Book Name:Rasail e Madani Bahar

جوروزِجمعہ مجھ پراَسّی بار درود پاک پڑھے اس کے اَسّی سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘۔(اَلجامِعُ الصَّغِیرلِلسُّیُوطِی ص ۳۲۰ حدیث ۵۱۹۱ دارالکتب العلمیہ بیروت)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلیٰ مُحمَّد

(1)سنیما گھر کا شیدائی

       اورنگی ٹاؤن (باب المدینہ کراچی) کے محلہ شاہ و لی اللّٰہ نگر میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے :  میں گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا، مَعَاذَاللّٰہ فلموں کا اسقدر شائق تھا کہ کبھی کبھار تو دن میں دو دو مرتبہ سنیما گھر پہنچ جاتا، میرے شب وروز یونہی سنیما گھروں کے چکروں میں بسر ہو رہے تھے، میری خزاں رسیدہ زندگی میں بہارکچھ اس طرح آئی کہ رمضان المبارک ۱۴۱۱ ھ بمطابق مارچ 1991ءکی ایک سہانی صبح اپنے محلے کی مسجد میں نمازِ فجر کے بعد تلاوتِ قراٰنِ پاک میں مشغول تھا، اسی اثناء میں سر پر سبزسبز عمامے کا تاج سجائے سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے۔ سلام و مصافحے کے بعد انھوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے نہایت شفقت سے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں تجوید کے مطابق قراٰنِ پاک پڑھنے کی ترغیب دلائی جو کہ رمضان المبارک میں اُسی مسجد میں فجر کی نماز کے بعد لگتا تھا، اس عاشقِ رسول کی محبت بھری گفتگو اور اندازِملاقات سے میں بے حد متأثر ہوا۔ چنانچہ مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں قراٰن پاک پڑھنے کے لیے ہامی بھرلی اور استقامت کے ساتھ مدرسۃ المدینہ میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی برکت سے نہ صرف درست مخارج کے ساتھ قراٰنِ مجید پڑھنا سیکھ گیابلکہ کرم بالائے کرم یہ کہ دعوتِ اسلامی کے اوّلین مرکز گلزارِحبیب مسجد میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا معمول بھی بنا لیا۔ آہستہ آہستہ میں مَدَنی ماحول کے رنگ میں رنگتا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  1995ء میں مدرِّس کورس کرنے کی سعادت حاصل کرکے مدرسۃالمدینہ میں پڑھانا شروع کر دیا ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)بُرے کام چھوٹ گئے

        حیدرآباد (بابُ الاسلام، سندھ) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں دنیا کی رنگینیوں میں گم غفلت بھری زندگی گزار رہا تھا۔ مَعَاذَاللّٰہ اکثر گانے گنگناتا رہتا، بُرے دوستوں کے ساتھ رات گئے ہوٹلوں پر وقت برباد کرتا۔ گھر والے سمجھاتے کہ بُری صحبت سے بچو مگر میں ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔ میرے دوست چرس، افیون اور شراب پیتے اور مجھے بھی دعوت دیتے مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِ عَزَّوَجَلَّ  میں ان چیزوں سے بچا رہا۔ میرے خالہ زادبھائی جو کہ تبلیغِ قراٰن وسُنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے وہ مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں قراٰنِ پاک پڑھنے کی دعوت دیتے، چونکہ بچپن  

 ہی میں والدین کی مہربانی سے میں نے قراٰنِ پاک ناظرہ پڑھ لیا تھا اس لیے  انہیں ٹال دیتا مگر وہ مسلسل انفرادی کوشش کرتے رہے۔ ان کی انفرادی کوشش رنگ لائی اور میں نے ایک دن مدرسۃُالمدینہ(بالغان)میں شرکت کر ہی لی۔ جب میں نے مدرسہ پڑھانے والے اسلامی بھائی کوقراٰنِ پاک سنایا تو انہوں نے بڑے پیارو محبت سے مجھے بتایا کہ آپ کے تلفظ میں کچھ غلطیاں ہیں ، اگر آپ روزانہ آتے رہے تو اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  جلد آپ کے تلفظ درست ہو جائیں گے، ان کے سمجھانے کا دلنشیں انداز دل میں اُتر گیا اور میں پابندی سے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں قراٰنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنے کی برکت سے میں نے درست مخارج کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنا بھی سیکھ لیا، بُرے دوستوں کی صحبت اور بُرے کاموں سے بھی چھٹکارا مل گیا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی کاموں میں بھی مصروف ہو گیا۔ انہی مدنی کاموں کی برکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے دو مرتبہ عمرہ کرنے کی سعادت ملی ہے۔ تادمِ تحریر حلقہ مشاورت کا خادم (نگران) ہونے کے ساتھ ساتھ شعبہ نشرو اشاعت کے ذمے دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مشغول ہوں ۔

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3) نماز کا پابند ہو گیا

       فتح جنگ (ضلع اٹک، پنجاب) کے محلہ محمدآباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومنا اور فضول کام کرتے رہنا میرا معمول تھا۔ نمازیں قضا کرنا میری عادت بن چکی تھی۔ میٹرک کے بعد ایف ایس سی (F.S.C) کرنے کے لیے میں کامرہ کینٹ (ضلع اٹک) میں مقیم اپنے بڑے بھائی کے پاس رہنے لگا۔ ایک دن سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز عمامہ سجائے ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوئی۔ سلام و مصافحے کے بعد دورانِ گفتگو ہی انھوں نے مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ مدرسۃا لمدینہ میں درست مخارج سے نہ صرف قراٰنِ مجیدکی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ وُضو و غسل کے مسائل بھی سکھائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے ہامی بھرلی اور مدرسۃُالمدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی برکت سے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر نماز کا پابند بن گیا مگر ابھی پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفٰی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّت عمامہ شریف سجانے کا ذہن نہ بنا تھا۔ میں نے جب انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا(ضلع اٹک)میں



Total Pages: 81

Go To