Book Name:Rasail e Madani Bahar

تھرا اٹھا میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے  گناہوں سے تعلق توڑا (توبہ کی)، نیکیوں سے رشتہ جوڑا، داڑھی منڈانا چھوڑا اور دعوتِ اسلامی سے ناطہ جوڑا۔ بیان میں موت اور قبروحشر کی جو منظر کشی کی گئی تھی میرے دل و دماغ پر اسی کاراج تھا ۔ اجتماع کے بعد میں نے مکتبہ المدینہ سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کی کیسٹ ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘ خریدی اور گھر آ کر ایک بار پھر سنی۔ جس کی برکت سے میں نے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی پکی نیت کرلی اور ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے لگا۔ کچھ عرصہ بعد مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کا بین الاقوامی سنّتوں بھرا اجتماع ہونے والا تھا۔ میں نے دوکان کے مالک سے اجازت لی اور ملتان کا ٹکٹ لے کر اسلامی بھائیوں کے ہمراہ ایک دن قبل ہی اجتماع گاہ پہنچ گیا۔ میں اتنا بڑا اجتماع دیکھ کر ششدر رہ گیا، چونکہ اس سے قبل میں نے اتنا بڑا کوئی دینی اجتماع نہ دیکھا تھا کہ جس طرف نظراٹھاؤں تو سبز سبز عماموں کی بہار نظر آرہی تھی۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس قدر نوجوان اپنی زندگیاں سنّتوں کی خدمت کے لیے وقف کر چکے ہیں ۔ دورانِ اجتماع ہی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہو کر قادری عطاری سلسلے میں داخل ہو گیا۔ اجتماع سے واپسی پر سب گھر والوں کو بھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت کروا کر عطاری کر دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مجھ سمیت سارا گھر مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ تادمِ تحریر میں مکتبہ المدینہ میں کام کررہا ہوں ۔

بری صحبتوں سے کنارہ کشی کر             اور اچھوں کے پاس آ پامدنی ماحول

تمہیں لطف آجائے گا زندگی              قریب آکے دیکھو ذرا مدنی ماحول

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)نیکی کی دعوت بھرے مکتوبات

        پنجاب (پاکستان) کے شہر ( مرکز الاولیاء لاہور) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں غفلت بھری زندگی گزار رہا تھا۔ گناہوں کی بھرمار کے باعث نیکوں کی صحبت سے دور تھا۔ ہمارے علاقے کے کچھ اسلامی بھائی محلہ کی مسجد میں جمعہ اعتکاف کے لیے تشریف لاتے تھے تو کبھی کبھار ان کے پاس بھی بیٹھ جاتا تھا۔ بعد نمازِ مغرب ہونے والے بیان میں بسا اوقات شرکت کی وجہ سے دل دعوتِ اسلامی کی جانب مائل ہونے لگا تھا مگر کام کی مصروفیت کے باعث کسی اجتماع میں حاضری نہ ہو سکی۔ ربیع النور شریف کا ماہ مبارک جونہی تشریف لایا چہار سو’’ نوروالا آیا ہے ، نور لے کر آیا ہے‘‘ کے محبت بھرے ترانے سنائی دینے لگے۔ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے بارہ ربیع النورکے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی میں نے سوچا کہ کوئی چھوٹی سی محفل ہوگی مگر جب میں (گلبرگ لاہور ) میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماع میں پہنچا توہر طرف سبز سبز عماموں کی ایسی بہاریں دیکھیں اس سے پہلے نہ دیکھی تھی۔ اسلامی بھائیوں کے نورانی چہرے، مسحور کن نعتوں کی آواز اور مبلغ دعوتِ اسلامی کے بیان اور خصوصاً صبح بہاراں کے نورانی و روحانی منظر نے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے قریب کردیا۔ وہیں میری ملاقات ایک گونگے بہرے اسلامی بھائی سے ہوئی اور وہ مجھ پر اشارے سے انفرادی کوشش کرنے لگے اور میرا ایڈریس معلوم کیا۔ ایڈریس لینے کے بعد کئی ماہ تک ان کے نیکی کی دعوت بھرے مکتوبات موصول ہوتے رہے۔ جن میں وہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا تعارف بھی پیش کرتے رہتے۔ ان کی مسلسل انفرادی کوشش رنگ لائی اور ولیٔ کامل کے ایمان افروز واقعات پڑھ پڑھ کر میں نے گناہوں سے توبہ کی اور اجتماع میں شرکت کا پابند بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یوں آہستہ آہستہ سنتوں بھری زندگی اختیار کر کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)شب برأت کا اجتماع ذکرونعت

        ڈیرہ اللّٰہ یار (بلوچستان) میں رہائش پذیر ایک اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے مدنی انقلاب کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ : ۱۴۲۰ ھ بمطابق 1999ء کی بات ہے جب میں چھٹی کلاس کا طالب علم تھا۔ ایک روز ہمارے محلے میں چند مبلغین دعوتِ اسلامی آئے اور لوگوں کو شب برأت کے اجتماع کی دعوت دینے لگے۔ اُن دنوں دعوتِ اسلامی کے زیراہتمام شب برأت کا اجتماع ذکر و نعت ہمارے شہر میں نہیں ہوتا تھا بلکہ عطار آباد (جیک آباد) میں ہوتا تھا۔ میں نے ان کی دعوت قبول کی اور اجتماع میں شرکت کی سعادتیں پانے کے لیے ان کے ساتھ چل پڑا۔ اجتماع میں جا کر تو میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی، وہاں ہونے والے پرسوزبیان اور رقت انگیز دعا سن کر میں بہت متأثر ہوا اور دعوتِ اسلامی کے زیراہتمام ہونے والے اجتماعات میں آنا جانا شروع کر دیا، رفتہ رفتہ میری زندگی بھی سنتوں کے سانچے میں ڈھلنے لگی اور بالآخر میں مدنی ماحول سے مکمل طور پر وابستہ ہوکرخوبصورت، نیکیوں بھری زندگی بَسرکرنے لگا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(15)اجتماعِ ذکر و نعت کا فیضان

        باب الاسلام (سندھ)  حیدر آباد کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ تبلیغ و قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں بھری زندگی بسر کررہا تھا۔ نمازوں سے دور، دوستوں کے جمگھٹے میں خوش گپیوں میں وقت برباد کرتارہتا۔ خوش قسمتی سے میری ملاقات ایک مبلغ دعوتِ اسلامی سے ہوئی انہوں نے سلام و



Total Pages: 81

Go To