Book Name:Rasail e Madani Bahar

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(2)دُشمنِ صحابہ، محبِّ صحابہ بن گیا

        صوبہ پنجاب (پاکستان)کے رہائشی اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے انقلاب کاتذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اس نے مجھے مسلمان گھرانے میں پیدا کیا مگر افسوس! بد قسمتی میرے آڑے آئی اور عقل و خرد کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی مجھے برے دوستوں کی صحبت میسر آگئی اور یہی نہیں بلکہ میرے وہ دوست برائیوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ بدعقیدہ بھی تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے میرے ذہن میں بد عقیدگی کا زہر گھول دیا ، بے مُروّتی کی انتہایہ تھی کہ مَعَاذَ اللّٰہ ہم صحابۂ کرام عَلَیہمُ الرِّضوان کے متعلق گستاخانہ جملے بکنے اور ان کی شان میں زبانِ طعن دراز کرنے میں ذرا نہیں لجاتے تھے ، ایک مرتبہ بسلسلۂ روز گار میرا پنجاب سے باب المدینہ (کراچی) آنا ہوا تو انہی دنوں خوش قسمتی سے میرا گزر ایک ایسے راستے سے ہوا جہاں مین چوک پر سفید لباس میں ملبوس سروں پر سبز سبز عمامے سجائے کچھ اسلامی بھائی موجود تھے ، تجسّس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں ان کے قریب گیا تو دیکھا کہ ان میں سے ایک اسلامی بھائی ’’فیضانِ سنّت‘‘ نامی ضخیم کتاب تھامے درس دے رہے ہیں اور بقیہ توجہ کے ساتھ درس سننے میں مصروف ہیں ، دریں اثنا ایک اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور محبت کے ساتھ مجھ سے شرکت کی درخواست کی لہٰذا میں بھی درس سننے کھڑا ہو گیا۔ عشقِ مصطفی اور عظمتِ صحابہ سے بھرپور الفاظ میرے کانوں میں رَس گھولنے لگے، میرے دل ودماغ کو تازگی ملی اور مجھے احساس ہونے لگاکہ میں آج تک گمراہی کی زندگی بسر کرتارہا ہوں اس خیال کے آتے ہی  میری آنکھوں کی وادیوں سے آنسوؤں کے چشمے بہنے لگے، خوفِ خداکی بدولت میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی ۔اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رحمت پہ قربان کہ جس نے مجھے چوک درس کی برکت سے دُشمنانِ صحابہ کی صف سے نکال کر محبانِ صحابہ کی صف میں شامل فرمادیا۔ دل مذہب اہلسنّت کی حقانیت کی گواہی دینے لگا ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)بُری عادتیں چھوٹ گئیں

       باب المدینہ(کراچی) کے علاقے حاجی مرید گوٹھ فردوس کالونی میں مقیم اسلامی بھائی اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے احوال کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں کہ :  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں فلموں ، ڈراموں کا بے حد شوقین تھا۔ فلموں کا تو ایسا شیدائی تھا کہ جب تک دن میں کئی فلمیں نہ دیکھ لیتامجھے سکون ہی نہ آتا تھا۔ جھوٹ، غیبت ، بدنگاہی اوربدکلامی جیسی بُری عادات میری زندگی کا حصہ بن چکی تھیں ۔ دن بھر فحاشی و عریانی کے مناظر میرے دل ودماغ کواپنی گرفت میں لیے رہتے ، انہی بیہودہ خیالات نے میری خواہشات کو اس قدر ہوا دی کہ میں اپنے ہی ہاتھوں اپنی جوانی برباد کرنے لگا ۔ میری صحت برباد ہوگئی، زندگی سے نفرت ہوگئی  جسم میں ہر وقت درد رہنے لگا، جب صبح اٹھتا تو بے حد کمزوری محسوس کرتا ، دل ہر وقت بُرائی کی طرف مائل رہتا اوریہ سب میرے اپنے ہی ہاتھوں کا کیا دھرا تھا ۔ وہ تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  بھلا کرے دعوتِ اسلامی کے مبلغین کا کہ جن کے چوک درس کی برکت سے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے اس آفت سے نجات عطا فرما دی۔

        میری خوش بختی کے سفر کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ ایک روز میں والدۂ محترمہ کی دوائی لینے کے لئے میڈیکل اسٹور پر گیا، وہاں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی فیضانِ سنّت سے چوک درس دے رہے تھے اور ان کے ارد گردچند اسلامی بھائی سروں کو جھکائے نہایت توجہ سے درس سن رہے تھے ۔ایک اسلامی بھائی میرے پاس آئے اور محبت بھرے انداز میں مجھے درس میں شرکت کرنے کی دعوت پیش کی چنانچہ میں درس میں شریک ہو گیا ۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے فیضانِ سنّت سے نماز کے فضائل سنانا شروع کئے جس سے میرے دل میں نماز کے معاملے میں ہونے والی سستی کا احساس جاگ اٹھا۔ مجھے سابقہ گناہوں پر شرمندگی ہونے لگی ۔درس کے اختتام پر ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جسے میں نے بلاچون وچرا قبول کر لیا اور جمعرات کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہونے والے سنتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی جس سے مجھے روحانی سکون ملا ۔ اب میں پابندی سے اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ آہستہ آہستہ میری بُری عادات چھوٹنے لگیں ۔ میں نے توبہ کر کے فلموں ڈارموں اور دیگر برائیوں سے جان چھڑالی اور سنّتوں پر عمل کرنے لگا۔ چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ کاتاج جگمگانے لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  چوک درس کی برکت سے مجھے مدنی ماحول نصیب ہو گیا جس نے مجھے مدنی مقصدعطا کیاکہ’’مجھے اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘اس مقصدکواپناتے ہوئے ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت میں کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(4)عَیّاش نوجوان

        حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) کے علاقے محبوب ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی اپنی خزاں رسیدہ زندگی میں بہارآنے کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ :  میں ایک عیاش نوجوان تھا۔برائیوں کی دلدل میں اس قدر دھنس چکا تھا کہ شراب نوشی جیسی عادتِ بد میں گرفتار ہو گیا۔ ایک دن دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی نے شفقت بھرے اندازمیں چوک درس میں شرکت کی دعوت پیش کی، میں ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے سنّتوں بھرے درس میں شریک ہوگیا۔ درس کے پرتاثیر الفاظ نے میرے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ رفتہ رفتہ اسلامی بھائیوں



Total Pages: 81

Go To