Book Name:Rasail e Madani Bahar

نہ آئی۔ بالآخر ایک آئی اسپیشلسٹ کو دکھایا تو اس نے کہا کہ بچی کا فوری طور پر آپریشن ہوگا۔ جب آپریشن کے اخراجات کے بارے میں معلومات کیں توہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ والد صاحب کی معمولی آمدنی سے گھرکے اخراجات ہی بمشکل پورے ہوتے تھے جس کی وجہ سے آپریشن کے اخراجات ہماری طاقت سے باہر تھے۔ آخرکار میری بہن کے دردکا مُداوا کچھ اس طرح ہوا کہ میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک ذمہ دار اسلامی بھائی سے ہوئی، دورانِ گفتگو میں نے جب اپنی بہن کی بیماری کا ذکر کیا تو انھوں نے مجھے عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلے میں سفر کرنے کا ذہن دیا اور کہا کہ راہ خدا میں اپنی ہمشیرہ کی شفایابی کے لئے دعا کیجئے اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کرم ہو گا۔ لہٰذا میں ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ قافلے میں خوب خوب سنّتیں سیکھنے کا موقع ملا اور عاشقانِ رسول کی صحبت ایسی بابرکت ثابت ہوئی کہ میرے غم غلط ہو گئے۔ میرے تو دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ میں نے خود بھی اپنی ہمشیرہ کے لئے دعائیں کیں اور عاشقانِ رسول سے بھی دعاؤں کی درخواست کی، جب مدنی قافلے سے واپسی ہوئی تو والدہ کی زبانی یہ فرحت بخش خبر سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میری بہن کو آنکھوں کے مرض سے نجات مل گئی ہے اور مدنی قافلے کی برکت سے وہ آپریشن کے بغیر ہی مکمل طور پر روبصحت ہو چکی ہے۔ مدنی قافلے کی ہاتھوں ہاتھ ظاہر ہونے والی یہ برکت دیکھ کر مجھ سمیت تمام اہلِ خانہ کے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت گھر کر گئی اور گھر کے تمام افراد شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے بیعت ہو کر سرکارِ بغداد، حضورِغوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کے غلاموں میں شامل ہو گئے، نیز میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگ کر پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنّتوں کا عامل بن گیا۔ مدنی ماحول میں علمِ دین کے فضائل پر ہونے والے بیانات کی بدولت میرا عالم کور س کرنے کا ذہن بنااور میں نے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے تعلیمی شعبے ’’جامعۃالمدینہ‘‘ میں داخلہ لے لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر جامعۃالمدینہ راولپنڈی میں درجہ سادسہ (چھٹے سال) کا طالبِ علم ہوں ۔ مزید برآں تعویذاتِ عطاریہ کے ڈویژن ذمہ دارکی حیثیت سے مدنی کام کرنے میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(13)جھگڑالو سُدھر گیا

        واہ کینٹ (ٹیکسلا، پنجاب، پاکستان) کے گروال ایریا میں رہائش پذیر اسلامی بھائی کا تحریری بیان کچھ اس طرح ہے :  میں جوانی کے نشے میں بدمست، انتہائی شوخ وچنچل طبیعت کا مالک تھا۔ راہ چلتے لوگوں کو تنگ کرنا، مذاق مسخری کرنا اور آوازے کسنا نیزگھروالوں سے چھوٹی چھوٹی باتوں پرلڑائی جھگڑا مول لینا میری عادت میں شامل تھا، اگرکوئی میرے سامنے نیکی کی بات کرتا یا میری اصلاح کی کوشش کرتا تو اس کا احسان مند ہونے کے بجائے مَعَاذَاللّٰہ نہ صرف اس کا مذاق اڑاتا بلکہ طرح طرح سے دل آزاری کرتا۔ ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ میرے بڑے بھائی نے مجھے مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلائی۔ کچھ ہی روز بعد علاقائی اسلامی بھائیوں نے بھی انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے 30 دن کے مدنی قافلے میں سفر کے لئے کہا۔ علاقائی اسلامی بھائیوں بالخصوص بھائی جان کے ذہن بنانے سے میں تیار ہو ہی گیا۔ میں عاشقانِ رسول کے ساتھ 30 دن کے مدنی قافلے میں باب المدینہ (کراچی) روانہ ہو گیا، ہمارا مدنی قافلہ دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) پہنچا، مدنی قافلے میں ہونے والے درس وبیان کی بدولت سنّتوں پر عمل کا جذبہ ملا نمازِ باجماعت کی پابندی رہی، تہجد، اشراق، چاشت اور اوّابین کی ادائیگی سے روحانیت و قلبی سکون کے ساتھ ساتھ عبادت کا ذوق نصیب ہو گیا۔ خاص طور پر اسلامی بھائیوں کے حسنِ اخلاق، باہمی الفت ومحبت اوربھائی چارگی نے ایسا متأثر کیا کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے محبت وعقیدت میرے رگ و پے میں رچ بس گئی اور میرے دل میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے محبت کی شمع روشن ہو گئی کہ جن کی تربیت کا اثر اسلامی بھائیوں کے کردار میں مَیں خوداپنی آنکھوں سے دیکھ چکاتھا، میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کسی طرح امیرِ اہلسنّت کا دیدار نصیب ہو جائے چنانچہ ایک رات سویاتو میری قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اس طرح کہ میرے خواب میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لے آئے اور شفقت بھرے انداز میں فرمایا ’’بیٹا! کل اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ملاقات ہو گی‘‘ دوسرے دن واقعی امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی ملاقات اور دست بوسی کاشرف حاصل ہو گیا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے دعاؤں سے نوازا، یہ آپ سے ملاقات کی برکت تھی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اسی دن مجھے اپنے گناہوں سے سچی توبہ نصیب ہوگئی اور میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے جامعۃالمدینہ میں درجہ خامسہ (پانچویں سال) کا طالب علم ہوں اور تنظیمی ترکیب کے مطابق تعویذاتِ عطاریہ کے تحصیل ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)پتھری سے نجات

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقہ نیوکراچی بلاک D میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ ایک اسلامی بھائی کے مثانے میں کبھی کبھار تکلیف ہوا کرتی تھی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تکلیف نے ایسی شدت اختیار کی کہ اب تو آئے دن ایسا شدید درد اٹھتاکہ مارے درد کے دوہرے ہو جاتے۔ ڈاکٹروں سے چیک اپ کروانے پریہ پریشان کُن انکشاف ہوا کہ ان کے مثانے میں پتھری ہے۔ چونکہ وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے محبت رکھتے تھے لہٰذا جب اسلامی بھائیوں نے انھیں اس مسئلے کے حل کے لئے مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلائی اور یہ ذہن دیاکہ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  مدنی قافلے میں مانگی جانے والی دعاؤں کی برکت سے آپ کے درد کا مُداوا ہو جائے گا تو انہوں نے نہ صرف ہامی بھر لی بلکہ ہاتھوں ہاتھ 3 دن کے لئے ہمارے ساتھ مدنی قافلے میں سفر اختیار کر لیا۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں قائم ’’مدنی تربیت گاہ‘‘ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد مدنی قافلہ باب المدینہ (کراچی) کے علاقے سعیدآباد پہنچا۔



Total Pages: 81

Go To