Book Name:Rasail e Madani Bahar

نگران کی ذِمّے داری اورتین بار بنگلہ دیش میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافِلوں میں سفرسے مُشرَّف ہو چکا ہوں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استِقامت عنایت فرمائے، اِخلاص کے ساتھ مَدَنی کام کرنے کی سعادت اور ایمان وعافیت کے ساتھ مدینے کی گلی میں شہادت نصیب   کرے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

سیکھنے سنّتیں ، مسجد آؤ چلیں                لائے ہیں قافِلہ عاشِقانِ رسول

یاد رکھنا سبھی  چھوڑنا  مت کبھی               دامنِ مصطَفٰے عاشِقانِ رسول

کاش! دنیا میں تم دو بَفَضلِ خدا

                     دیں کا ڈنکا بجا عاشِقانِ رسول    (وسائلِ بخشش ص ۴۸۹)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (3)جامعۃالمدینہ میں داخلہ لے لیا

        گلی کھتیر(مظفرآباد، کشمیر)کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے : اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   میں نے بچپن میں ہی قراٰن مجیدحِفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی لیکن حافِظِ قراٰن ہونے کے باوجود میرا اٹھنا بیٹھنا برے دوستوں کے ساتھ تھا۔خوش قسمتی سے میری ملاقات ایک ایسے اسلامی بھائی سے ہوئی جوکہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ، جب انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتماع کی دعوت دی توان کے لہجے کی مِٹھاس میرے دل پر اثرکرگئی اور میں اجتماع میں شریک ہوگیا۔جب میں نے اِس مَدَنی ماحول کوقریب سے دیکھا تو بے حدمتأثرہوااورمیں نے چہار سو علمِ دین کے موتی بکھیرنے والے دعوتِ اسلامی کے شعبے’’جامعۃ المدینہ‘‘ میں درسِ نِظامی (عالم کورس)کرنے کے لیے داخلہ لے لیا اور اسی دوران اَلْحَمْدُلِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں کی تربیت کے لیے مَدَنی قافلے میں 12 ماہ کا سفر بھی مکمل کر چکا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)مجھ پر خوفِ خدا غالب آگیا

        قصور (پنجاب، پاکستان)کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : مدنی ماحول میں آنے سے پہلے بدقسمتی سے برے دوستوں کی صحبت کا شکار ہونے کی وجہ سے آوارہ گردی کرنا اورفلمیں ڈرامے دیکھنامیرامحبوب مشغلہ بن چکاتھا۔ گھروالوں سے نمازکا بہانہ کر کے ہوٹل پربُرے دوستوں کے ساتھ فلمیں دیکھتا، راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتا۔ ایک روز مبلغِ دعوتِ اسلامی نے مجھ پرانفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسُنّتوں بھرے اِجتماع کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ کل جمعرات ہے میں آپ کو اجتماع پرلے جانے کے لئے آپ کے گھر حاضر ہو جاؤں گا۔ اگلے روزجب وہ مجھے لینے آئے تومیں نے اُنھیں ٹال دیامگروہ ناراض ہوئے بغیرمسکراتے ہوئے اجتماع گاہ کی طرف چلے گئے۔آئندہ جمعرات پھر ہمارے گھرآئے اوراس دفعہ انھوں نے میرے والدصاحب کوبھی اجتماع کی دعوت پیش کی ، والدصاحب نے اپنی طبیعت کی ناسازی(خرابی)کی وجہ سے معذرت کی تووہ کہنے لگے کہ’’اگرآپ نہیں جا سکتے تواپنے بیٹے کوہی بھیج دیجئے‘‘ ان کی انفرادی کوشش رنگ لائی اوروالِد صاحب نے مجھے اُن کے ساتھ اجتماع میں شرکت کرنے کاحکم ارشاد فرما دیا۔ بالآخر میں اجتماع میں شریک ہوا اور توجہ کے ساتھ بیان سننے لگا، بیان سن کر تو میرے دل کی دُنیا زیر و زبرہوگئی اور جب رِقّت انگیز دُعا ہوئی تو خوفِ خدا مجھ پر غالِب آ گیا میری آنکھوں سے ندامت کے آنسوؤں کاتانتابندھ گیا اور میں نے رو رو کر اپنے سابِقہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے مُنسلِک ہوگیا اورسر پر سبز سبز عمامے شریف کا تاج اور چہرے پرمیٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وسَلَّمکی پیاری پیاری سُنّت (داڑھی شریف) بھی سجالی۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5)گناہوں پرندامت ہونے لگی

       کال(ضلع چکوال ، پنجاب، پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکا خلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں معاشرے کابگڑا ہوا فردتھا، گانے باجوں اورفلموں ڈراموں کا رَسیاتھا، آوارہ دوستوں کے ساتھ مِل کرراہ چلتے لوگوں کو ستانا میری عادت میں شامل تھا، ان بری خصلتوں کے باعِث میں نے نہ صرف اپنے گھر والوں بلکہ اپنے محلّے والوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ آخرکار گھر والوں نے مجھے سُدھارنے کی غرض سے محلے کی مسجد میں قراٰنِ پاک کی تعلیم کے لیے بھیج دیا امام صاحب نے محنت و شفقت کے ساتھ مجھے پڑھانا شروع کیا۔ ایک دن ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی مدرسے میں تشریف لائے انہوں نے سنّتوں بھرے بیان کے دوران مدنی ماحول کی برکتیں بیان فرمائیں اور نیکی کی دعوت دیتے ہوئے انتہائی عاجزی کے ساتھ ہمیں بھی ہر جمعرات کو محلّے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سُنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دِلائی۔ چنانچہ ان کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے ہم نے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اجتماع میں مُبلّغِ دعوتِ اسلامی نے انتہائی پُرسوز انداز میں بیان کیا جسے سن کر مجھے اپنے گناہوں پر ندامت ہونے لگی خوفِ خدا کے باعث مجھ پر رِقَّت طاری ہو گئی، مجھے اپنی عمر کے یوں بداعمالی میں گزرنے کا احساس ہونے لگا ۔ میں نے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی مُعافی مانگی ، توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدنی ماحول کو اپنا لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  یہ بیان دیتے وقت میں 63دن کا تربیّتی کورس مکمل کر چکا ہوں اور اس کی برکت سے سر پر عمامہ شریف کا تاج اور چہرے پر داڑھی شریف کی پیاری پیاری سُنّت بھی سجا چکا ہوں ۔

 



Total Pages: 81

Go To