Book Name:Rasail e Madani Bahar

سے نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر میں لوگوں کے گناہوں میں اضافہ کرتا تھا مگر اب ربّ  عَزَّوَجَلَّ   کے کرم سے نعتِ رسولِ مقبول پڑھ کر عشقِ رسول میں رونے رُلانے لگا ہوں ۔

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(2)شبِ برأ ت کی برکت

        پنجاب (پاکستان) کے شہر سردارآباد (فیصل آباد) میں رہائش پذیر ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کاخلاصہ ہے : میں فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کا بہت شوقین تھا۔ نمازیں قضا کرنا تک میرے لیے معیوب نہ تھا بلکہ دین سے دوری کا یہ عالم تھا کہ مَعَاذَ اللّٰہ کئی کئی ماہ تک جمعے کی نماز پڑھنے کی توفیق نہ ہوتی۔ اس عصیاں بھری زندگی میں شب و روز تباہی کے گڑھے کی طرف بڑھتا جا رہا تھاکہ خوش قسمتی سے ایک روز میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی جنہوں نے مجھے شبِ برأ ت میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعِ ذکر و نعت میں شریک ہونے کی دعوت پیش کی۔ ان اسلامی بھائی کا نیکی کی دعوت کا انداز مجھے اتنا پسند آیا کہ ہاتھوں ہاتھ اجتماع میں حاضری کی نیت کر لی۔ اجتماع گاہ پہنچا تو مبلغِ دعوتِ اسلامی ’’موت‘‘ کے موضوع پربیان فرمارہے تھے، بالخصوص جب مبلغِ دعوتِ اسلامی نے موت کی یاد دلانے والے اشعار پڑھے تو وہ میرے دل پر چوٹ کر گئے۔ میں نے اسی وقت ماضی میں کئے ہوئے گناہوں سے گڑگڑا کر توبہ کی اور فرائض و واجبات کی پابندی کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ گناہوں سے باز رہنے اور اپنے ارادے پر مستقل قائم رہنے کیلئے اجتماع کے اختتام پر دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘ سے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا سنّتوں بھرا بیان بنام ’’قبر کا امتحان‘‘ حاصل کیا۔ گھر جا کر سناتو میری نیک نیتوں کو مزید تقویت ملی۔ میں نے اس قدر رقت انگیز اور فکرِ آخرت سے بھرپور بیان پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ مجھے اس قدر اطمینان و سکون اور قبرو حشر کی سوچ نصیب ہوئی کہ اب تو جی چاہتا تھا بس یہی بیان سنتے سنتے مجھے موت آ جائے۔ میں نے یہ بیان کم و بیش 19 مرتبہ سنا مگر ہربار مجھے نیا سرور محسوس ہوا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے غوث اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کا مرید ہوگیا۔ سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجائی عمامے کا تاج سجا کر ’’سر سبز‘‘ ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے دعوتِ اسلامی کے زیرِاہتمام سنتوں بھرے اجتماعی اعتکاف میں بھی شرکت کی سعادت حاصل کی۔ تادمِ تحریر ڈویژن مشاورت کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی خدمت میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)اصلاح کا انوکھا سبب

        فتح پورکمال (ضلع رحیم یار خان ، پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں کالج کا اسٹوڈنٹ تھا۔ مدنی ماحول میں آنے سے پہلے نماز تو پابندی سے پڑھتا تھا مگر گانے باجے سننا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، تاش کھیلنا میری عادت میں شامل تھا۔ کالج جاتے ہوئے میں اپنی سائیکل ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی کی دکان پر کھڑی کرتا تھا۔ رجب المرجب کے آخری ایام تھے ایک روز جب میں سائیکل کھڑی کرنے گیا تو اس اسلامی بھائی نے مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت شبِ معراج کے سلسلے میں ہونے والے اجتماعِ ذکرونعت کی دعوت دی۔ میں نے شرکت کی ہامی بھرلی۔ شبِ معراج کسی کا انتظار کیے بغیر ہی اکیلا اجتماعِ ذکر و نعت میں جا پہنچا۔ اجتماع میں ہونے والی نعت خوانی نے دل میں عشقِ رسول کی شمع کو روشن کر دیا۔ سنّتوں بھرے بیان اور رو رو کر مانگی جانے والی دعا نے مجھے اپنی آخرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا میں نے گھبرا کر اپنے گناہوں سے توبہ کر لی۔ اجتماع میں مجھے ایسا سکون ملا کہ میں نے ہفتہ وار اجتماع میں پابندی سے شرکت کرنا شروع کر دی۔ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی برکتیں لٹا رہا آخری عشرہ شروع ہونے کو تھا اسلامی بھائیوں نے مجھے سنّت اعتکاف کی دعوت دی میں مدنی ماحول سے متأثر تو پہلے ہی تھا چنانچہ اعتکاف کے لیے تیار ہو گیا۔ دس روزہ اعتکاف میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کے ساتھ عمل کا جذبہ بھی ملا۔ اسی دوران مَیں نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  عمامہ شریف سجا لیا اور داڑھی بھی رکھ لی۔ اب مجھے گناہوں بھری زندگی سے نفرت ہو چکی تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دستِ مبارک پر تائب و مرید ہو کر عطاری بن گیا۔ تادمِ تحریر ڈویژن سطح پر مدنی انعامات کے ذمہ دارکی حیثیت سے مدنی کاموں میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4) فلموں ڈراموں کا جُنُونی

        صوبہ پنجاب ( پاکستان) کے شہر کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کے مقیم اسلامی بھائی نے اپنے مدنی ماحول میں آنے کے حالات کچھ یوں بیان فرمائے :  بُرے ماحول اور آوارہ دوستوں کی صحبت نے مجھے گناہوں پر دلیر کردیا تھا۔ نئے سے نیا فیشن اپناتا اور اس کے لیے بازاروں کے چکر لگاتا، اپنی زندگی کے ’’انمول ہیرے‘‘ ’’غفلت‘‘ میں لٹاتا، والدین کو ستاتا حتی کہ ان سے گالم گلوچ کرنے سے بھی نہ شرماتا تھا۔ فلموں ڈراموں اور گانوں باجوں کا اس قدر جُنونی تھا کہ دن میں دو دو ، تین تین فلمیں دیکھے بغیر سکون کی نیند نہ آتی تھی۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل واحسان کی ایسی بارش ہوئی کہ ایک دن سفید لباس پہنے سبز عمامہ سجائے ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہو گئی۔ سلام و مصافحے کے بعد انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ

   

 العَالِیہ کے نیکی کی دعوت سے متعلق کچھ واقعات سنائے۔ میں بہت متأثر ہوا یہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے کیسے ولی ہیں کہ جن کے بیانات اور نیکی کی دعوت کے حکیمانہ انداز سے متأثر ہو کر کتنے ہی نوجوان فیشن



Total Pages: 81

Go To