Book Name:Rasail e Madani Bahar

(13)بدنگاہی کی عادت سے نجات مل گئی

       باب المدینہ (کراچی) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں کی نحوست میں گرفتار تھا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے کا شوقین تھا، بدنگاہی کرنا میری عادت میں شامل تھا، نماز وں کی پابندی کا بھی ذہن نہ تھا۔ میری زندگی میں نیکیوں کی شمع اس طرح روشن ہوئی کہ حسنِ اتفاق سے ایک مرتبہ میری ملاقات سفید لباس زیبِ تن کیے  سبز سبز عمامہ سجائے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی تو انھوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت دی میں نے دعوت قبول کرتے ہوئے مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں پڑھنا شروع کردیا، جس کی برکت سے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا معمول بن گیا، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت کاشرف بھی حاصل ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میں نمازی اور مسجد میں درس دینے والا بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ ِ عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کی برکت سے توبہ تائب ہو کر اب میں فلمیں ڈرامے، گانے باجے، بدنگاہی وغیرہ گناہوں کو چھوڑ چکا ہوں اور اپنے گھر والوں پر بھی انفرادی کوشش کرتے ہوئے نمازی بنانے کی کوشش کررہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)فیشن پرستی چھوٹ گئی

       اوستہ محمد (ضلع جعفرآباد، بلوچستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں بہت فیشن پرست تھا، چہرے پہ داڑھی تھی نہ سرپرعمامہ شریف کاتاج، راہِ سنّت سے دور دنیا کی محبت میں مسرور اپنی قیمتی زندگی کو بے عملی اورجہالت کے اندھیروں کی نذر کر رہا تھا۔ میری تاریک زندگی میں روشنی کی کرن اس طرح نمودارہوئی کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ سنّتوں کے سانچے میں ڈھلے ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کے ذریعے مجھے تجوید کے ساتھ قراٰن پاک پڑھنے کا ذہن دیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت حسینی مسجد (جناح روڈ اوستہ محمد) میں بعد نمازِعشاء لگائے جانے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں نے کہا میں قراٰن پڑھا ہوا ہوں تو انھوں نے مدرسۃالمدینہ (بالغان) کی بہاریں بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں نہ صرف تجوید کے ساتھ قراٰن پاک پڑھایا جاتا ہے بلکہ بے شمار دینی مسائل بھی سکھائے جاتے ہیں ۔ میں نے مدرسۃ المدینہ (بالغان) کی بہاروں کا سن کران کی نیکی کی دعوت قبول کر لی اور مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی برکت سے میں نے تجویدکے ساتھ قراٰن پاک سیکھ لیا اور فیشن پرستی چھوڑ کر سنّتوں کا عامل بن گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(15)مجھے نمازپڑھنابھی نہ آتی تھی

       گلشن حدید (باب المدینہ کراچی) کے فیز1 میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں بری صحبتوں اور دنیاوی رونقوں میں کھو کر غفلت بھری زندگی گزار رہا تھا۔ دین سے دوری کایہ عالَم تھا کہ نہ تو وضو اور غسل کرنا آتا اور نہ ہی نماز کا درست طریقہ معلوم تھا۔ میں نیکی کی راہ پراس طرح گامزن ہوا کہ ایک روزجب میں مغرب کی نماز پڑھنے اپنے علاقے کی مسجد میں گیا تو وہاں ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی درس دے رہے تھے، ان کا اند از مجھے اچھالگا لہٰذا میں بھی سننے بیٹھ گیا۔ درس کے بعد انھوں نے شفقت بھرے انداز میں مجھ سے ملاقات کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے اُسی مسجدمیں قائم مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت دی، ان کے محبت بھرے انداز کے باعث مجھ سے انکار نہ ہو سکا، میں نے ہامی بھر لی۔ جب مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں شرکت کرنا شروع کی تو اس کی برکت سے مجھے وضو و غسل اور نماز کا طریقہ سیکھنے کو ملا نیز قراٰن پاک درست مخارج کے ساتھ پڑھنا بھی سیکھ گیا۔ جب دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی تویہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوان سنّت کے مطابق چہروں پہ داڑھی سجائے، سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے اجتماع میں شریک ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی یہ برکت وبہار دیکھ کرمیرے دل میں بھی سنّت کے مطابق زندگی گزارنے کاجذبہ بیدار ہوگیا اور میں نے بھی داڑھی سجا لی اور آہستہ آہستہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16) کرکٹ کاشوقین

        پنڈی گھیپ (ضلع اٹک، پنجاب) کے محلہ مسلم ٹاؤن وارڈ نمبر 20 کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے :  تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا۔ سارا دن کرکٹ کھیلنا اور گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر فلمیں ڈرامے دیکھنا میرا محبوب مشغلہ تھا۔ مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نماز پڑھنا تو درکنار کوئی نماز پڑھنے کا کہتا تو اس کی بات ماننے کی بجائے اُس پر برس پڑتا۔ والدین کے ساتھ بدکلامی سے پیش آتا اور بہن بھائیوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتا۔   

 ہمارے محلے کے کچھ اسلامی بھائی جودعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ تھے مجھے انفرادی کوشش کے ذریعے نماز پڑھنے اور دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں



Total Pages: 81

Go To