Book Name:Rasail e Madani Bahar

فارغ ہو کر میں فیضانِ مدینہ کی طرف آرہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک شخص نے گھیر لیا۔ پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ میں نے اپنا نیک ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فیضانِ مدینہ جارہا ہوں ، اس نے مجھے منع کرتے ہوئے سختی سے کہا وہاں مت جاؤ یہ لوگ صحیح نہیں ہیں ۔ اس طرح کی الٹی سیدھی باتیں کیں بالآخرمیں اس کی باتوں میں آگیا اور عشاء کی نماز کے لیے واپس ہسپتال کی مسجد کی طرف جانے لگا کہ راستے میں ایک بڑے میاں سے ملاقات ہوئی، جو کہ ہسپتال ہی میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے واپسی کا سبب پوچھا تو میں نے ساری بات بیان کردی ۔ انہوں نے بہت پیار سے کہا بیٹا !ایسی کوئی بات نہیں ہے وہاں تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا ذکر ہوتا ہے، یہ تو عاشقانِ رسول کی جماعت ہے۔ تم ضرور جاؤ۔ بڑے میاں کے ان کلمات نے میرا دل باغ باغ کر دیا، میں نے اپنے دل میں ایک عجیب سی ٹھنڈک محسوس کی، نماز ادا کی اور فوراً عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کی نورانی فضاؤں میں پہنچ گیا۔ ماہِ رمضان کی یہ عظیم رات فیضانِ مدینہ کے سنتوں بھرے ماحول میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت میں گزاری۔ یہاں مجھے رات گزارنے میں اتنا لطف آیا کہ ہر سال ستائیسویں شب فیضانِ مدینہ میں گزارنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ تادمِ تحریر ہر سال ستائیسویں شب فیضانِ مدینہ میں گزارتا ہوں ۔ اَلْحَمْدللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  فیضان مدینہ میں مانگی ہوئی دعائیں بھی قبول ہو رہی ہیں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(8)خیر خواہی کا قابلِ رشک جذبہ

        صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شہر سردار آباد (فیصل آباد) کے مضافات میں مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے :  شبِ معراج کی بھینی بھینی سہانی رات تھی اور مجھے اجتماع ذکر و نعت کے لیے کسی ایسی مسجد کی تلاش تھی کہ جہاں شب بیداری کا اہتمام ہو اور میں وہاں نیک و صالحین لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے پیارے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت کرکے اسے راضی کرسکوں ، چنانچہ میں اپنی منزل کو تلاشتا  مختلف مساجد میں پہنچا مگر آہ ! بعض مساجد پر تو اس بابرکت رات بھی تالے پڑے تھے میں بڑا حیران ہوا کہ یہ لوگ ایسی رحمتوں بھری رات میں بھی برکتوں سے محروم ہیں ۔ بالآخر میں ایک جامع مسجد پہنچا سردی بھی بہت تھی میرے پاس کوئی گرم کپڑا بھی نہیں تھا مگر شب بیداری کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور نعت خوانی و بیان سننے کا جذبہ سردی پر غالب تھا۔ بہرحال اسی امید پر مسجد کے ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کہ یہاں نعت خوانی و بیان کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ اب تو مجھے انتہائی افسوس ہوا۔ ابھی واپسی کا سوچ ہی رہا تھا کہ سبز عمامے اور سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر رُک گیا، قریب آ کر انہوں نے سلام کیا اور پیار بھرے لہجے میں میرا نام و پتہ دریافت کیا میں ان کے حسنِ کردار و گفتار سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا میں نے ان کے سامنے اپنا مدَّعا پیش کیا۔ تو وہ کہنے لگے کہ ادھر تو محافل ختم ہوچکی ہیں ابھی تھوڑی دیر میں ہمارا قافلہ فیضانِ مدینہ (مدینہ ٹاؤن) روانہ ہونے والا ہے وہاں اجتماعِ ذکرو نعت میں شب بیداری کی ترکیب ہے آپ بھی تشریف لے چلیں ۔ یہ سن کر میری مسرت کی انتہا نہ رہی میں نے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا شکرا دا کیا ۔ اسی دوران انہوں نے توجہ دلائی کہ سردی شدید ہے آپ کے پاس کوئی گرم چادر وغیرہ بھی نہیں ہے ایسا کریں آپ میری سائیکل لے جائیے اور گھر سے شال وغیرہ لے آئیے۔ اب تو میں اور زیادہ متأثر ہوا کہ مجھے جانتے بھی نہیں اور اپنی سائیکل بھی پیش کردی۔ بہرحال میں گھر سے شال لے آیا۔ آہستہ آہستہ اسلامی بھائی اکٹھے ہونے لگے جو بھی مجھ سے ملاقات کرتا انتہائی شفقت دیتا۔ ہمارا یہ قافلہ سائیکلوں پر مدنی مرکز فیضانِ مدینہ روانہ ہوا، راستے بھر نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہا، سنتوں کے پیکر اسلامی بھائیوں کے ساتھ شب بیداری کے جذبے کے آگے سخت سردی بھی ماند پڑ چکی تھی۔ فیضانِ مدینہ پہنچے تو وہاں نعت خوانی کا سلسلہ جاری تھا۔ میں نے اتنی خوش الحانی اور سوز و گداز والی نعت کبھی نہ سنی تھی جو لطف و سرور یہاں آیا، وہ کسی محفل میں نہ آیا تھا۔ نعت خوانی کے بعد نگران پاکستان انتظامی کا بینہ اور ’’رکنِ شوریٰ‘‘ نے سنّتوں بھرا بیان فرمایا ۔ میرے دل میں تو نعت خوانی کے ذریعے پہلے ہی عشقِ رسول کی شمع روشن ہو چکی تھی رکنِ شوریٰ کے بیان نے تو سونے پر سہاگے والا کام کیا اور اسے نہ صرف مزید تیز کر دیابلکہ میرے دل و دماغ میں خوفِ خدا و عشق ِ مصطفی کا اجالا کر دیا۔ بیان کے اختتام پر سبز گنبد کا تصور باندھ کر درود پاک اور پھر کعبۃ اللّٰہ شریف کا تصور باندھ کر ذکر اللّٰہ کا سلسلہ ہوا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں ہر چیز میرے رب قدیر کا ذکر کر رہی ہے۔ اس کے بعد دعا ہوئی، سحری کا بھی انتظام تھا۔ سحری کے بعد رکن شوری و نگران کابینہ سے ملاقا ت کی ترکیب تھی میں نے بھی آگے بڑھ کر دست بوسی کی آپ نے بہت شفقت فرمائی، تحفہ دیا اور پیار بھرے لہجے میں ہفتہ وار اجتماع کی دعوت پیش کی۔ داڑھی شریف اور مدنی لباس کا ذہن بنایا میں نے ہامی بھرلی۔ اَلْحَمْدللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  یوں میں اجتماعات میں شرکت اور عاشقانِ رسول کی صحبت میں رہنے کے باعث دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول اپنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وقت یہ بیان دیتے ہوئے میں اپنے علاقے کی مسجد میں ذیلی نگران کی حیثیت سے مدنی کاموں کی بہاریں لٹا رہا ہوں ۔

ہیں اسلامی بھائی سبھی بھائی بھائی            ہے بے حد محبت بھرا مدنی ماحول

نبی کی محبت میں رونے کا انداز             تم آجاؤ سکھلائے گا مدنی ماحول

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

(9)بعدِ وصال والد کا پیغام

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے قصبہ کالونی (اورنگی ٹاؤن) میں رہائش پذیرایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ اس طرح ہے :  ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ککری گراؤنڈ میں ہونے والے بارہ ربیع النورکے اجتماع کی دعوت پیش کی، میری خوش قسمتی کہ میں اس اسلامی بھائی کی دعوت پر لبیک کہتا ہوا ککری گراؤنڈپہنچ گیا۔ عشقِ مصطفی  کی دولت سے بھرپور مسرور کُن ماحول میں عین صبح بہاراں کے وقت چہار سو خوشبو ہی خوشبو پھیل گئی، دیکھتے ہی دیکھتے ماحول خوشگوارسے خوشگوار ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آسمان بھی خوشی سے پھوار برسانے لگا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ رحمتِ خداوندی جھوم جھوم کر برس رہی ہے ۔ بس اسی روح پرور ماحول نے میرے دل کی کایاپلٹ دی، میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت گھر



Total Pages: 81

Go To