Book Name:Rasail e Madani Bahar

تحریر کا ایک ایک لفظ میرے جگر میں تاثیر کا تیر بن کر اترتا چلا گیا۔میں چونکہ امیرِ اہلسنّت کا مرید بن چکا تھا ایک ولیٔ کامل کی نسبت کام آئی اور ان کی نگاہِ کرم سے گناہوں سے نفرت ہونے لگی۔ سدھرنے کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دیدار اور پھر ملاقات کی ترکیب بن گئی۔ دیدار امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی برکت سے میرے دل میں مزید مدنی انقلاب برپا ہوا اور میں نے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادم تحریراس وقت اپنے علاقے کی مسجد میں ذیلی حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروفِ عمل ہوں ۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(15)بدمذہبیت سے چُھٹکارا مل گیا

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے رنچھوڑ لائن میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ہمارے علاقے کے ایک اسلامی بھائی جوکہ مدنی ماحول سے وابستگی سے پہلے ماڈرن نوجوان تھے۔ نیکیوں کی طرف کوئی رحجان نہ تھا۔ ان کا پورا گھرانہ بدعملی اور بدمذہبیت کا شکار تھا۔ تبلیغ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی نے ان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا ایک رسالہ انہیں تحفے میں پیش کیا، انہوں نے اس رسالہ کو پڑھا تو امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی پر اثر تحریر ان کے دل میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہوگئی، اور ان کے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  انہوں نے پیارے مصطفی صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علیہ واٰلہٖ وَ سلَّم کی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف سجالی اور گھر والوں کی مخالفت کے باوجود دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہ بیان دیتے وقت وہ ذیلی حلقہ مشاورت میں مدنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کر رہے ہیں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16)پُرتاثیر تحریر نے رُلا دیا

        سردارآباد (فیصل آباد) کے ہجویری ٹاؤن محلہ بلال گنج میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے پاکیزہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں ایک ماڈرن، کلین شیو نوجوان تھا، فلمیں ڈرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا میرا محبوب مشغلہ تھا، پانچ وقت کی نماز تو کیا جمعہ پڑھنے سے بھی محروم رہتا۔ ایک دن کسی عزیز کے گھر جانا ہوا وہاں بیٹھے بیٹھے اچانک میری نظر الماری میں رکھی ایک اسلامی کتاب پر پڑی میں نے وہ کتاب اٹھائی اور پڑھنا شروع کردی۔ کتاب بہت اچھی تھی اس لئے میرے دل میں دینی کتب کے مطالعے کا شوق پیدا ہوا چنانچہ میں نے اپنے دوست سے مطالعے کیلئے کچھ کتابیں مانگیں اس نے مجھے قبر و آخرت کے متعلق امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے چند رسائل دئیے۔ جب میں نے ان رسائل کا مطالعہ کیا تو مجھ پر رقت طاری ہوگئی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور اس بات کا احساس ہوا کہ میں اب تک غفلت کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسی وقت میں نے سچے دل سے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی، نمازی بن گیا۔ دعوت اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں بھی حاضر ہونے لگا۔ چہرے کو داڑھی مبارک اور سر کو عمامہ شریف سے سجا لیا اور دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

شعبہ امیرِاہلسنّت  (دعوتِ اسلامی)  مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ

۱۳ربیع الغوث۱۴۳۳ ھ بمطابق 07مارچ 2012 ء

درس کی اہمیّت

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی تبلیغِ قراٰن وسُنّت کی وہ عالمگیر غیر سیاسی تحریک ہے کہ اس سے وابستہ اسلامی بھائی نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے مختلف مدنی کاموں میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ان مدنی کاموں میں سے ایک مدنی کام شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی شہرۂ آفاق تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘سے درس دینا بھی ہے درس دینے سننے کے فضائل و برکات سے کتبِ احادیث مالا مال ہیں چنانچہ فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : ’’جوشخص میری امت تک کوئی اسلامی بات پہنچائے تاکہ اس سے سنّت قائم کی جائے یا اس سے بدمذہبی دور کی جائے تووہ جنتی ہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۱۰ص ۴۵ حدیث۱۴۴۶۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)

       حضور غوث الاعظم سیدنا ابو محمد عبد القادر جیلانی قدس سرہ النورانی فرماتے ہیں : دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتّٰی صِرْتُ قُطْباً یعنی میں علمِ دین کا درس لیتارہا یہاں تک مقامِ قطبیت پر فائز ہوگیا۔ انہی فرامین پرعمل کرتے ہوئے اسلامی بہنیں گھروں میں اور اسلامی بھائی مساجد ، اسکول و کا لج ، چوکوں اور بازاروں میں روزانہ اوقاتِ مقررہ میں درس دیتے ہیں ۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہچوک درس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ذمہ داران گھڑی کا وقت مقرر کر کے روزانہ چوک درس کا اہتمام کریں مثلاََ رات 9بجے مدینہ چوک ، ساڑھے نو بجے بغدادی چوک میں وغیرہ۔ چھٹی والے دن ایک سے زیادہ مقامات پر چوک درس کا اہتمام فرمائیں (مگر حقوقِ عامہ تلف نہ ہوں مثلاً مسلمانوں کا راستہ نہ رُکے ورنہ گنہگار ہوں گے)شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز



Total Pages: 81

Go To