Book Name:Rasail e Madani Bahar

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)مارشل آرٹ کا ماہر مُبَلِّغ کیسے بنا؟

       سردارآباد (فیصل آباد) میں مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں بگڑے ہوئے کردار کا مالک تھا۔ جھوٹ، غیبت، چغلی جیسے گناہ میری نوکِ زبان پر رہتے اور بدنگاہی کرنا میرے روز کے معمولات میں شامل تھا۔ میں مارشل آرٹ سیکھا ہوا تھا جس کے بَل بوتے پر لوگوں سے خواہ مخواہ جھگڑا مول لیتا۔ ہر نئے فیشن کواپنانا میرا وتیرہ تھا۔ آہ! نمازوں سے اس قدردوری تھی کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھاکہ کس نماز کی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں ۔ آخرکار عصیاں کے دن ختم ہوئے، رحمت کا در کھلا اورمیری قسمت یوں چمکی کہ میری ملاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی دعوت دی، دوست کی بات نہ ٹال سکا اور ہاتھوں ہاتھ تین دن کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ مدنی قافلے میں عاشِقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے مجھے مقصدِحیات معلوم ہواتو اپنے گناہوں پر ندامت ہونے لگی کہ زندگی کا طویل حصہ میں نے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی میں گزاردیا! میری آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹ چکا تھا، میری قلبی کیفیت ہی بدل گئی میں جب بھی بیان سنتا میری آنکھوں سے سَیلِ اَشک رواں ہوجاتا حتّی کہ مدنی قافلے کی واپسی کے وقت بھی مجھ پر رِقَّت طاری تھی۔ چند دنوں بعدمجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت نصیب ہوئی دیکھتے ہی ان کی محبت میرے دل میں گھرکرگئی۔ میں ہاتھوں ہاتھ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر عَطَّارِی ہو گیا۔ تمام گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں زندگی گزارنے لگا۔ یہ بیان دیتے وقت میں ڈویژن سطح پرمدنی قافلہ ذِمَّہ دارکی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ کیا کہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی کتنی برکتیں ہیں ایک ایسانوجوان کہ جسے نماز کی رکعتوں کی تعداد تک معلوم نہ تھی مدنی قافلے میں سفر کی برکت سے وہی نوجوان نہ صرف نمازپڑھنے والا بلکہ نماز سکھانے والا بن گیا نیز اس واقعہ میں اِنفرادی کوشش کی مدنی بہار بھی موجود ہے کہ ایک اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں وہ نوجوان مدنی قافلے کا مسافر بنا اور گناہوں سے تائب ہوکرمُبلّغِ دعوتِ اسلامی بن گیا۔ آپ بھی نیّت کیجئے کہ نہ صرف میں خود مدنی قافلے میں سفر کروں گا بلکہ انفرادی کوشش کے ذریعے دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی سفر کرواؤں گا۔

  سادگی چاہئے عاجزی چاہئے          آپ کوگر چلیں قافلے میں چلو

خوب خودداریاں اورخوش اخلاقیاں      آئیے سیکھ لیں قافلے میں چلو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)چھ سال پرانا مرض دور ہو گیا

        بابُ المدینہ (کراچی) میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے :  میری ہَمشِیرہ جو کہ 6 سال سے انتہائی تکلیف دہ مرض اِیگزیما (Eczema، جلد کی ایک بیماری جس میں ہاتھ یا پاؤں کی جلدسرخ ہو جاتی ہے اوراس پرسرخ باریک باریک رِسنے والی پھُنْسِیاں پیداہوجاتی ہیں اور ان پھنسیوں میں سخت کھجلی اورجلن ہوتی رہتی ہے) میں مبتلا تھیں ۔ بہت علاج کروایا لیکن بیماری ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھی جس کی وجہ سے روز بروز پریشانی میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا۔ اِسی دوران میری ملاقات اپنے علاقے کے ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی۔ میں نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو انہوں نے مدنی قافلے کی بہاریں بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو مسلمان خیر کی نیت سے راہِ خدا میں سفر اختیار کرتا ہے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کو بھلائی عطا فرما دیتا ہے، اگر کوئی گھریلو ناچاقیوں ، پریشانیوں سے نجات اور بیماریوں سے شفا پانے کے ارادے سے راہِ خدا میں سفر کرتا ہے تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اپنے فضل و کرم سے اس کی دلی مراد کو پورا فرما دیتا ہے لہٰذا آپ بھی عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی بہن کی شفایابی کے لیے دعا کیجئے۔ میں نے جب مدنی قافلے کی بَرَکات سنیں تو امید کی کرن نظر آنے لگی اس لیے میں نے ہاتھوں ہاتھ نہ صرف مدنی قافلے میں سفر کی نیت کر لی بلکہ اخراجات بھی جمع کروا دئیے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی برکت ہاتھوں ہاتھ یوں ظاہرہوئی کہ میری بہن دن بدن صحت یاب ہونے لگی اور کچھ ہی عرصہ میں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل وکرم سے انہیں 6 سالہ پرانے موذی مرض (اِیگزیما) سے نجات مل گئی۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)اعلٰیحضرت(عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت)کادیدارہوگیا

       خانیوال (پنجاب، پاکستان) کے مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ ہمارے علاقے کے مبلغِ دعوتِ اسلامی کافی عرصے سے مجھے مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلارہے تھے لیکن میں ہمیشہ ٹال دیا کرتا۔ آخرکار ایک دن ان کی  اِنفرادی کوشش رنگ لے ہی آئی اور میں مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ ہمارا مدنی قافلہ خانیوال کے نواحی علاقے میں ایک بزرگ رَحْمَۃُاللّٰہ تَعالٰی عَلیہ کے مزار شریف سے مُلحق مسجد میں ٹھہرا۔ مدنی قافلے کے آخری دن میں اُن بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلیہ کے مزار شریف کے پاس بیٹھ کر دُرُود پاک پڑھ رہاتھاکہ مجھے اُونگھ آ گئی۔ سرکی آنکھیں تو کیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں کھل گئیں ، ایک ایمان افروز منظر میرے سامنے تھا، کیا دیکھتا ہوں :  ایک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرما ہیں جنہوں نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور سفید ہی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ان کے قریب ہی چند نورانی چہروں والے بزرگ بھی موجود تھے، لیکن سامنے بیٹھے ہوئے بزرگ کے چہرے کی نورانیت سب سے نمایاں تھی۔ انہیں میں سے ایک بزرگ سے میں نے پوچھاکہ یہ جو آپ کے سامنے جلوہ فرما ہیں یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا :  یہ ُسنیوں کے امام، سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ہیں ــ۔ یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  مجھے مدنی قافلے کی برکت سے سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان عَلَیہ رَحْمَۃُالرَّحمٰن کی زیارت نصیب ہو گئی۔

 



Total Pages: 81

Go To