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے کا معمول تھا۔ بے پردہ بازاروں کی زینت بننے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتی۔ میرے والد صاحب پر انفرادی کرشش کرتے ہوئے ان کے ایک دوست نے نیکی کی دعوت دی کہ ہمارے گھر میں اسلامی بہنوں کا ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے لہٰذا آپ بھی اس اجتماع میں اپنے بچوں کی امی اور بیٹیوں کی شرکت کی ترکیب بنائیں ۔ چنانچہ والد صاحب کے فرمانے پر ہم دونوں بہنوں نے اپنی والدہ کے ساتھ اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی۔ اختتامِ اجتماع پر رقت انگیز دعا ہوئی۔ خوف خدا اور عشقِ مصطفیٰ سے لبریز دعا کا ہم پر گہرا اثر ہوا اور ہماری آنکھوں سے بھی سیل اشک رواں ہوگیا۔ دعا میں رونے کی وجہ سے میری والدہ اور بڑی بہن کی حالت بھی مجھ سے کچھ مختلف نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک ہم نے ایسی دعا نہیں سنی۔ اس کے بعد سے ہم نے اس اجتماع میں شرکت تو شروع کر دی لیکن پابندی نصیب نہ ہوئی۔ اجتماعات کی برکت سے ہم تینوں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ عطاریہ میں داخل ہوگئیں ۔ ایک روز میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی اور مجھے خواب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا دیدار نصیب ہوگیا مگر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہمیرے گناہوں کی بناء پر مجھ سے کچھ ناراض معلوم ہوتے تھے۔ میں نے ایک ذمہ دارہ اسلامی بہن سے اس خواب کا تذکرہ کیا۔ اس اسلامی بہن نے نہایت حکمت سے انفرادی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پیرو مرشد کی رضا چاہتی ہو تو گناہوں سے ناطہ توڑ کر مدنی کاموں سے رشتہ جوڑ لو کہ مدنی کام کرنے سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہخوش ہوتے ہیں ۔ چنانچہ میں اپنے سابقہ گناہوں سے تائب ہو کر مدنی کاموں میں مشغول ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد ہم اپنے آبائی شہر ضیاء کوٹ (سیالکوٹ) آگئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہاں بھی ذوق و شوق کے ساتھ مدنی کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نظرِ عنایت سے تادمِ تحریر ڈویژن سطح پر علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی ذمہ دارہ کی حیثیت سے مدنی کاموں کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16)برائیوں سے نجات مل گئی

        گجرات (پنجاب، پاکستان)  کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل مجھ سمیت گھر کے افراد فلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے کے جنون کی حد تک شوقین تھے۔ گھر کی خواتین بے پردگی کے گناہ میں بھی مبتلا تھیں ۔ ہمیں دعوتِ اسلامی کا مہکا مہکا مدنی ماحول تو کیا میسّر آیا ہمارے تو دن ہی پھر گئے رفتہ رفتہ ہمارا گھرانہ مدنی ماحول کے سانچے میں ڈھلتا چلا گیا۔ فلموں ڈراموں ، گانوں باجوں اور بے پردگی جیسے گناہوں کی نحوست سے جان چھوٹ گئی۔ گھر کے مرد اسلامی بھائیوں کے اور عورتیں اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگیں ۔ مدنی ماحول سے وابستگی کے بعد جہاں ان برائیوں سے نجات ملی وہیں فوت شدہ رشتے داروں سے بذریعہ خواب دعوتِ اسلامی کے متعلق بشارتیں بھی حاصل ہوئیں ۔ ہمیں مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ میری والدہ کو خواب میں میری نانی جان کا دیدار ہوا تو انہوں نے میری والدہ سے پوچھا کہ تمہاری بیٹیاں دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں جاتی ہیں ؟ خواب میں یہ بات سن کرمیری والدہ حیران ہوئیں کیونکہ ہم مدنی ماحول سے 2000 ء میں وابستہ ہوئے تھے اور نانی جان کا انتقال 1992 ء میں ہوا تھا جبکہ اس وقت ہم دعوتِ اسلامی کے متعلق جانتے بھی نہیں تھے۔ جب والدہ نے یہ خواب مجھے سنایا تو میں نے کہا کہ ’’امی جان ہم اجتماعات میں جو ثواب فوت شدہ رشتہ داروں کو ایصال کرتے ہیں وہ یقیناً انہیں ملتا ہے۔ ‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر مجھے باب المدینہ (کراچی ) میں 12 دن کے تربیتی کورس کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

(17)گھر میں مدنی ماحول بن گیا

        اسلام آباد (پنجاب ، پاکستان) کی ایک اسلامی بہن کا بیان ہے کہ میری چھوٹی ہمشیرہ کی شادی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک اسلامی بھائی سے ہوئی۔ ہم نے  جب اپنے گھر ان کی دعوت کی تو انہوں نے امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ ہمیں تحفتاً دیتے ہوئے اس کے مطالعہ کرنے کا بھرپور ذہن دیا۔ چنانچہ میں نے مطالعہ شروع کر دیا۔ فیضانِ سنّت کے مطالعے سے مجھے سنّتوں سے محبت ہونے لگی اور میں نے گھر میں درس کا شروع کردیا۔ میرے بچوں کے ابو نے درسِ فیضانِ سنّت کی برکت سے داڑھی شریف سجالی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھرانہ مدنی رنگ میں رنگ گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر مجھے اسلام آباد ڈویژن کی ذمہ دارہ اور میرے بچوں کے ابو کو ڈویژن مشاورت کے نگران کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے کی سعادت حاصل ہے۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کو مزید ترقیاں اور ہمیں مدنی ماحول میں استقامت نصیب فرمائے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(18)خوفناک بچّہ

        باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالب لباب ہے : کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میری عزیزہ کے ساتھ ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس کے بعد انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ وہ کہتی ہیں کہ چندماہ قبل میرا گزر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں کوڑے کرکٹ کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔ اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ وہیں ایک بچہ ہاتھ میں پھول لیے



Total Pages: 81

Go To