Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6) اشکوں کی برسات

       خوشاب (پنجاب پاکستان) کے علاقے جوہر آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ زندگی بے مقصد ہی گزر رہی تھی۔ ایامِ حیات کے قیمتی لمحات سے سرمایۂ آخرت جمع کرنے کی بجائے گناہوں سے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کر رہا تھا۔ گناہوں سے پُرخار زندگی میں نیکیوں کے پھول کچھ اس طرح کھلنے لگے کہ خوش قسمتی سے ایک دن امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تالیف فیضانِ سنت پڑھنے کی سعادت حاصل ہو گئی تحریر کی روانی جیسے پرسکون جھیل کابہاؤ جابجا بکھرے علم وحکمت کے موتی پند ونصائح کے مہکتے پھول اسلاف کے پاکیزہ کردار کے عکاس واقعات میرے دل کو جلابخش گئے۔ خوا بیدہ جذبات بیدار ہوگئے، نیک بننے کاجذبہ ملا چنانچہ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں حاضری کی سعادت حاصل کی تلاوت قراٰن درود و سلام سبز عماموں کے تاج سجائے اسلامی بھائیوں کا ازدحام سنتوں بھرا بیان ذکراللّٰہ کی پرکیف صدائیں اور رقت انگیز دعا میں بارگاہ خداوندی میں کی جانے والی التجائیں میرے دل کی دنیاہی بدل گئیں ۔ میرا پتھر دل نرم پڑگیا آنکھوں سے اشکوں کی برسات شروع ہو گئی اک روحانی کیف و سرور حاصل ہوا اور میں دعوت ِاسلامی کا ہو کر رہ گیا۔ بری صحبت سے جان چھوٹی عمل کا جذبہ ملا اور ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کا ذہن بنا مدنی کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ تادمِ تحریر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے شہر سطح پر مدنی قافلہ ذمہ دار ہونے کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7) ہنسی مذاق کی عادت نکل گئی

       سرگودھا (پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی قراٰن وسنّت کی راہ پر آنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ 1989 ء کی ایک روحانی رات تھی جب میری زندگی میں سنتوں بھرا انقلاب آیا۔ ہوا کچھ اس طرح کہ ہمارے ایک رشتہ دار رحیم یار خان میں سرکاری ملازم تھے۔ ان کی سابقہ زندگی گناہوں سے بھرپور تھی، وہ مختلف برائیوں میں مبتلاتھے ایک رات وہ ملاقات کیلئے تشریف لائے تو دیکھ کر میں کچھ دیر سکتے میں آگیا کہ کل تک جو برائیوں کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا اب پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَسلَّم کی سنّت داڑھی شریف سے ان کاچہرہ جگمگ جگمگ کر رہاتھا۔ کل تک ہنسی مذاق جن کا محبوب ترین مشغلہ تھا مگر اب ان کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں تھے اور ان کے چہرے سے عبادت کا نور چمک رہا تھا۔ انہوں نے نہایت پرتپاک طریقے سے میری خیریت معلوم کرتے ہوئے مجھ پر شفقت فرمائی میں حیران ہو گیا کہ ان کی گفتا ر وانداز یکسر بدل چکے تھے۔ انہوں نے نہایت دلنشین انداز میں مجھے فیضانِ سنّت سے داڑھی شریف کی سنّتیں اور آداب پڑھ کر سنائے۔ نجانے الفاظ میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ جوں جوں میں فیضانِ سنّت کا درس سنتا گیا۔ الفاظوں کا سحر میرے کانو ں کے راستے سے دل میں اترتا گیا۔ میں نے ہاتھوں ہاتھ داڑھی شریف سجانے کی نیّت کرلی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس درسِ فیضانِ سنّت کی برکت سے میری پرخار زندگی میں ایسا مدنی انقلاب آیا کہ تادمِ تحریر میں مدنی ماحول کی خوب خوب برکتیں لوٹ رہا  ہوں ۔ بس اب میرا ذہن بن گیا ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8) معلومات کا خزانہ

       مدینۃ الاولیاء (ملتان شریف )میں قیام پذیر اسلامی بھائی اپنے سدھرنے کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ 1995ء میں میں fsc کا طالب علم تھا۔ مذہبی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے میری دوستی ایک بدمذہب سے ہو گئی میں اس کے ساتھ ہی اٹھتا بیٹھتا اور کھاتا پیتا ۔ کہتے ہیں کہ صحبت اثر رکھتی ہے لہٰذا میں بھی اس کے فاسد عقائد کا شکار ہونے لگا۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو درازیٔ عمر بالخیر عطا فرمائے کہ جنہوں نے دعوتِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا اور بے شمار لوگوں کو بدمذہبوں سے محفوظ فرمایا  یقیناً اگر دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول نہ ہوتا تو اس بدمذہب کی دوستی آج مجھے گمراہی میں مبتلا کر دیتی۔ مجھ پر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا کرم ہوگیا کہ اس دوست نما دشمن سے میری جان چھوٹ گئی سبب کچھ یوں بنا کہ ہماری مسجد میں فیضانِ سنّت کا درس شروع ہو گیا توایک دن میرے والد صاحب نے فرمایا ’’تم بھی درس میں شرکت کیا کرو کہ درس میں بیٹھنے کی برکت سے نہ صرف معلومات کا ڈھیروں خزانہ حاصل ہوتا ہے بلکہ علمِ دین کی مجلس میں بیٹھنے کی عظیم فضیلت پانے کی بھی سعادت ملتی ہے۔ ‘‘لہٰذا میں نے درس میں باقاعدگی سے بیٹھنا شروع کر دیا۔ واقعی درس میں بیٹھنے کی برکت سے علمِ دین کے انمول موتیوں سے دامن بھرنے کا سنہری موقع ملا اور ساتھ ہی میرے دل و دما غ کو ایسا سکون نصیب ہوا کہ میرے پاس بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ۔ درسِ فیضانِ سنّت کی برکت سے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو گیا۔ میرے لئے یہ ایک نیا ماحول تھا ہر طرف علم وعمل کے پھولوں سے مہکی مہکی فضاؤں نے مجھے بہت متأثر کیا۔ پر سوز بیان اور رقت انگیز دعا نے تو میرے دل کی دنیا ہی زیرو زبر کر دی میں نے اپنے تمام گناہوں سے پکی توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت کی بھی سعادت حاصل کر چکا ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9) خواب میں کرم ہو گیا

       ضیاء کوٹ (سیالکوٹ) میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کی نیک عملوں سے مزیّن فضاؤں میں آنے سے قبل میں پینٹ شرٹ میں کسا کسایا رہتا۔ داڑھی شریف منڈوانے کے گناہ کے ساتھ ساتھ کئی اور بدعملیوں کا بھی شکار تھا۔ غرض میرے شب روز فضولیات و لغویات ہی میں بسر ہو رہے تھے۔ میری زندگی میں گناہوں کی شام کچھ اس طرح ہوئی کہ ہمارے گاؤں میں سنّتوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار چند عاشقانِ رسول اسلامی بھائیوں نے ہفتہ وار درس شروع کر دیا۔ جس میں قراٰن پاک کے ترجمے کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان سے چند آیات کا ترجمہ و تفسیر پڑھ کر سنایا جاتا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے بھی شرکت کی سعادت میسر آئی تقریباً دو سال تک اس درس کا سلسلہ چلتارہا پھر بعض وجوہات کی بناپر درس بند ہو گیا مگر میں اس



Total Pages: 81

Go To