Book Name:Rasail e Madani Bahar

       ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب اس طرح ہے کہ میں گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ فرض نمازوں تک سے غافل تھا۔ بس موج مستی میں مگن زندگی کے انمول لمحات برباد کر رہا تھا۔ میری سعادتوں کی معراج کا سفر کچھ اس طرح شروع ہوا کہ ایک روز میں نمازِ ظہر کے لئے مسجد میں گیا تو نماز کے بعد ایک مبلّغ نے درسِ فیضانِ سنّت دینا شروع کیا۔ میں بھی درس میں شریک ہو گیا۔ پرتاثیر درسِ فیضانِ سنّت سے میرا دل مسرور ہو گیا۔ درس کے اختتام پر ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی نے محبت بھرے اندازا میں اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں چونکہ پہلے ہی درسِ فیضانِ سنّت سے متأثر ہو چکا تھا چنانچہ مزید برکتیں سمیٹنے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو گیا۔ سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان اور رقت انگیز دعا کی برکت سے میرے دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی ۔ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور برکتیں پانے کے لئے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ تادمِ تحریر ذیلی نگران کی حیثیت سے احیائے سنّت کے لیے کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مہکے مہکے مدنی ماحول کی مزید بہاریں عطا فرمائے۔ (آمین)

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(15)سود کی لعنت

       بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے کھارادر سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار  مدنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل میں معاشی مسائل کا شکار تھا جس کی وجہ سے بے حد پریشان تھا۔ ان مسائل کے حل کے لیے مَعَاذَاللّٰہ میں سود پر قر ض لینے کے گناہِ عظیم میں مبتلا ہو گیا مگر مسائل ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے سود کا بار دن بدن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا اور اس کی ادائیگی کے اسباب دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے میری رات کا سکون اور دن کا چین و قرار رخصت ہو چکا تھا۔ ہر وقت یہی بوجھ سر پر سوار رہتا کہ اب کس طرح اس سودی لعنت سے گلو خلاصی ہو گی۔ با رہا شیطان لعین نے خود کشی کا ذہن دیا لیکن اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رحمت شاملِ حال تھی کہ میں اس مکر و فریب کے جال میں نہ پھنسا۔ ایک دن میری نظر کچھ سبز عماموں والے اسلامی بھائیوں پرپڑی۔ ان کے پرنور چہروں اور مدنی حلیوں کو دیکھا تو بہت اچھا لگا چنانچے میں سکون کی تلاش میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ہمراہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں چلا گیا۔ مغرب کی نماز باجماعت ادا کی اور اپنے مسائل کے حل کے لیے با رگاہِ الٰہی میں دعا کی۔ نما ز کے بعد ایک اسلامی بھائی نے فیضانِ سنّت سے دیکھ کر بیان شروع کیاتو میں بھی قریب جا کر بیٹھ گیا۔ تحریر کی سادگی اور اصلاحِ اُمت کے جذبے سے سرشار انداز مجھے بے حد پسند آیا۔ میں نے اب باقاعدگی سے درس سنناشروع کر دیا۔ چند دنوں بعد ایک اسلامی بھائی کی انفردی کوشش کی برکت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضری نصیب ہو گئی۔ وہاں کے روح پرور مناظر بہت اچھے لگے ہر طرف سبز عماموں کی بہاریں اور کثیر نوجوانوں کے داڑھی شریف سے پررونق چہرے دیکھ کردل باغ باغ ہو گیا۔ میں نے سابقہ گناہوں سے تائب ہو کر داڑھی اور عمامہ سجانے کا پکا ارادہ کر لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی ماحول کی برکت سے مجھے دین و دنیا کی برکتیں ملنا شروع ہو گئی۔  

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16)کالے بچھو

       راولپنڈی (پنجاب، پاکستان )کے محلہ مسلم آباد کے رہائشی اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے انقلاب کے بارے میں کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میری رہائش رحیم یار خان میں تھی۔ وہاں غوثیہ مسجد میں ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی سبز سبز عمامے کا تاج سجائے تشریف لاتے اور بعد نمازِ مغرب فیضانِ سنّت سے درس دیا کرتے۔ میں بھی درس میں شریک ہو جاتا ۔امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے تحریر کردہ الفاظ کانوں کو بہت بھلے معلوم ہوتے۔ میں نے ان سے چند روز کیلئے فیضانِ سنّت حاصل کی اور   اس کا مطالعہ کرنے لگا۔ جو ں جوں میں فیضانِ سنّت پڑھتاگیا میری سوچ و فکر بدلتی گئی۔ پہلے ہمہ وقت دل و دماغ پر غفلت طاری رہتی مگر اب فیضانِ سنّت پڑھنے کے بعد میرے سوچ و فکریکسر بدل گئی۔ میری سوچ وفکر میں تبدیلی کیسے نہ آتی کہ کتاب بھی تو اس ولیٔ کامل کی تھی کہ جن کی مخلصانہ کاوشوں کی بر کت سے آج لاکھوں لاکھ مسلمان سنّتوں کے آئینہ دار بن چکے ہیں ۔ اس کے بعد ہم راولپنڈی شفٹ ہو گئے۔ جب یہاں نماز پڑھنے کے لئے مسجد حاضر ہوا تو نماز کے بعد یہاں بھی درسِ فیضانِ سنّت کاسلسلہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ذوق و شوق سے درسِ فیضانِ سنّت میں شریک ہو کر اپنی خالی جھولی کو علم وحکمت کے انمول موتیوں سے بھرنے لگا۔ درسِ فیضانِ سنّت کے بعد اسلامی بھائی نہایت پرتپاک طریقے سے ملاقات کرتے۔ مجھے ان کے نورانی چہروں پر سجی مسکراہٹ بہت اچھی لگتی۔ میں ان کے اخلاق و کردار سے بے حد متأثر ہو چکا تھا۔ انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے مجھے بھی درس دینے کا طریقہ سکھا دیا۔ چنانچہ میں بھی درس دینے کی سعادت پانے لگا مگر بدقسمتی سے اب تک چہرے پر داڑھی شریف سجانے سے محروم تھا۔ اسلامی بھائی سمجھا تے کہ داڑھی شریف سے اپنے چہرے کو منور کر لیجئے   زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی قبر میں داڑھی شریف کا نور ساتھ لے جائیں ۔ کیا بعید اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی برکت سے ہماری مغفر ت فرما دے خوش قسمتی سے ایک دن ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کاانقلابی رسالہ بنام کالے بچھو پیش کیا۔ اسے پڑھ کر میں کانپ اٹھا مجھ پر رقت طاری ہو گئی۔ خوفِ خدا کااس قدر غلبہ ہوا کہ میں نے اسی وقت داڑھی شریف منڈوانے سے سچی توبہ کی اور اپنے چہرے کو داڑھی شریف کے نور سے پر نور، سر کو سبز سبز عمامے کے تاج سے سبز اور ہمیشہ کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں نے گناہوں بھری راہ چھوڑ دی اور نیکیوں کی جانب قدم بڑھا دیے۔ تادمِ تحریر ذیلی نگران کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

شعبہ امیرِاہلسنّت          مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

 



Total Pages: 81

Go To