Book Name:Rasail e Madani Bahar

پرستی سے منہ موڑ کر میٹھے مصطفی صلَّی اللّٰہ تَعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ۔ مبلغ دعوتِ اسلامی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے رمضان المبارک میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنتوں بھرے اجتماعِ ذکر و نعت کی بھی دعوت دی۔میں نے حاضری کا پکا ارادہ کر لیا۔ کرم بالائے کرم خوش بختی سے اجتماع میں بھی آ گیا۔ بیان کے بعد جب دعا شروع ہوئی تو ہر طرف سے ہچکیوں اور سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں ۔ خوفِ خدا کے سبب مجھ پر بھی رِقّت طاری ہو گئی۔ میں نے گناہوں پر شرمسار ہوتے ہوئے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  سے معافی مانگی اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اجتماع میں شرکت کرتے رہنے کی برکت سے زمانے کے ولی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مرید ہو کر قادری عطاری ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ بُرے دوستوں کی صحبت سے ناطہ توڑا، داڑھی منڈانا چھوڑا اور سنّتوں سے تعلق جوڑ لیا۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد 

(5)  پتھری نکل گئی

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  مجھے ایک سال سے پتھری کی تکلیف تھی۔ علاج معالجے کے باوجود مرض اس قدر بڑھ چکا تھا کہ درد سے جان نکلنے لگتی۔ اسی کرب و اضطراب میں میری زندگی کے شب وروز بسر ہو رہے تھے۔ آخر کار میرے درد کا مداوا کچھ اس طرح ہوا کہ درد کی حالت میں ہی مجھے رَمَضان المبارک کی مقدس و بابرکت ساعتوں میں دعوتِ اسلامی کے تحت ستائیسویں رات ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ اجتماع کے دوران ہونے والے ذکر میں اللّٰہ، اللّٰہ کی پُر کیف صداؤں نے میرے باطن کو نکھارنا شروع کر دیا ۔مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میرے دل کا میل کچیل  اتر گیا ہے اور یہ اُجلا اُجلا ہو رہا ہے۔ اس کیفیت کے دوران ہی میں نے اپنے جسم میں کوئی چیز سرایت کرتے محسوس کی۔ اس کے ساتھ ہی پتھری کی تکلیف میں افاقہ ہونے لگا اور مجھے سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ اَلْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس پاکیزہ اجتماع کی برکت سے پیشاب کے ذریعے میری پتھری نکل گئی۔ وہ دن اور آج کا دن مجھے دوبارہ کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! نیک اجتماعات میں شرکت کی کس قدر برکتیں ہیں کہ ان مقدس ساعتوں کے صدقے پرانے سے پرانے امراض دور ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ دین و دنیا کی برکتوں کے حصو ل کی خاطر دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)تاجدارِحرم ہو نگاہِ کرم

        راولپنڈی (پنجاب، پاکستان) میں رہائش پذیر ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں گناہوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔ نفسانی خواہشات اس قدر غالب ہو چکی تھیں کہ میں انجامِ آخرت سے غافل نفس و شیطان کے جال میں پھنس کر عشقِ مجازی جیسے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ اب تو گھر سے ملنے والا جیب خرچ بس اسی کام کی نذر کر نے لگا۔ فحش کلامی اور بڑوں سے زبان درازی تو میری عادت میں شامل تھا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اب تو بدمذہبوں سے بھی میرے مراسم بڑھنے لگے تھے۔ خوش قسمتی سے میرے چھوٹے بھائی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے ایک روز انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت گیارہویں شریف کے اجتماعِ ذکرونعت میں شرکت کی دعوت دی۔ میری خوش بختی کہ ان کی بات میری سمجھ میں آ گئی اور میں اجتماع میں شریک ہو گیا۔ نورانیت و روحانیت سے مالا مال ، غوث اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کے فیضان سے فروزاں اجتماع کا اپنا ہی رنگ تھا۔ دورانِ اجتماع ایک مدنی منے نے سرورِ کونین نانائے حسین صلَّی اللّٰہ تَعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ ِاقدس میں گلہائے عقیدت کے پھول نچھاور کیے، میرے دل کی دنیا بدلنے لگی خاص کر جب یہ شعر ’’تاجدارِحرم ہونگاہِ کرم‘‘ پڑھا گیا تو مجھے یوں لگا کہ مجھ پر بھی نگاہِ کرم ہو گئی ہے۔ دل کی دنیا بدلنے لگی۔ جب مبلغِ دعوتِ اسلامی نے غوث اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کی سیرت کے گوشوں سے بیان کی صورت میں پردہ ہٹایا تو میری قلبی کیفیت ہی بدل گئی، آپ کا علمِ دین کی خاطر مشقتیں برداشت کرنا نیکی کی دعوت کے لیے گھر بار کو خیرباد کہنا نیز آپ کی کرامات سن کر میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار آنکھوں سے اشکوں کے دھارے میرے رُخساروں پے بہہ نکلے۔ دل میں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت محسوس کرنے لگا۔ میں نے تمام گناہوں سے توبہ کر لی۔ اَلْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  گیارہویں شریف کے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی برکت سے میری زندگی کی تاریک راہیں روشن ہو گئیں ۔ آج میں بفضلہٖ  تَعَالٰی مجلس تعویذاتِ عطاریہ کے بستہ ذمہ دارکی حیثیت سے خیرخواہیِٔ اُمت کیلئے کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ہمیں عمر بھر عقائدِ حسنہ (یعنی اچھے عقیدوں ) پر قائم اور اعمالِ صالحہ (یعنی نیک اعمال) پر دائم (یعنی استقامت سے عمل پیرا) رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(7)عاشقانِ رسول کی جماعت

        باب المدینہ (کراچی، پاکستان) کے علاقہ کورنگی کراسنگ کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے میں باب المدینہ کے مشہور اسپتال ’’لیاقت نیشنل ‘‘میں ملازمت کرتا تھا۔ میرا گزر اکثر دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کے قریب سے ہوتا۔ کبھی سبز عمامے سجائے مدنی منّوں پر نظر پڑتی تو کبھی اجتماع میں آنے والی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھتا۔ غالباً ۱۴۱۶ ھ بمطابق 1996ء کی بات ہے کہ مجھے خیال آیا فیضانِ مدینہ باہر سے ہی دیکھتا ہوں کیوں نہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب وہیں عاشقانِ رسول کے ساتھ گزاری جائے۔ چنانچہ ڈیوٹی سے



Total Pages: 81

Go To