Book Name:Rasail e Madani Bahar

رہے تھے، درس و دعا کے بعد جب ہم مسجد کی طرف لوٹے توایک صاحب نے مبلغ اسلامی بھائی کو آواز دی، ہم سے ملاقات کی اور کہنے لگے! آپ کا چوک درس سن کردل خوش ہو جاتا ہے۔ آپ یقین کریں مجھے عرصہ درازسے گلے میں تکلیف تھی جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا۔ ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا۔ گلے کامرض اس قدر بگڑ چکا تھا کہ میں روٹی بھی نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک روز رات سونے سے قبل میں نے نیت کی کہ میں روزانہ آپ کے درس میں شرکت کروں گا۔ سچ ہے کہ اچھی نیتوں کی اپنی ہی برکتیں ہیں ۔ صبح جب نماز کے لیے اٹھا تو میں حیران رہ گیا کہ میرے گلے کامرض جو برس ہا برس سے تکلیف کا باعث تھا دور ہوچکا تھا، مجھے اس تکلیف سے نجات مل گئی اور میں صحت مند ہوگیا۔ اب میری آپ سے التجاء ہے کہ خدارا چوک درس  جاری رکھئے گا، ہم نے اس شخص کو ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی اورعزم کیاکہ ہم اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  چوک درس کی دھومیں مچاتے رہیں گے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)میٹھالہجہ

        مدینۃالاولیاء(ملتان)کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ :  ایک روز میں دودھ لینے کے لیے دکان کی طرف جارہا تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اسلامی بھائی چوک درس دے رہے ہیں ، نجانے ایسی کونسی کشش تھی کہ میں ان کی طرف کھنچتا چلا گیا اور مجھے بھی چوک درس میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوگئی۔ چوک درس دینے والے اسلامی بھائی کا لہجہ بڑا میٹھا تھا تحریر بھی بہت دلچسپ تھی ۔ان کے الفاظ میرے دل کی بنجر زمین کو سیراب کرتے گئے، درس کے اختتام تک میرے دل میں ان کی محبت پیدا ہوچکی تھی ۔جب اسلامی بھائی نے ملاقات کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن دیا تو میں نے بلاپس وپیش ہامی بھرلی اورآنے والی جمعرات کو ہی سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگیا۔ اجتماع میں سنّتوں بھرے بیان اور رقت انگیز دعا نے دل پر گہرے نقوش چھوڑے میں نے نیت کی کہ ہفتہ وار اجتماع میں باقاعدگی سے شرکت کرونگا۔ اللّٰہ تعالی نے مجھے استقامت کی دولت سے نوازااورمیں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مشکبار مدنی ماحول کی برکت سے چہرہ پر داڑھی شریف اور سنّتوں بھری زندگی بسر کر رہا ہوں ۔ تادمِ تحریرمکتبۃ المدینہ پر خدمات سر انجام دے رہاہوں ۔

اللّٰہ    عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9)نفرت محبت میں بدل گئی

        باب المدینہ(کراچی)کے علاقے کورنگی ساڑھے3کے مقیم سید خاندان کے اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں ایک سیاسی تنظیم سے تعلق رکھتا تھا۔ کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے میرے سینے میں دعوتِ اسلامی والوں کے خلاف نفرت و عداوت بھری ہوئی تھی۔ ایک دن اچانک میرے دل میں نماز پڑھنے کا خیال آیا تو میں نے غسل کیا اور عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگیا۔شیطان نے ورغلانے کی کافی کوشش کی لیکن میں شیطان کے تمام وار ناکام بناتے ہوئے نماز پڑھنے کے لیے مسجد پہنچ گیا ۔نماز پڑھنے کے بعد جب میں نے دیکھاکہ مسجدمیں دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی درس دے رہے ہیں تو میں ان کے درس میں شریک ہوگیا۔ مجھے اُن کا درس پسند آیا۔ مسجددرس کے بعد اسلامی بھائی باہر چوک درس دینے کے لئے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا اور چوک درس میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوگئی۔درس سن کر مجھے بہت سکون ملا اور میرا دل نرم ہوگیا اور نفرت کے جذبے میں کمی محسوس کی ۔اس کے بعد مسجد اور چوک درس میں شرکت کرنا اپنا معمول بنا لیا۔ اسلامی بھائیوں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی میں اس میں بھی شرکت کرنے لگا۔ یوں دعوتِ اسلامی سے میری نفرت محبت میں بدل گئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیاا ور دین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے لگا۔

اللّٰہ     عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10)روشن مستقبل کاخواہاں

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے ولایت آباد نمبر 2 میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ یوں ہے :  میں گناہوں کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ دینی معاملے میں بالکل کورا تھا کیونکہ میں نے اپنا مقصدِ حیات صرف روشن مستقبل کا حصول بنا رکھا تھا۔ اس دنیا کی چند روزہ زندگی کو سنوارنے کے لیے مصروف عمل رہتا۔ اس کے حصول میں آنے والی ہر رکاوٹ کا مقابلہ کرتا لیکن افسوس! حقیقی مقصدِ حیات (اللّٰہ  تَعَالٰی کی عبادت) کے درمیان آنے والی رکاوٹ کی کوئی پروا نہ تھی۔ روشن مستقبل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انگلش لینگویج (انگریزی بول چال ) کورس کررہا تھا۔ لیکن خالقِ کائنات  عَزَّوَجَلَّ  کوشایدکچھ اور ہی منظور تھا۔ میری زندگی کے سیاہ پہروں میں خوش بختی کی روشن کرنیں اس وقت پھوٹیں جب ہمارے سینٹر میں تبلیغ قرآن و سنّت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی تشریف لائے اور محبت بھرے انداز میں ہمیں چوک درس میں شرکت کی دعوت پیش کی۔میں ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے درس میں شریک ہوگیا۔ درس میں بیان کیا جانے والا ایک ایک جملہ میرے دل میں اُترتا چلا گیا اور دل کی صحرا مانندخشک زمین کو سرسبز و شاداب کرتا گیا۔ درس کے بعد اسلامی بھائیوں کے ملاقات کرنے کے انداز سے مزید متاثر ہوگیا اور مجھے اپنائیت سی محسوس ہونے لگی۔ اسلامی بھائی نے مجھے کیسٹ اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی تو میں بلاپس و پیش ساتھ چل پڑا۔ وہاں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا بیان ’’ویران محل‘‘سنا۔ وہ بیان سن کر مجھے یوں لگا جیسے



Total Pages: 81

Go To