Book Name:Rasail e Madani Bahar

اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا معمول بن گیا، آہستہ آہستہ میں مشکبار مدنی ماحول کے قریب ہوتا گیا، یہاں تک کہ میں نے بھی داڑھی اور عمامہ شریف اپنا لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اب میں سنّتوں بھری زندگی بسر کر رہا ہوں ، یہ سب مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کافیضان ہے کہ مجھے گناہوں بھری زندگی سے نجات مل گئی۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)میں فلم بینی کاعادی تھا

       میانوالی (پنجاب، پاکستان) کے میانہ محلہ کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  میں فلم بینی کا عادی تھا، پورا پورا دن ٹی وی دیکھنے میں صرف ہو جاتا۔ شام ہوتی تو فکرِآخرت سے غافل دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر فلموں کی داستانیں سننے سنانے میں مشغول ہو جاتا۔ میری خزاں رسیدہ زندگی میں بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک دن میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی تو انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے شفقت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی، جو میانوالی شہر کی مشہور شاہی مسجد میں قائم تھا۔   

 میں نے ان کی دعوت قبول کر لی اور مدرسۃُ المدینہ(بالغان) میں پہنچ گیا۔ وہاں قراٰن وسنّت کے فیضان سے مہکی مہکی فضاؤں نے میرا دل و دماغ معطر کر دیا، میں بہت متأثر ہوا، اب تو مدرسے جانے کا معمول بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کی برکت سے نہ صرف قراٰنِ مجید درست پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ میری زندگی میں مدنی انقلاب بھی برپا ہو گیا اور میں مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر میں ڈویژن مشاورت کے رکن کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)محبت بھرا انداز

        میانوالی (پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے :  تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں گناہوں بھری زندگی بسر کر رہا تھا۔ شب و روز فلمیں دیکھتا اور کھیل کود میں مگن رہتا، یوں زندگی کے نادِر لمحات فضولیات ولَغوِیات کی نذر ہو رہے تھے اور مجھے اپنے اس نقصان کا ذرا بھی احساس نہ تھا۔ میری نیکیوں سے خالی زندگی میں سنّتوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک روز دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی ہمارے گھر تشریف لائے، انہوں نے بڑے بھائی کے متعلق پوچھا، میں نے کہا وہ تو گھر پر نہیں ہیں ۔ انھوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہمدردانہ انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ اُن کاجذبۂ ملنساری اور ترغیب کا دلنشیں انداز میرے دل میں گھر کر گیا اور میں مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شریک ہو گیا۔ وہاں کے روحانی ماحول نے میرے دل کی کایا پلٹ دی  جس کی برکت سے مجھے نیکیوں کی توفیق ملی اور دل میں گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوا۔ جب سے مہکے مہکے مدنی ماحول کی فضائیں میسر آئی ہیں مجھے تو نیکیوں کا سرور مل گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لئے کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ہمیں خلوصِ نیت کے ساتھ دین کاکام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9)میں ایک بدمعاش تھا

       جھڈو (ضلع میرپور خاص باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے : میں ایک بدمعاش تھا، لوگوں پر ظلم کرنا میری عادت میں شامل تھا۔ اپنے مضبوط اور طاقتور جسم پر مغرور تھا۔ کسی کو خاطر میں نہ لاتاتھا۔ گلے کے بٹن کھول کر اکڑ کر چلنا، بدنگاہی کرنا، کسی کو مُکا تو کسی کو لات مارنا، کسی کو گالیاں دینا، تو کسی کا مذاق اُڑانا میرا معمول تھا۔ بدقسمتی سے مجھے اپنے ہی جیسے برے دوست میسر تھے جوان غلط کاموں پر مجھے سمجھانے کے بجائے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کابھی شائق تھا۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس تک نہ تھا۔ یونہی زندگی کے ’’انمول ہیرے ‘‘ ’’غفلت ‘‘ کی نذر ہو رہے تھے۔ میری سعادتوں کی معراج کا سفر اس طرح شروع ہوا کہ ایک روز میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی سے ہوئی، جنہوں نے محبت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ ان کے ’’میٹھے بول ‘‘ میرے کانوں میں دیر تک رس گھولتے رہے چنانچہ میں نے ہامی بھر لی،  مگر دل میں پیدا ہونے والے مختلف وسوسوں کی وجہ سے نہ جا سکا۔ وہ اسلامی بھائی مجھے مسلسل مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن میں نے شرکت کی سعادت حاصل کر ہی لی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُالمدینہ (بالغان) کے معطر معطر ماحول کی برکت سے مجھے گناہوں بھری زندگی سے نجات مل گئی۔ میں نے توبہ کرلی اور نیکیوں کا عامل بن گیا، سنّت کے مطابق چہرہ پرداڑھی سجائی اورمدنی لباس زیب تن کرلیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِ عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کرنے میں کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To