Book Name:Rasail e Madani Bahar

مدنی انقلاب کا آغاز ہونے والا ہے۔ ہوا یوں کہ نماز سے فراغت کے بعد ابھی میں مسجد ہی میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میری نظر ایک طرف رکھے ہوئے امیرِ اہلسنّت کے تحریر کردہ مختصر سے رسالے پر پڑی جس پر جلی حُروف

 میں ’’کالے بچھو‘‘ لکھا ہوا تھا میں نے اُسے اُٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ رسالے میں موجود عبرت سے بھر پور داستانیں فکرِ آخرت کا درس دے رہی تھیں جنہیں پڑھ کر خوفِ خدا سے میرا رُوآں رُوآں کانپ اٹھا اور ندامت کے مارے گریبان آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ میں نے تمام گناہوں سے توبہ کرنے کی نیت کی اور دل ہی دل میں یہ بات ٹھان لی کہ چاہے کچھ بھی کرنا پڑے میں اپنے اندر تبدیلی ضرور لاؤں گا۔ کسی کہنے والے نے سچ کہا ہے کہ جب انسان کی نیت سچی ہو تو منزل آسان ہو جایا کرتی ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طرح ہوا چنانچہ رَمَضانُ الْمبارک کے آخری عشرے میں مجھے اپنے علاقے کی جامع مسجد بلال میں اعتکاف کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس مسجد میں جو حافظ صاحب نمازِتراویح پڑھانے کے لئے آتے تھے وہ انتہائی سنجیدہ و باوقار ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خوش اخلاق اور مِلَنسار بھی تھے ۔ صاف ستھرے سفید لباس میں ملبوس سبز سبز عمامہ شریف سجائے وہ اسلامی بھائی بَہُت بھلے معلوم ہوتے تھے۔ ان کا روزانہ کا معمول تھا کہ تراویح وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد نمازیوں سے ملاقات کے دوران اُنھیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے، مجھ پر اُن کی بڑی شفقتیں تھیں ، بسا اَوقات تو دیر تک مجھے اپنے پاس بٹھا کر فکرِ آخرت کا درس دیتے اور گناہوں سے باز رہنے کی تلقین کرتے۔ انہی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں دوران اعتکاف مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ کے مختلف صفحات کامطالعہ کرنے کی سعادت بھی ملی۔ یہ کتاب مجھے اس قدر بھاگئی کہ بطورِ خاص میں نے اپنے لئے ایک نئی فیضانِ سُنّت منگوالی اور روزانہ اس کے کچھ نہ کچھ صفحات پڑھنے لگا علاوہ ازیں اُن حافظِ قراٰن اسلامی بھائی کے سامنے اپنی نیت کا اظہار بھی کیا کہ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اعتکاف کے بعد دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کروں گا۔ لہٰذا اعتکاف کے بعد ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہوگیا۔ اجتماع میں اسلامی بھائیوں کی انوکھی محبت اور والہانہ اندازِ مُلاقات دیکھنے کو ملا۔ ہر اسلامی بھائی اتنی اپنائیت سے مِلتا جیسے میرا برسوں کا شناسا ہو۔ ایسے میں میرا دعوتِ اسلامی والوں کا ہوکر رہ جانا کوئی اچَنبھے (تعجب) کی بات نہ تھی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں شمعِ رسول کے ان پروانوں اور سُنَنِ سرکار (یعنی سرکارصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّمکی سُنّتوں ) کے مَتوالوں کی طرح میں بھی سر پر سبزسبزعمامہ شریف کاتاج اورچہرے پر سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف سجا کر سفید لباس میں ملبوس رہنے لگا اَورتو اور شیخِ طریقتامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بھی داخل ہو گیا۔ مدنی ماحول تو کیا اپنایا گویا مجھ پر حوصلہ شِکن آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جب میں سنتوں پر عمل کرتا تو طرح طرح سے میرا مذاق اُڑایا جاتا، مختلف جملے کسے جاتے۔ افسوس صد افسوس ! ایک آدھ مرتبہ تو میرے اپنوں ہی نے مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میرے سر سے عمامہ شریف اتار کر زمین پر پٹخ دیا۔ مگر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم اور میرے مُرشدِ کریم دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے فیضانِ نظر سے ایسے کَس مَپُرسی کے حالات میں بھی میرے پائے ثُبات میں کوئی جُنبش نہ آئی۔ بالآخر انفرادی کوشش کے ذریعے آہستہ آہستہ جب مجھے اپنے گھر میں مدنی ماحول قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہو گئی تو میرے لئے سُنّتوں پر عمل اور مدنی کام کرنے کی راہیں خود بخود ہموار ہوتی چلی گئیں ۔ اُسی سال دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃُالاؤلیاء (ملتان شریف) میں ہونے والے سالانہ بین الاقوامی تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع کے اختتام پر میں مدنی قافلہ کورس کے لئے باب المدینہ (کراچی) روانہ ہوگیا۔ یہ بیان دیتے وقت نہ صرف میں دعوتِ اسلامی کی علاقائی مشاورت کے رکن کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں بلکہ اس وقت  اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  30 روزہ تربیتی اعتکاف میں دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں اپنے پیر و مُرشِد شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے قُرب کی بَرَکتیں لوٹنے میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)پُر تاثیر اَوراق

        لطیف آباد نمبر 12 (حیدرآباد، باب الاسلام، سندھ) میں رہائش پذیر اسلامی بھائی اپنی اصلاح کاواقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں :  خوش قسمتی سے میری ہمشیرہ کو دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر تھا۔ وہ اکثر و بیشتر گھر میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسائل لے آیا کرتی تھیں اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ان رسائل کے مطالعے کا ذہن دیتیں ، یوں تو میں بھی ان کی مُسلسل انفرادی کوشش کی بنا پر کبھی کبھار سرسری طور پر ان رسائل کی ورق گردانی کر لیا کرتا تھامگر سنجیدگی سے نہ پڑھنے کی وجہ سے میرے دل پر اس تحریر کا کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ ایک دن نجانے مجھے کیا ہوا کہ گھر میں رکھا امیرِ اہلسنّت کا تحریر کردہ ’’قبرکاامتحان‘‘ نامی رسالہ اُٹھایا اور دلجمعی کے ساتھ بغور اس کا مطالعہ کر نے لگا۔ واقعی چند اَوراق پر مشتمل وہ انتہائی پُر تاثیر تحریر ثابت ہوئی کیوں کہ جیسے جیسے میں پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوتاچلا جارہا تھا، دورانِ مطالعہ میری نظر جب اس شعرپہ پڑی

سرکار کاعاشق بھی کیاداڑھی منڈاتاہے

کیوں عشق کاچہرے سے اظہارنہیں ہوتا

        ایک ولیٔ کامل کے شعر کا پڑھنا تھا کہ اس کی تاثیر سے میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ میں نے اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہوجائے میں ہر گز داڑھی نہیں کٹواؤں گا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی پیاری پیاری سنّت (داڑھی شریف) کا نور میرے چہرے پر جگمگانے لگا، ا ب میں نمازوں کا اہتمام بھی کرنے لگا تھا، چونکہ مجھے دُرست مخارِج کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنا نہیں آتا تھا لہٰذا دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کے توسّط سے مدرسۃالمدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا، اس کی برکت سے رفتہ رفتہ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا، اب میں سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سر پر سجا چکا ہوں اور علاوہ ازیں سفید لباس بھی اپنا لیا ہے، تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  میں ذیلی حلقہ مشاورت میں قافلہ ذمہ دار



Total Pages: 81

Go To