Book Name:Rasail e Madani Bahar

کہ میری آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ میری بینائی کمزور ہوتی چلی جا رہی تھی ڈاکٹروں سے بہت علاج کروایا مگر فائدہ ہونے کی بجائے بالآخراس مرض کی وجہ سے مجھے اپنی بینائی سے ہاتھ دھونے پڑ گئے، میری دنیا تاریک ہو چکی تھی، زندگی کے رنگ پھیکے پڑگئے تھے اس صورتِ حال سے میں بہت رنجیدہ وملول رہنے لگا، حسنِ اتفاق کہ ایک مرتبہ میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی جب میں نے اُنھیں اپنی تکلیف سے آگاہ کیا تو انھوں نے میری ڈھارس بندھائی اور راہ خدا میں سفر کرنے والے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کی بہاریں سنا کر مجھے عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کا مشورہ دیا، میں علاج معالجے سے تو مایوس ہو ہی چکا تھا لہٰذا امید کی ایک کرن نظر آئی تو فوراً مدنی قافلے میں سفرپر روانہ ہو گیا، وہاں خود بھی خوب دعائیں کیں اور شرکائے قافلہ سے بھی دعائیں کروائیں ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی قافلے کی برکت سے دعاقبول ہوئی اور میری کھوئی ہوئی بینائی واپس لوٹ آئی ۔ اور ایک مرتبہ پھر میری تاریک زندگی روشن ہوگئی۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود پاک کی فضیلت

      شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تالیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ میں حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وَسلَّم کا فرمانِ عَظَمت نشان ہے :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے کچھ سَیّاح (یعنی سیر کرنے والے ) فرشتے ہیں ، جب وہ مَحافِلِ ذکر کے پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں : (یہاں ) بیٹھو۔ جب ذاکرین (یعنی ذِکر کرنے والے) دُعا مانگتے ہیں تو فرشتے اُن کی دُعا پر اٰمین(یعنی ’’ایسا ہی ہو‘‘ )  کہتے ہیں ۔ جب وہ نبی  پر دُرُود بھیجتے ہیں تو وہ فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر دُرُود بھیجتے ہیں حتی کہ وہمُنتَشِر (یعنی اِدھر اُدھر) ہوجاتے ہیں ، پھر فرشتے ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ اِن خوش نصیبوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ مغفرت کے ساتھ واپس جا رہے ہیں ۔ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی  ج۳ص۱۲۵حدیث۷۷۵۰ )

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(1) ڈانسر، نعت خواں بن گیا

        صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شہر سمن آباد کے مقیم اسلامی بھائی اپنی توبہ  کے احوال کچھ یوں تحریر کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں ایک معروف فلم اسٹوڈیو میں ڈانسر تھا۔ چونکہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے اچھی آواز سے بھی نوازا تھا مگر افسوس دینی ماحول سے دوری کے سبب میں گلوکار بن گیا۔ علاقہ بھر میں ہونے والے مختلف قسم کے بے ہودہ پروگراموں میں مجھے مدعو کیا جاتا اور میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے لوگوں سے خوب دادِ تحسین پاتا۔ فلمی دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبا رہنے کے باعث میری آنکھوں میں ہر وقت بے حیا اداکاراؤں کی بیہودہ ادائیں ہی گھومتی رہتی تھیں ۔ الغرض میں کبیرہ گناہوں کے عمیق گڑھے میں گرتا جا رہا تھا۔ شاید فلمی دنیا کی بے حیائیوں میں مبتلا ہو کر خوابِ غفلت میں سویا رہتا اور اسی حالت میں موت کے گھاٹ اُتر جاتا مگر مجھے میرے ربّ  عَزَّوَجَلَّ  نے یوں بچا لیا کہ دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی سعادت مل گئی۔ ہوا یوں کہ ایک بار سبز عمامہ سجائے سادہ لباس میں ملبوس دعوتِ اسلامی کے مُبلِّغ سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی تو انہوں نے سلام و مصافحے کے بعد مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت شبِ معراج کے سلسلے میں ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت میں شرکت کی دعوت دی۔ پہلے پہل تو میں نے انکار کیا مگر ان کے نگاہیں جھکا کر گفتگو کرنے کے دلنشیں انداز سے میں متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور ہامی بھر لی۔ اجتماع میں شرکت کی۔ میں نے ایسا روحانی اجتماع پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ مجھے بہت اطمینان وسکون نصیب ہوا مگر افسوس میری آنکھوں سے غفلت کی پٹی نہ اتر سکی۔ شعبان ا لمعظم کے آتے ہی اس عاشقِ رسول نے مجھے شبِ برأت کے اجتماع کی دعوت دینا شروع کر دی۔ میں ان کے اخلاق و کردار اور میٹھی گفتار سے تو پہلے ہی متأثر تھا چنانچہ دعوتِ اسلامی کے شبِ برأت کے اجتماع میں بھی شریک ہو گیا۔ اجتماع میں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان نے میرے بدن پر لرزہ طاری کر دیا گناہوں کی ہولناک سزاؤں کا منظر میری نگاہوں میں گھومنے لگا۔ اجتماع کے اختتام پر ہونے والی رِقت انگیز دُعا کے دوران شرکا ء کی آہ و زاری نے میرے دل پر پڑے گناہوں کے کثیف پردوں کو چاک کر دیا مجھے کیا معلوم تھا کہ اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  سے بخشش و مغفرت کا سوال کرنے والے ایسی گریہ زاری کرتے ہیں کہ پتھر دل کو بھی رونا آ جائے مجھ پر بھی رحمتِ خداوندی کی برسات ہوئی اور آنکھوں سے پشیمانی کے آنسو رَواں ہو گئے۔ میں نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر لی یہ میری زندگی کی پہلی دعا تھی جس میں مجھے لگا کہ جیسے دل سے گناہوں کا سارا میل کچیل اور غبار اتر گیا ہے اور یہ اُجلا اُجلا ہوگیا ہے۔ میں نے فلم انڈسٹری کو تین طلاق دینے کا پختہ عزم کر لیا۔ میں دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں آنے جانے لگا ۔کچھ ہی عرصے میں مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجا لیا اور سنّت کے مطابق ایک مشت داڑھی شریف بھی سجا لی۔ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت، با نیٔ دعوتِ اِسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہو کر قادری عطّاری بھی بن گیا۔ تادمِ تحریر مدنی ماحول میں مجھے صرف تین سال کا عرصہ ہوا ہے لیکن اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل وکرم سے خواب میں حضور غوث اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کی زیارت سے مشرف ہو چکا ہوں ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  سنّتوں پر عمل کا ایسا ذوق نصیب ہوا ہے کہ رمضان المبارک میں ہونے والے سنّت اعتکاف کی ہر سال سعادت حاصل کرتا ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے اچھی آواز کی نعمت سے تو نوازا ہی ہے جس



Total Pages: 81

Go To