Book Name:Rasail e Madani Bahar

ہوا اور میں صلوۃ و سُنّت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ میری اصلاح کا ذریعہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا ایک رسالہ بنا، ہوا کچھ یوں کہ جن دنوں میں آئی کام (I.Com) کا  اسٹوڈنٹ تھا ان دنوں وقتاً فوقتاً کئی مرتبہ میرے دل میں داڑھی مبارکہ سجانے کی خواہش بیدار ہوئی مگر یہ سوچ کر ہمت جواب دے جاتی کہ گھر والے ہر گز اس کی اجازت نہیں دیں گے، رفتہ رفتہ جب یہ خواہش دل میں شدت اختیار کر گئی تو میں نے اپنے گھر والوں کے سامنے اس کا اظہار کر دیا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا میرے گھر والوں نے اس بات کی شدید مُخالفت کی اور والدین نے تو سختی سے منع کردیا۔ رشتہ داروں اور کچھ قریبی دوستوں کو جب اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ والدین کی اجازت کے بغیرتم ایسانہیں کرسکتے کیونکہ اس طرح تو تم ان کی ناراضگی مول لو گے اور پھر ثواب کے بجائے اُلٹا گناہگار ہو جاؤ گے، میرے دل نے ان کی یہ بات قبول کرنے سے انکار کردیا، میں نے اس مسئلے کی جانچ کے لئے اپنے کالج کی لائبریری میں موجود مختلف اسلامی کتب کامطالعہ کیا مگر مجھے یہ مسئلہ نہ ملا۔ چونکہ مجھے شَرَعی احکامات کی زیادہ معلومات تو تھی نہیں لہٰذا اس طرح کی باتیں سُن کر دل مَسُوس کر رہ گیاسے۔ ایک دن محلے کی مسجد غوثیہ رضویہ میں نماز پڑھ کر جب مسجد سے نکلنے لگا تو اچانک باآوازِبلند ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کے دُرود و سلام پڑھنے کی صدائیں میری سماعَتوں سے ٹکرائیں ان کی آواز کا سُننا تھا کہ گھر کی جانب اُٹھتے ہوئے قدم خود بخود رُک گئے اور جب انہوں نے نمازیوں سے قریب قریب آنے کو کہا تو بے ساختہ میرے قدم اُن کی طرف بڑھ گئے اور میں بھی درس میں شریک ہوگیا۔ درس کے اختتام پر مُلاقات کے دوران اُس مُبَلّغ اسلامی بھائی نے مجھے ایک رسالہ بنام ’’سمندری گنبد‘‘ تحفے میں پیش کیا۔ گھر جا کر جب میں نے اس رسالے کا مطالعہ کیا تو میری پلکوں کے ساحل پر اشکوں کا ہُجوم لگ گیا کیونکہ شیخِ طریقت شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اُس مختصر رسالے میں والدین کے حُقُوق سے مُتعلّق انتہائی تاثیر کُن تحریر لکھی تھی، علاوہ ازیں اس رسالے میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ’’ اگر ماں باپ جھوٹ بولنے کا حکم دیں یا داڑھی مُنڈوانے یا ایک مٹھی سے گھٹانے کا کہیں تو ان کی یہ باتیں ہر گز نہ مانیں چاہے وہ کتنے ہی ناراض ہوں ، آپ نافرمان نہیں ٹھہریں گے، ہاں اگر مان گئے تو ربّ کے نافرمان قرار پائیں گے۔‘‘ جب میں نے یہ پڑھا تو ہکّا بکّا رہ گیا کیونکہ اس مسئلے کی تلاش میں تو مَیں کافی کتابیں کھنگال چکا تھا بس پھر کیا تھا میں نے اُسی وقت چہرے پر داڑھی مبارکہ سجانے کی نیت کرلی اور آہستہ آہستہ دعوت اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگتا چلا گیا وقت کے ساتھ ساتھ انفرادی کوشش کے ذریعے گھر والوں کو بھی راضی کر لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر میرے چہرے پر ایک مٹھی داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج جگمگا رہا ہے۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)جب رسالہ دوبارہ پڑھا۔۔

        ضلع جہلم(پنجاب پاکستان)کے گاؤں لنگرپور میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں معاشرے کا بگڑا ہواانسان تھا۔ان دنوں میں اسکول میں پڑھتاتھا، میرے کلاس فیلو نے مجھے شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا رسالہ بنام ’’میں سدھرنا چاہتا ہوں ‘‘ تحفے میں پیش کیا، جب میں نے اس رسالے کامطالعہ کیاتومیرے دل کی کیفیت ہی تبدیل ہوگئی۔جوش ایمانی بیدار ہوا اور میں نے ہاتھوں ہاتھ اچھی اچھی نیتیں کیں کہ آئندہ کوئی نماز نہیں چھوڑوں گا، بدنگاہی نہیں کروں گا اور فلموں ، ڈراموں سے بھی بچتا رہوں گا۔ مگر برے ماحول کی وجہ سے میں ان باتوں پر استقامت کے ساتھ عمل نہ کرسکا اور مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اپنے ماضی کی جانب لوٹ کر پرانے رنگ ڈھنگ میں زندگی گزارنے لگا۔ تقریباً 3 سال اس طرح گزر گئے، اور اسکے بعد پھر قدرت مجھ پر مہربان ہوئی اور ہمارے گاؤں کی مسجد میں دعوت اسلامی والے عاشقان رسول کا ایک مدنی قافلہ سفر کرتے ہوئے آیا۔ مدنی قافلے والوں نے مجھے دوران ملاقات ایک رسالہ تحفۃً پیش کیایہ وہی ’’میں سدھرنا چاہتاہوں ‘‘ نامی رسالہ تھا جو آج سے چند سال پہلے میں پڑھ چکا تھا، اس رسالے کو دوبارہ پڑھنے سے مجھے اپنے گناہوں پر دوبارہ ندامت ہوئی اور میں نے دوبارہ اپنی زندگی سنوار نے کافیصلہ کرلیا، جب شرکائِ قافلہ نے مجھے   دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی اور بتایا کہ آپ کے گاؤں کے قریب ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع مدنی مرکز فیضان مدینہ ڈھوک جمعہ نزد کچہری جہلم سٹی میں ہر جمعرات کو بعد نماز عشاء ہوتا ہے تو میں اجتماع کا مصمم ارادہ کرلیا جب میں نے اجتماع میں شرکت کی تو بہت سرور آیا۔ وہاں پر ہونے والے ذکر و دعا سے میں بے حد متاثر ہوا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  واپسی پر میں نے نماز روزے کی پابندی اور سنتوں پر عمل شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ میں مَدَنی ماحول میں رنگتا چلا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر میں دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوں اور اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  سے اس پیارے مدنی ماحول میں استقامت کی دعا ہے۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)امرد پسندی سے جان چھوٹی

        کوٹ اَدّو (ضلع مظفرگڑھ، پنجاب، پاکستان)کے نواحی گاؤں ظفر آباد میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے کہ میں عصیاں کے بھیانک جنگل میں بھٹکتا پھر رہا تھا، مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  جنسی و رومانی ناولوں کو پڑھنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، گانے باجے سننا خصوصاً امردوں سے دوستی کرنا، جیسے گناہوں میں گرفتار تھا۔ ہائے افسوس! امردوں کی صحبت نے مجھے بری طرح برباد کرکے رکھ دیا تھا انہی گناہوں کے سبب میں ایک مہلک مرض میں گرفتار ہوگیا۔ میرے بڑے بھائی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے اور وہ دعوت اسلامی کے جامعۃ المدینہ میں درسِ نظامی (عالم کورس ) کرنے کی سعادت حاصل کر رہے تھے بھائی جان اور دیگر اسلامی بھائی مجھ پر انفرادی کوشش کرتے رہتے مدنی قافلوں میں سفر کی ترغیب دلاتے مگر میں ٹال دیتا۔ جب میں سیکنڈ ائیر کے امتحانات سے فارغ ہوا تو بھائی جان نے مجھے اپنے ساتھ جامعۃالمدینہ میں بلا کر میری ملاقات اپنے استاذ صاحب سے کرائی انہوں نے مجھ پر بہت شفقت فرمائی، انھوں نے انفرادی کوشش کرتے مجھے درسِ نظامی (عالم کورس) کرنے کا ذہن دیا،  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ان کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں نے درس نظامی (عالم کورس) میں داخلہ لے لیا۔ جامعۃ المدینہ میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا ایک رسالہ بنام’’غفلت‘‘ سننے کی سعادت حاصل ہوئی، اس رسالے نے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا کر دیا۔ مجھے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت ہوگئی یوں میں سنّتوں بھرے



Total Pages: 81

Go To