Book Name:Rasail e Madani Bahar

       باب المدینہ (کراچی) کے علاقے کورنگی میں مقیم ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ایک مرتبہ بعد نمازِ ظہر سرکار صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مقبولیت کے واقعات اور ایمان افروز بشارتوں پر مشتمل مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’سرکار کا پیغام عطّاؔر کے نام‘‘ کا مطالعہ کیا۔ رسالے کو پڑھ کر بڑی فرحت محسوس ہوئی۔   

 مجھے اپنی قسمت پرر شک آ رہا تھا کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے  کیسے برگُزیدہ اور ولیٔ کامل کا دامن نصیب ہوا ہے۔ بالخصوص اس رسالہ میں مدینہ شریف زَادَھا اللّٰہُ شَرَفاً وَّ تَعظِیماً حاضر ہونے والے اسلامی بھائی کے ذریعے سرکار صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے نام یہ پیغام ’’میرے عطّار اس بار مدینے کیوں نہیں آئے! انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا وہ مدینے آئیں چاہے کچھ لمحات کے لیے ہی آئیں ۔‘‘ پڑھ کر فرطِ مسرت سے آنکھیں اشکبار اور وفورِ شوق سے دل بے قرار ہوگیا کہ کاش سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ ناچیز کو بھی شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے نام کوئی پیغام عنایت کریں ۔  دوسرے دن ہفتہ کی صبح بعد نمازِفجر لیٹی تو آنکھ لگ گئی۔ظاہری آنکھیں تو کیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں کھل گئیں کیا دیکھتی ہوں کہ میں مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صاحبِہَا الصّلٰوۃ والسّلام کے باہر کھڑی ہوں اتنے میں حسین و دلکش الفاظ سے مزین یہ تحریر دکھا ئی دی ’’عطار کو ہمارا سلام کہنا‘‘ اس کے بعد آنکھ کھل گئی دل عجیب کیف و سرور محسوس کر رہا تھا۔ اسی رات جب سوئی تو خواب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو سرکارِعالی وقار، ہم غریبوں کے غمگسار، ہم بیکسوں کے مددگار، شفیعِ روزِشمار، جنابِ احمدِمختار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام سُنا کر یہ استغاثہ پیش کیا کہ اگر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو یہ پیغام مل گیا تو میرے خواب میں تشریف لا کر دل کو تسلی وتشفی سے نوازیں ۔ قسم بخدا! امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہمیرے خواب میں تشریف لائے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہمدینہ منوّرہ زادھا اللّٰہ شَرَفاً وّ تَعْظِیْماً کے اُس مقام پرایک غار میں موجود تھے کہ جہاں غزوئہ بدر ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ یہ وہ غار ہے جس میں اندھیرا تھا مگر سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس غار میں تشریف آوری نے اسے ایسا روشن کیا کہ یہ آج تک منوّر ہے۔ پھرمیں نے خواب میں ہی مدینہ طیّبہ کی مقدس گلیوں کی زیارت بھی کی۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور دل کو خوب اطمینان حاصل ہوا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)حق و اخلاص کی تلاش

        گوجر خان (ضلع راولپنڈی، پنجاب) کی مقیم ایک اسلامی بہن کا کچھ اس طرح بیان ہے :  میں ۱۴۲۲ ھ بمطابق 2002  ء میں FSC کے امتحان سے فارغ ہوئی تو میری خالہ نے مجھے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔ اس سے قبل میں متعدد مذہبی تقاریب اور محافل میں شرکت کر چکی تھی مگر قلبی سکون حاصل نہ ہوسکا اور جس حق و اخلاص کی میں متلاشی تھی وہ نہ مل سکا۔ جب مجھے پہلی بار دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تو دورانِ اجتماع مجھ پر ایک عجیب سرور طاری ہوگیا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور قلبی کیفیت عجیب تھی۔ اجتماع کے بعد مکتبۃ المدینہ کے بستے (اسٹال) سے کچھ رسائل اور سنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں خریدیں ۔ جن میں ایک کیسٹ بنام ’’نیکیاں چھپاؤ‘‘ بھی تھی۔ گھر آکر کیسٹ سننا شروع کی، بیان کے پُرتاثیر الفاظ نے میرے دل کی دنیا زیر و زبر کر دی۔ دلِ بے قرار کو قرارنصیب ہو گیا اس طرح کہ یہ نیکیوں کی طرف مائل ہو گیا۔ اب تو کیفیت ایسی تھی کہ مزید برکات سے مستفیض ہونے کے لیے پورا ہفتہ اجتماع کا انتظار کرنے لگی اور مقررہ دن وقت کی پابندی کے ساتھ اجتماع میں شریک ہوگئی۔ اجتماع کے بعد ایک ذمہ دارہ اسلامی بہن نے مجھ پر انفرادی کوشش کی، ان کی سادگی، عاجزی اور ملنساری نے میرا دل جیت لیا اور یوں میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میرے ساتھ ساتھ میری والدہ اور بہن بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئیں اور مدنی ماحول کی برکت سے ہمیں ’’مدنی برقع‘‘ پہننا بھی نصیب ہوگیا۔ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت میں ذمہ دارہ کی حیثیت سے مدنی کاموں کی سعادت حاصل کر رہی ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)کینسر کا خاتمہ

       باب المدینہ (کراچی) کے علاقے سولجر بازارکی مقیم ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے :  میں کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار تھی جس کی وجہ سے میں بس بستر کی ہو کر رہ گئی تھی۔ اتفاق سے انہی دنوں میرے بچوں کے ابو بے روزگار ہو گئے۔ لاکھ کوششں کے باوجود کوئی ذریعۂ معاش میسر نہ آیا۔ جس کی وجہ سے دن بدن ہمارے معاشی حالات بگڑتی گئی اور ہماری پریشانیوں میں دونا دوں اضافہ ہوتا گیا۔ ایک روز دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ کچھ اسلامی بہنیں ہمارے گھر آئیں اور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی برکات بیان کرتے ہوئے مجھے بھی شرکت کی دعوت دی ۔ میں نے جب اجتماع کی برکات سنیں تو فوراً ہامی بھر لی۔ ان اسلامی بہنوں کی انفرادی کوشش سے متأثر ہو کر جب سے میں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شرکت کرنا شروع کی ہے تب سے میری طبیعت میں بتدریج بہتری آنے لگی اور تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میرے مرض کا جڑ سے خاتمہ ہوچکا ہے۔     

چڑچڑے پن اور غصے کی عادت جاتی رہی اور میرے بچوں کے ابو کو بھی مناسب روزگار نصیب ہو گیا ہے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To