Book Name:Rasail e Madani Bahar

(10)رمضان میں مدرسۃ المدینہ کافیضان

       جھڈو (ضلع میرپور خاص باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی اپنی توبہ کے احوال کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا۔ میرے لیل ونہار ٹی وی اور وی سی آرکے سامنے گزرتے تھے۔ اپنی آخرت کے انجام سے اس قدر غافل تھا کہ کبھی خوفِ خداکے سبب آنکھوں میں آنسو  نہ آئے تھے۔ پھر میری زندگی نے ایک نیا رخ لیا تومیرے اعمال میں نکھار آنے لگا، ہوا کچھ اس طرح کہ :  رمضان المبارک کا رحمتوں بھرا مہینہ تشریف لایا تو میرا ایک دوست (جو ایک محکمے میں ملازم تھا) اکثر اوقات میرے پاس آیا کرتا۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ اس رمضان میں ہم نمازِ تراویح کی ادائیگی کے لیے اپنے گاؤں کے قریبی شہر کی مسجد میں جایا کریں گے۔ چنانچہ ہم روزانہ شہر کی مسجد میں نمازِ تراویح ادا کرنے کے لئے جانے لگے۔ اسی مسجد میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدرسۃُالمدینہ (بالغان) کی ترکیب بھی تھی۔ ایک روز ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی نے سلام و مصافحے کے بعد انتہائی عاجزی و اِنکساری سے دل موہ لینے والے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ بات میری سمجھ میں آئی اور میں سعادت سمجھتے ہوئے بلا چون و چرا مدرسۃُ المدینہ میں شریک ہو گیا۔ پڑھائی کے اختتام پر مدرسہ پڑھانے والے مبلّغِ دعوتِ اسلامی نے شفقت بھرے اندازمیں مجھ سے ملاقات کی اور مدنی ماحول کی برکتیں بیان کیں ، ان کی مٹھاس بھری گفتگو مجھے بہت اچھی لگی۔ میں نے روزانہ شرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اس مدرسے کی برکتوں سے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا اور میں گناہوں سے تائب ہو کر فلاحِ دارین کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)میں چرس، شراب کاعادی تھا

       اوستہ محمد (ضلع جعفرآباد، بلوچستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ مَعَاذَاللّٰہ میں چرس اور شراب کا عادی تھا۔ فلمیں دیکھنا اور گانے سننا میرا محبوب مشغلہ تھا۔ رات گئے تک ہوٹلوں میں وقت گزارنا میرا معمول بن چکا تھا، حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد ادا کرنا تو دور کی بات میں تو ان کے علم سے بھی نابلد تھا۔ یونہی غفلت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ میری خوش بختی کی صبح کچھ اس طرح طلوع ہوئی کہ ایک روز میری ملاقات ایک سبزعمامے والے مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی تو اس عاشقِ رسول نے محبت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کا تعارف کرواتے ہوئے اس میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کی اور مدرسۃُالمدینہ پہنچ گیا۔ وہاں پیارا پیارامدنی ماحول دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا میں روزانہ سعادتیں حاصل کرنے کے لیے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ مدرسے کی برکت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن بنا اور اس طرح میں آہستہ آہستہ مدنی ماحول میں رنگتا چلا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  جب سے مدرسۃُ المدینہ میں جانا نصیب ہوا ہے، میری زندگی میں بہار آ گئی ہے۔ اب میں مدنی کام بڑے شوق سے کرتا ہوں ۔ میں زندگی بھر دعوتِ اسلامی کا مشکور و ممنون رہوں گا کہ جس کے مہکے مہکے مدنی ماحول نے مجھے گناہوں کی دلدل سے نکال کر سعادتوں کی معراج کو پہنچا دیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12)اِصلاح کااَنوکھاسبب

       اوستہ محمد (ضلع جعفرآباد بلوچستان) ہی کے ایک اور اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  خوش قسمتی سے میں ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوا۔ میرے نانا جان اور ماموں جان امامت کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے اسی وجہ سے میں بھی کبھی کبھار نماز پڑھ لیا کرتا، لیکن پابندی نہیں ہو پاتی تھی۔ کالج سے واپسی کے بعد میں اپنے والد صاحب کے ساتھ دوکان پر فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں اپنے شہر میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ میں کام کے سلسلے میں گیا۔ مجھے وہاں مسجد کی کھڑکیاں لگانا تھیں ۔ کام کرتے کرتے دیرہوگئی۔ میں نے مدنی مرکز میں نمازِ عشاء ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے دیکھا کہ سر پر سبز سبز عمامہ سجائے، سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی نے کچھ بڑی عمر کے اسلامی بھائیوں کو پڑھانا شروع کیا۔ ان کا پڑھانے کا انداز متأثر کُن تھا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مدرسۃ المدینہ (بالغان) بھی شامل ہے۔ ان مدارس میں بڑی عمر کے اسلامی بھائیوں کو تجویدو قرأت کے مطابق قراٰنِ مجید کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نماز روزہ کے مسائل اور سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتیں بھی سکھائی جاتی ہیں ۔ چنانچہ میں نے بھی مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں داخلہ لے لیا اور باقاعدگی سے شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُ المدینہ کی برکت سے میں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔ یوں میں مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا اور نمازروزے کی پابندی شروع کر دی۔ کچھ عرصہ بعد ہر طرف دعوتِ اسلامی کے مدینۃ الاولیاء (ملتان) میں ہونے والے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ میں نے بھی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اسی اجتماع میں شیخِ طریقت،   

 امیرِ اہلسنّت، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے غوثُ الاعظم حضرت شیخ ابومحمد عبدالقادر جیلانی قُدِّس سِرُّہُ النُّوْرَانی کی غلامی کاپٹہ گلے میں ڈال کر قادری عطاری بن گیا۔ اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  ہر ماہ تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کر کے خوب خوب سنّتیں سیکھ کر سکھاتا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To