Book Name:Rasail e Madani Bahar

                                             رمضان المبارک۱۴۲۵ھ

مدنی بہاروں کی اہمیت

        اللّٰہ تبارک و تَعَالٰی نے جن واِنس کی تَخْلِیق و پیدائش کا مقصد اپنی عبادت کو قرار دیتے ہوئے قراٰنِ پاک میں ارشاد فرمایا :

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) ۲۷، الذ ریٰت : ۵۶)

ترجمہ کنز الایمان :  اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی)لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔

        اِنہیں اس مقصد میں کامیابی سے ہَمکنار کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کو اَمْرٌبِالْمَعْرُوف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنکَر کے اہم کام کیلئے مبعوث فرماتا رہا اور آخر میں اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خاتَمُ الاَنْبِیا کا تاج پہنا کرنبوّت کا دَروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند فرما دیا۔ آپ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تبلیغِ دین کے اس فریضے کو کَمَا حَقُّہٗ ادا فرمایا اور حَجَّۃُ الوَداع کے موقع پریہ ذِمّہ داری اپنے جانثار و فرماں بردار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور ان کے ذریعے سے دیگر اُمّتیوں کے سپرد فرما دی۔ صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوَان نے بخوبی اس ذِمہ داری کونبھایا۔ ان  کے بعد بزرگانِ دین اور علمائے کرام نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اپنے مَنصب کے مطابق حسبِ اِستطاعت اسے سراَنجام دیتے رہے۔ ان اَسلاف کی شبانہ روز کوششوں کے باعث لوگوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنقلاب برپا ہوگئے۔ بے شمار غیر مسلموں کو ایمان نصیب ہوا، بہت سارے بے نمازی نمازوں کے پابند بن گئے، معاشرے کے بگڑے افراد سُدھر گئے، ماں باپ کے نافرمان فرماں بردار بن گئے، حبِّ دنیا میں غرق محبتِ الہٰی سے سرشار اور عشقِ نبی کے اسیر ہو گئے اور لاتعداد افراد صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے تائب ہو کر نیکیوں میں مصروف ہو گئے۔ اس طرح لوگوں کے اجڑے چمنستانوں میں بہاریں مسکرانے لگیں ۔ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی کاوشوں سے لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہونے کے لاتعداد واقعات ان کی سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر دلوں کو جِلا ملتی ہے۔ چنانچہ

بدمُعاش کی توبہ

        منقول ہے کہ ایک بدمعاش نوجوان حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دِینا ر عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار کا ہمسایہ تھا۔ لوگ اس سے بہت پریشان رہتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت سیّدنامالک بن دینار عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار سے اس کے مظالم کی شکایت کی، تو آپ نے اُس کے پاس جا کر سمجھایا لیکن اس نے گستاخی کے ساتھ پیش آتے ہوئے کہا کہ’’میں حکومت کا آدمی ہوں اور کسی کو میرے کاموں میں دَخِیْل ہونے کی ضرورت نہیں ۔‘‘ آپ نے جب اس سے فرمایا کہ’’ میں بادشاہ سے تیری شکایت کروں گا۔ ‘‘تو اس نے جواب دیا :  ’’وہ بہت ہی کریم ہے میرے خلاف وہ کسی کی بات نہیں سنے گا ۔‘‘ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’ اگر وہ نہیں سنے گا تو میں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  سے عرض کروں گا۔‘‘ اس نے کہا کہ وہ بادشاہ سے بھی زیادہ کریم ہے۔

        یہ سن کر آپ واپس آگئے لیکن کچھ دنوں بعد جب اس کے ظالمانہ افعال حد سے زیادہ ہو گئے تو لوگوں نے پھر آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے شکایت کی اور آپ پھر نصیحت کرنے جا پہنچے لیکن غیب سے آواز آئی : ’’ میرے دوست کو پریشان مت کرو ۔‘‘ آپ رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو یہ آواز سن کر بہت حیرانی ہوئی اور اس نوجوان سے کہا کہ میں اس غیبی آواز کے متعلق تجھ سے پوچھنے آیا ہوں جو میں نے راستے میں سنی ہے۔ اس نے کہا :  ’’ اگر یہ بات ہے تو میں اپنی تمام دولت راہِ خدا میں خیرات کرتا ہوں ۔‘‘ اور پورا سامان خیرات کر کے نامعلوم سمت چلا گیا۔

        اس کے بعد سوائے حضرت سیّدنامالک بن دینا رعَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار کے کسی نے اس کو نہیں دیکھا۔ آپ نے بھی مکہ معظمہ میں اس حالت میں دیکھا کہ بہت ہی کمزور اور مرنے کے قریب تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا نے مجھے اپنا دوست فرمایا ہے میں اس کے احکام پر جان ودل سے نثار ہوں اور مجھے علم ہے کہ اس کی رضا صرف عبادت ہی سے حاصل ہوتی ہے اور آج سے میں اس کی رضا کے خلاف کام کرنے سے تائب ہوں ۔‘‘ یہ کہہ کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (تذکرۃ الاولیا ، باب چہارم ، ذکر مالک دینار ، ۱/ ۵۰)

        اِسی طرح اس پُرفِتَن دور میں جب کہ لوگ دِین سے دوری کے باعث نفس وشیطان کے فریبوں میں پھنس کرلاتعداد بُرائیوں (مثلاً جھوٹ ، غیبت، حسد ماں باپ کی نافرمانی، بداخلاقی، شراب نوشی، جوئے بازی وغیرہ )میں گھرتے چلے گئے اور اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات سے روگرداں ہونے لگے تو ایسے موقع پرشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہجیسی عظیم ہستی نے دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ کا جذبہ لئے لوگوں کی اِصلاح کے لئے نیکی کی دعوت کوعام کرنا شروع کیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کچھ ہی عرصے میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی دین سے سچی محبت اور لوگوں کو برائیوں کے دَلدل سے نکال کر راہِ ہدایت پر گامزن کرنے کی لگن کے اَثرات ظاہر ہونے لگے ۔تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ذریعے تادمِ تحریر ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی بہاریں رونما ہو چکی ہیں ، معاشرے میں برے سمجھے جانے والے لوگ دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوکر عزت کی نِگاہ سے دیکھے جانے لگے ہیں اور یہ سلسلہ صرف ایک علاقے یا شہر یا ملک میں نہیں بلکہ تادمِ تحریر دنیا بھر کے 176 ممالک تک پہنچ گیا ہے اور کامیابی کا یہ سفر ابھی جاری و ساری ہے۔     

         اُمّت کی اِصلاح وخیر خواہی کے مُقدّس جذبے کے تحت ’’شعبہ امیرِاہلسنّت (المدینۃ العلمیَّہ ) ‘‘نے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی حیاتِ مبارکہ کے روشن ابواب مثلاًآپ کی عبادات ، مجاہدات ، اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہونے والی برکات وکرامات اور آپ کی تصنیفات ومکتوبات ، بیانات و ملفوظات کے فیوضات سے لوگوں کی زِندگیوں میں برپا ہونے والی مَدَنی بہاروں کو شائع کرنے کاقصد کیا ہے۔ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے شعبہ مَدَنی بہاریں کی طرف سے مَدَنی بہاروں



Total Pages: 81

Go To