Book Name:Rasail e Madani Bahar

داخلہ لیا تو وہاں ایک اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش سے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج بھی سجالیا، عمامہ شریف سجانے پر گھر بھر میں کوئی بھی میری حوصلہ افزائی کرنے والا نہ تھا۔ ایک رات کرم ہو گیا میرے خواب میں ایک بزرگ جو سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجائے تشریف لائے، میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کون ہیں ۔ ایک اسلامی بھائی نے تعارف کروایا کہ یہ دعوتِ اسلامی کے بانی، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجا دیا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوش قسمتی سے اسی سال مدینۃُ الاولیاء (ملتان) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، جب امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسنّتوں بھرا بیان فرمانے کے لئے تشریف لائے تو میں ان کی زیارت کے لئے منچ کی جانب دوڑا، منچ پر میں نے جونہی امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العالِیہ کی زیارت کی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ تو وہی ہستی ہیں جنہوں نے خواب میں تشریف لا کر میرے سر پر سبز سبز عمامہ سجایا تھا۔ اب جاگتی آنکھوں سے ان کا دیدار کر رہا ہوں ۔ میرے دل میں پیر و مرشد کی محبت اور بڑھ گئی۔ مدنی ماحول کی برکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اس وقت ڈویژن قافلہ ذمہ دار اور شہرمشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مصروف ہوں ۔

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)گھرمیں مَدَنی اِنقلاب

       مدینہ پور (دنیاپور، ضلع لودھراں ، پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی افسوس ناک تھی، نماز روزے سے دور، فحاشی و بدنگاہی کا دلدادہ اور دینی معلومات سے نابلد تھا۔ ہمارا پورا گھرانا ہی فلموں ، ڈراموں کا بے حدشوقین تھا۔ میری تاریک زندگی میں نیکیوں کی صبح اس وقت طلوع ہوئی کہ جب ہم خانیوال شہر میں رہتے تھے ایک دن دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں تجوید و قرأت کے مطابق قراٰنِ پاک پڑھنے کا ذہن دیا جو کہ جامع مسجد گلزارِ مدینہ لوکوشیڈ میں قائم تھا۔ ان کے سمجھانے پر میں نے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں داخلہ لے لیا اور پابندی سے شرکت کرنے لگا۔ اس کی برکت سے نماز روزہ، وضوو غسل وغیرہ کے مسائل سیکھے اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے قریب تر ہوتا چلا گیا، اسی دوران امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسائل پڑھنے سے فکرِ آخرت کاذہن ملا۔ جب میں مکمل طور پر مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا تو گھر والوں پر بھی انفرادی کوشش شروع کر دی۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے کرم اور امیرِاہلسنّت کے دیے گئے گھر میں مدنی ماحول بنانے کے 15 مدنی پھولوں پر عمل کی برکت سے ان میں بھی مدنی انقلاب برپا ہو گیا گھر کے تمام افراد دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  فلموں ڈراموں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ سبھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سلسلہ ٔعالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو کر عطاری بن چکے ہیں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5)میری زندگی میں بہارآگئی

        حیدرآباد (باب الاسلام، سندھ) کے علاقے آفندی ٹاؤن میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  میں ایک فیشن پرست نوجوان تھا، دنیا کی موج مستی میں گم، اپنی آخرت کے انجام سے غافل ایامِ حیات بسر کر رہا تھا کہ میری سوئی ہوئی قسمت جاگ اُٹھی، مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کی روحانی فضائیں تو کیا میسر آئیں میری تو خوش بختی کے سفر کا آغاز ہو گیا۔ مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کی برکات نے میرے تاریک دل کو خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی کے چراغ سے منور کر دیا۔ اس میں مجھے قراٰنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ سنّتوں پر عمل کا جذبہ بھی ملااورہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں پڑھنے کی برکت سے میری زندگی میں بہار آگئی، فیشن پرستی و موج مستی سے نجات حاصل ہو گئی اور میں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر مدنی قافلہ ذمے دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)آوارہ گردی سے توبہ

        ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں بے نمازی تھا۔ گلیوں میں آوارہ گردی کرنا میرا طُرّۂ امتیاز تھا۔ دوستوں کے جھرمٹ میں وقت کی دولت کے برباد ہونے کا احساس تک نہ ہوتا۔ میری نافرمانیوں بھری زندگی میں اعمالِ صالحہ کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک روز دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں تجوید کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنے کی دعوت دی۔ میں نے سنی اَن سنی کر دی۔ وہ اسلامی بھائی گاہے گاہے دعوت دیتے رہتے۔ ایک دن دل میں خیال آیا کہ اتنی مرتبہ دعوت دی ہے میں ہر مرتبہ ٹال دیتاہوں اس مرتبہ شرکت کر ہی لیتا ہوں ۔ یہ سوچ کر میں مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شریک ہوگیا۔ مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں نہ صرف قراٰنِ مجید درست مخارج کے ساتھ پڑھنے کی تعلیم دی جا رہی تھی بلکہ نمازروزہ وغیرہ کے مسائل اور میٹھے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتیں سیکھنے سکھانے کا سلسلہ بھی تھا۔ مدرسۃُ المدینہ(بالغان) کے محبت بھرے ماحول نے مجھے متأثر کر دیا چنانچہ میں پابندی سے مدرسے جانے لگا۔ اس کی برکت سے میرا دعوتِ



Total Pages: 81

Go To