Book Name:Rasail e Madani Bahar

مصافحے کے بعد انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ’’یوسف قبرستان‘‘ کے قریب دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے شب برأت کے سنتوں بھرے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے ہامی بھر لی۔ خوش نصیبی سے میں نے اجتماع میں شرکت کی۔ تلاوت و نعت کے بعد ہونے والے رقت انگیز بیان سے مجھ پر شدید خوف طاری ہوگیا۔ میں نے جھٹ گناہوں بھری زندگی سے توبہ

 کی اور سنتوں کو اپناتے ہوئے زندگی گزارنے کا عہد کرلیا۔ اللّٰہ  تَعَالٰی دعوتِ اسلامی کے اس مبلغ کو دنیا و آخرت کی ڈھیروں بھلائیں عطا فرمائے کہ جن کی برکتوں سے میں سنّتوں کا پابند بن گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(16)بدمذہبی کے جراثیم نکل گئے

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے گارڈن ویسٹ میں مقیم اسلامی بھائی اپنا بیان کچھ اس طرح تحریر کرتے ہیں کہ دینی معلومات سے دوری کے باعث بد قسمتی سے میرا اٹھنا بیٹھنا بدمذہبوں میں تھا۔ اَلصُّحْبَۃُ مُؤَثِّرَۃٌ (صحبت اثر رکھتی ہے ) کے مصداق آہستہ آہستہ میں اُنہی کے طور طریقے اپنانے لگا۔  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   بھلا کرے دعوتِ اسلامی والوں کا کہ جن کی بدولت خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی کے ساتھ ساتھ اولیائے کرام کی عقیدت بھی نصیب ہو گئی۔ ہوا یوں کہ پندرھویں شعبان المعظم ۱۴۲۹  ھ کی شب ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام اجتماع ذکرو نعت منعقد کیا گیا۔ اتفاقاً میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے موت کے متعلق بیان فرمایا۔ میں نے ایسا پرسوز اور دل ہلا دینے والا بیان پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ایک عاشقِ رسول کی زبان سے موت کا رِقت  

 انگیز بیان سن کر بدن پر لرزہ طاری ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے دل سے بدمذہبی کے جراثیم نکلنے لگے جن کی جگہ عشقِ رسول کی لازوال دولت جاگزیں ہونے لگی۔ پھر کیا تھا بیان کا اس قدر اثر ہوا کہ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے برے عقائد سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں بھری زندگی سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے کی نیت کرتے ہوئے اُسی اجتماع میں حضور غوثِ اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کی غلامی کا پٹہ گلے میں ڈال لیا اور بیعت کی سعادت حاصل کر کے عطاری بن گیا۔ تادمِ تحریر میں عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔    اعتکاف کے دوران وقتاً فوقتاً لگنے والے حلقوں میں نہ صرف خوب خوب سنتیں سیکھ رہا ہوں بلکہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے حکمت بھرے مدنی مذاکروں سے اپنی دینی معلومات میں اضافہ کررہا ہوں ۔ اب تو یقین ہو چکا ہے کہ یہی لو گ صحیح معنوں میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی رکھنے والے ہیں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

شعبہ امیرِاہلسنّت          مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

۱۳ربیع الغوث۱۴۳۳ ھ بمطابق 07مارچ 2012 ء     

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

      دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفحات پر مشتمل کتاب، ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘صفحہ 1پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہترمذی شریف کے حوالے سے ایک حدیث پاک نقل فرماتے ہیں :  ’’ حضرتِ  سیِّدُنا اُبَی بن کَعب  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے خَاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، شَفِیعُ الْمُذنِبین، اَنِیسُ الْغَرِیبِین، سِراجُ السّالکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلمِین، جنابِ صادِق و اَمین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی بارگا ہِ بیکس پناہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں (سارے وِرد، وظیفے ، دُعائیں چھوڑ دوں گا اور) اپنا سارا وقت دُرُود خوانی میں صَرف کروں گا۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے فرمایا : ـ’’ـیہ تمہاری فِکروں کودُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ص۲۰۷حدیث۲۴۶۵)

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!              صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(1)کالے بِچھو کا خوف

         میلاد مصطفی آباد (کُھرڑیانوالہ تحصیل جڑا نوالہ) کے نواحی گاؤں چھوٹا لاٹھیانوالہ میں مقیم اسلامی بھائی نے اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے احوال بیان کیے جن کا لُبِّ لُباب ہے :  میں پینٹ شرٹ میں کَساکَسایا ایک ماڈرن نوجوان تھا میری زندگی کے شب و روز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے گانے باجے سننا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، رات کا اکثر حصہ دوستوں کے ساتھ بے ہودہ ٹھٹھے مذاق میں گزارنا، والدین کے احکامات کی خلاف ورزی کرنا اور فرض نمازوں میں سُستی کرنا گویا میرے نزدیک کوئی قابلِ شرم و ندامت بات نہ تھی اور ان سب برائیوں کے ساتھ ساتھ غیر محرم عورتوں سے مَراسِم (تعَلُّقات) قائم رکھنا تو میرا سب سے محبوب ترین مشغلہ تھا شاید انہی کرتُوتوں کے سبب تنہائی کے اوقات میں اکثر میرا دل اُچاٹ سا ہو جاتا اور رُوحانی سُکون کا مُتَلاشی نظر آتا۔ میری آنکھوں پر پڑا غفلت کا پردہ پہلی بار اس وقت ہٹا جب میں اپنے علاقے کی بلال مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی کرم نوازی سے آج میری زندگی میں



Total Pages: 81

Go To