Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3) مدنی حُلیے کی برکت

       تحصیل جنڈ (پنجاب، پاکستان) کے علاقے کوٹ چھجی کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ بدقسمتی سے میرا اٹھنا بیٹھنا بد مذہبوں کے ساتھ تھا۔ وہ لوگ ٹولیاں بنا کر ہماری مسجد میں آتے اور اپنے مکر و فریب کے جال میں سادہ لوح مسلمانوں کو پھانسنے کی کوشش کرتے اور یوں ہم سب دوست مسلکِ حق اہلسنّت سے ناآشنائی کی بنا پر ان کے ساتھ بیٹھ جاتے مگر مقدر نے یاوری کی اس طرح کہ ایک روز میں نے اپنے گاؤں کے ایک اسلامی بھائی کو سر پر سبز سبز عمامے کا تاج، بدن پر سنّت کے مطابق سفید مدنی لباس اور چہرے پر داڑھی شریف سجائے دیکھا تو بس دیکھتاہی رہ گیا۔ ان کے حلیے میں عجیب کشش تھی بالخصوص عبادت کا نور ان کے چہرے سے نمایاں تھا۔ مسکرا کر خندہ پیشانی اور پُروقار انداز میں جب کسی سے ملاقات فرماتے تو نجانے کیوں نظریں انہیں دیکھ کر ادب سے جھک جاتیں ۔ علاقے کا ہر فرد ان سے احترام سے پیش آتا۔ وہ اسلامی بھائی ہمارے علاقے کی ’’قبرستان والی مسجد‘‘ کے نام سے معروف مسجد میں آتے اور فیضانِ سنّت سے درس دیا کرتے۔ میں بھی ان کے مدنی حلیے سے متأثر ہو کر درسِ فیضانِ سنّت میں شرکت کرنے لگا۔ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے کے عظیم الشان فضائل سن کر میرے دل میں بھی درس دینے کا شوق مچلنے لگا۔ ایک روز میں نے خود ہی ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ’’ برائے کرم مجھے بھی درس دینا سکھا دیجیے‘‘۔ میرا تو یہ کہنا تھا انہوں نے خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے مرحبا مرحبا کی صدائیں لگا کر جس طرح میری حوصلہ افزائی فرمائی میرے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ان کی انفرادی کوشش سے میں نے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر قادری عطاری ہو گیا۔ یوں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم سے کچھ ہی عرصے میں نہ صرف میں نے درسِ فیضانِ سنّت دینا سیکھ لیا بلکہ درس دینے کی سعادت بھی پانے لگا۔ مدنی ماحول کی خوب خوب برکتیں لوٹنے کی سعادت نصیب ہونے لگی۔ مدنی کاموں کا جذبہ ملا اور  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے ذمہ دار کی حیثیت سے نیکی کی دعوت عام کر رہا ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4) راہِ خدا کا مسافر

       بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے ملیر کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں دنیا کی رنگینیوں میں کھویا انجامِ آخرت سے یکسر غافل  زندگی کے شب و روز بربادیٔ آخرت کے کاموں میں گزار رہا تھا مگر مجھ پر میرے رب  عَزَّوَجَلَّ  کا فضل و کرم ہو گیا۔ ہوا یوں کہ ایک دن میں مسجد میں ہونے والے درسِ فیضانِ سنّت میں بیٹھ گیا بس پھر کیا تھا  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی  شہرۂ آفاق تالیف فیضانِ سنّتکے پرتاثیر کلمات نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کر دیا۔ اب تو میں بلاناغہ درس میں شرکت کرنے لگا جس کی برکت سے نمازوں کی پابندی کا ذہن بن گیا۔ ساتھ ہی دارین کی سعادتیں پانے کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی غلامی میں آ کر ان سے مرید بھی ہو گیا۔ اپنی بقیہ حیات صلوٰۃ و سنّت کے مطابق گزارنے کا عزمِ مصمم کرتے ہوئے سنتیں سیکھنے کے لئے راہ ِخدا کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی قافلے میں بے شمار سنتیں ، دعائیں اور دیگر شرعی مسائل سیکھنے کی عظیم سعادت میسر آئی۔ مدنی قافلے کی روح پرور ساعتوں نے فکرِ آخرت کا ایسا جذبہ دیے دیا کہ میں نے اپنا یہ ذہن بنالیا کہ بس اب دعوتِ اسلامی ہی میں اپنی زندگی گزاروں گا   اور اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا عظیم خزانہ جمع کروں گا۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5) خوش گوار تبدیلی

       حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ جوں ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو معاشرے میں پھیلی برائیوں نے مجھے آ گھیرا۔ اسکول کے زمانے سے ہی برے دوستوں کی صحبت ملی جس کی نحوست  سے میں فلموں ڈراموں کا شوقین ہو گیا۔ گانے باجوں کا تو ایسا بھوت سوار تھا کہ لبوں پر ہمہ وقت مختلف گانوں کے بول رہنے لگے۔ غفلت کی پٹی میری آنکھوں پر کچھ ایسی بندھی تھی کہ اپنے ناتواں کندھوں پر گناہوں کا بوجھ اٹھائے قبر کے پُرہول گڑھے کی جانب بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا کہ ایسے میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے میری یاوری کی اور نہ صرف مجھے میرا دنیا میں آنے کا مقصد یاد دلا دیا بلکہ گناہوں سے بچا کر نیکیوں کی راہ پر بھی گامزن کر دیا۔ سبب کچھ اس طرح بنا کہ میرا گھرانا قدرے مذہبی ذہن کا تھا اس لئے کبھی کبھی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے کا موقع مل جاتا۔ چنانچہ ایک روز مسجد میں حاضرہوا۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے ان اسلامی بھائی پر جو میری قسمت سنوارنے کیلئے بعد نماز مغرب ہاتھوں میں فیضانِ سنّت تھامے درس دینے کے لیے تشریف فرما تھے میں بھی نماز پڑھ کر درس میں شریک ہو گیا۔ ایک ولیٔ کامل کے تحریر کردہ الفاظ کانوں کے راستے قلب کی گہرائیوں میں اترتے چلے گئے۔ درس کے اختتام پر ان اسلامی بھائی نے احسن انداز میں مسکرا کر ملاقات کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پرخلوص دعوت پیش کی۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی کے اندازِ ملاقات اورمیٹھی میٹھی پراثر گفتگو نے میرے دل کی دنیاہی بدل دی میں نے گناہوں سے توبہ کی اور یہ ذہن بنا لیا کہ اب اِنْ شآء اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  جینا مرنا دعوتِ اسلامی میں ہی ہو گا۔ میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبے کے تحت مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا اور جلد ہی عشاء کی نماز کے بعد ہونے والے درسِ فیضانِ سنّت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ سب لوگ  حیران تھے کہ اچانک اسے کیا ہوگیا ہے جس کی زبان فضول باتوں اور طرح طرح کے بے ہودہ گانوں سے رکتی نہ تھی اب نیکی کی دعوت کی شیرینی اورنعتِ مصطفی کے ترانوں سے سجی رہتی ہے۔ گھر والے بھی بہت خوش ہیں اور دعوتِ اسلامی اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو دعائیں دیتے ہیں کہ جن کی بدولت ہمارا بچہ نیکی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ اب تو دل میں صرف ایک ہی بات نقش ہے کہ’’ مرشد کے فرما ن پر جان بھی قربا ن ہے۔‘‘

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

 



Total Pages: 81

Go To