Book Name:Rasail e Madani Bahar

میں بھی شرکت کر چکے تھے، اُن دنوں یہ اجتماع بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد محمدیہ حنفیہ سوٹیوال ملتان روڑ میں ہوتا تھا۔ ہم پر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کرم اس طرح ہوا کہ اس مسجد کی لائبریری میں سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے کچھ رسائل مل گئے، میرے اس دوست نے بتایا کہ یہ رسائل دعوتِ اسلامی کے بانی، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے تحریرکردہ ہیں میں نے نام کی طرف تو کوئی خاص توجہ نہ دی مگر  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  وہ رسائل پڑھنے میں کامیاب ہوگیا۔ ان کو پڑھنے کی برکت سے میرے دل کی دنیاہی بدل گئی۔ ان رسائل میں سے ایک رسالہ T.Vکی تباہ کاریاں تھا اسے پڑھ کر میں نے گھر آ کر ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا۔ میرے اُس دوست نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی جسے میں نے فوراً قبول کر لیا۔ مجھے اجتماع میں سکونِ قلبی نصیب ہوا۔ اجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا مدنی ماحول کی برکت سے بدمذہبیت اور گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی۔ نگاہوں کی حفاظت کا ذہن بنا۔   

 امردوں کی دوستی سے چھٹکارا ملا۔ بدکاریوں سے منہ موڑا اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف اور سفیدمدنی لباس زیب تن کر لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یہ بیان دیتے وقت میں ڈویژن مشاورت کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کام کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(12)دیدارکاجام

        میانوالی (پنجاب، پاکستان) کے محلے طوران خیل(پی اے ایف روڈ) میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں عام نوجوانوں کی طرح ماڈرن تھا مدنی سوچ نہ ہونے کے باعث گناہوں کی بھرمار تھی، فلمیں ، ڈرامے دیکھنا معمول بن گیا تھا ، زندگی کے قیمتی ایام یوں ضائع ہورہے تھے۔ میری خوش قسمتی میں ملازمت کے سلسلے میں باب المدینہ (کراچی) آ گیا۔ مَیں جس علاقے میں رہتا تھا وہاں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی مجھ پر گاہے گاہے انفرادی کوشش کرکے نماز پڑھنے کی دعوت دیتے۔ ایک مرتبہ ایک اسلامی بھائی نے مجھے دعوت اسلامی کی برکتیں و بہاریں بیان کرتے ہوئے شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے کچھ رسائل تحفے میں دئیے، میں نے ان رسائل کو پڑھا تو میرے دل کی دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا۔ فلموں ڈراموں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی اور ہاتھوں ہاتھ نماز شروع کردی۔ دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ (پرانی سبزی منڈی باب المدینہ کراچی) میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی۔ اجتماع میں کثیر نورانی چہروں والے حسنِ اخلاق کے پیکر اسلامی بھائیوں کو دیکھ کر اور زیادہ متاثر ہوا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دیدار کا جام پیتے ہی انہی کا ہو کر رہ گیا ان کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بیعت کرلی اور مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادم تحریر ذیلی حلقہ مشاورت میں مدنی قافلہ ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کام کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)میں سوتا تو گھر والوں کو سکون ملتا

        گوجرانوالہ (پنجاب، پاکستان) کے نواحی گاؤں چیانوالی شرقی میں مقیم اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میری زندگی گناہوں کی تاریک وادیوں میں گزر رہی تھی اور یوں روز بروز گناہوں میں ترقی کا سلسلہ تھا۔ شراب پینا، جوا کھیلنا، بدنگاہی کرنا، امرد پسندی، والدین، بھائی بہن سے آئے دن لڑنا جھگڑنا جیسے گناہوں کا ارتکاب میری عادت میں شامل ہوگیا تھا۔ جب گناہوں سے تھک ہار کر سوجاتا تب گھروالوں کو کچھ سکون ملتا اور جیسے ہی اٹھتا پھر گناہوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ والدین و بہن بھائیوں کے علاوہ محلے والے بھی میری ان حرکتوں سے پریشان تھے۔ مجھ سے بات کرنا تو کجا دیکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ اپنی ان حرکتوں سے کبھی کبھار میں خود بھی پریشان ہوجاتا۔ ایک دن میں نے بارگاہِ ربّ العزّت میں التجا کی یااللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے ان گناہوں کی دلدل سے نکال دے۔ میری یہ دعا قبول ہونے کی ترکیب کچھ اس طرح بنی کہ ایک دن میں کشمیر اپنی بہن کے گھر گیا۔ مجھے وہاں امیرِ اہلسنّت کا تحریر کردی منفرد رسالہ بنام ’’امردپسندی کی تباہ کاریاں ‘‘ ملا۔ یہ رسالہ پڑھ کر مجھے بہت احساس ہوا اور یوں لگا جیسے یہ رسالہ میرے ہی لئے لکھا گیا ہے۔ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی او ردعوت اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی نیت کی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میرے لئے دعوتِ اسلامی جیسے نیک ماحول کی راہیں کھلنے لگیں ۔ میں نے دعوت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنالیا۔ نماز روزے کی پابندی کے ساتھ ساتھ چہرے پر میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی محبت کی نشانی داڑھی مبارکہ سجانے میں کامیاب ہوگیا ایک دن خواب مجھے ایک آواز سنائی دی جس میں عمامہ سجانے کی تاکید کی گئی تھی۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں نے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا نورانی تاج سجالیا۔ میں بالکل بدل گیا لڑنے جھگڑنے کی عادت ختم ہوگئی۔ لوگوں کا ادب و احترام کرنے والا بن گیا۔ گھر اور محلے والے قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوششوں سے 63دن کا مدنی تربیتی کورس کرنے کا ذہن بنا۔ میں نے تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ کورس مکمل کرنے کے بعد اس وقت12ماہ کے مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)نگاہِ ولایت کی بہار

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر B /15 میں رہائش پذیر اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں ایک دینی مدرسے میں پڑھتا تھا۔ مدرسے سے فراغت کے بعد دنیوی تعلیم کے لیے اسکول و کالج کا راستہ اپنایا وہاں برے دوستوں کی صحبت نے اپنا رنگ دکھایا۔ اسکول و کالج کے بگڑے ماحول نے مجھے گناہوں پر دلیر کردیا اور میں انتہائی درجہ کا فیشن پرست ہوگیا حتی کہ مَعَاذَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  داڑھی شریف جیسی پیاری سنّت سے بھی محروم ہوگیا۔ ایک دن میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا رسالہ ’’میں سدھرنا چاہتا ہوں ‘‘ پڑھا۔ ولیٔ کامل کی پر تاثیر



Total Pages: 81

Go To