Book Name:Rasail e Madani Bahar

ہو گئے اور مجھ سے کہنے لگے یارسول اللّٰہکہنا حرام ہے یااللّٰہ کہنا چاہیے۔ میں یہ سن کردم بخود رہ گیا کہ نبی صلَّی اللّٰہ تَعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس قدر عداوت۔ کیا یارسول اللّٰہ کہنا شرک ہے؟۔ جبکہ میں نے سن رکھا تھاکہ صحابۂ کرامعَلَیہِمُ الرِّضْوانو تابعین عَلَیہِمْ رحمۃُاللّٰہِ المُبِین سے یارسول اللّٰہ کہنے کا بکثرت ثبوت ملتا ہے۔ ہر مسلمان نماز کے دوران تشہد میں التحیات پڑھتے ہوئے السَّلامُ عَلَیک اَیُّھَاالنَّبِیُّ پڑھتا ہے۔ پکارنے کی اجازت تو ہمارے پیارے نبیٔ کریم ، رؤفٌ رحیم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود تعلیم فرمائی ہے اگر ’’ یارسولَ اللّٰہ‘‘ کہنا جائز نہ ہوتا تو خود ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ و اٰلہٖ وسلَّم اِس کی کیوں تعلیم دیتے؟

        چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنیف رَضِیَ اﷲُ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی رَضِیَ اﷲُ  تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوکر عرض کی :  اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دُعا کیجیے کہ مجھے عافیت دے۔ ارشاد فرمایا :  ’’اگر تو چاہے تو دُعا کروں اور چاہے تو صبرکر اور یہ تیرے لیے بہتر ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کی حضور! دعا فرما دیجئے۔ انھیں حکم فرمایا :  کہ وضو کرو اوراچھا وضو کرو اور دو رَکعت نَماز پڑھ کر یہ دُعا پڑھو :  

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَ تَوَسَّلُ وَاَ تَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ

مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ   [1]؎  اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ

اِلٰی رِبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ

            ترجمہ : ا ے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور توسل کرتا ہوں اور تیری طرف مُتَوَجِّہ ہوتا ہوں تیرے نبی محمدصلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذَرِیعے سے جو نبیِّ رحمت ہیں ۔ یا رسول َاللّٰہ ! ( عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہ وسَلَّم) میں حضورصلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذَرِیعے سے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ   کی طرف اِس حاجت کے بارے میں مُتَوَجِّہ ہوتا ہوں ، تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ ’’الٰہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘

        سیِّدُنا عثمان بن حُنیَف رَضِیَ اﷲُ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’خدا کی قسم! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے، باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آئے، گویا کبھی اندھے تھے ہی نہیں ۔‘‘

 (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، ج۹ص۳۰حدیث۸۳۱۱، بہارشریعت، حصہ ۴ص۳۴ )

            اس واقعہ کے بعد میں نے ان کی صحبتِ بد سے جان چھڑالی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اب اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ میں پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتا ہوں اور میرے گھرکے تمام افراد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو گئے ہیں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10)عمل کاجذبہ مل گیا

                      سردارآباد (فیصل آباد) جھنگ روڈکے چک نمبر62 ج۔ب کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے :  مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں نمازوں کی پابندی سے محروم تھا۔ فلمیں ، ڈرامے دیکھنے اوربدنگاہی کے کبیرہ گناہ میں مبتلا انجامِ آخرت سے یکسرغافل تھا۔ بدمذہبوں کی بھینٹ چڑھنے ہی والا تھا کہ میری قسمت کاستارہ چمکا ہمارے علاقے کے اسلامی بھائی نے شفقت فرماتے ہوئے نہایت دلنشیں انداز میں ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ ان کا انداز مجھے بہت پسندآیا۔ میں انکار نہ کرسکا اور ان کے ساتھ سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہو گیا۔ اجتماع پاک میں کثیر اسلامی بھائیوں کا ایک زبان ہو کر ذکرِالٰہی کرنا بہت پسند آیا، رِقّت انگیز دعا نے تو میرے دل کی دنیا زیر و زبر کر دی مجھے اپنی نادانی پر افسوس ہونے لگا کہ ہائے افسوس میں زندگی کاکتنا عرصہ بداعمالیوں میں صرف کر چکا ہوں ۔ دل چوٹ کھا گیا میں نے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور عزم بالجزم کرلیاکہ اِنْ شَآءَاللہ عَزّوَجَلَّ  آئندہ گناہوں سے بچتا  رہوں گا۔ چنانچہ اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی عطا کردہ توفیق سے پانچوں نمازوں کی پابندی شروع کردی۔ اجتماع میں شرکت کی برکت سے مجھے سنّتوں پرعمل کرنے کاجذبہ نصیب ہوا۔ 63روزہ تربیتی کورس کی سعادت حاصل کی، تربیتی کورس کی برکت چہرے پر پیارے آقا صلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری سنّت داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج اور بدن پر مدنی لباس سجالیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس وقت تربیتی کورس کی برکتیں لوٹنے میں مصروف ہوں ۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تربیتی کورس کے بعد اپنے علاقے میں مدنی کاموں کی دھومیں مچاؤں گا اور اپنے چھوٹے بھائی کو دعوتِ اسلامی کے تحت جامعۃ المدینہ میں درسِ نظامی (عالم کورس) کے لیے داخل کرا دوں گا۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزّوَجَلَّ

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)میں سُدھر گیا

        باب المدینہ (کراچی) میں ملیرکھوکھراپار کے علاقے مومن آباد کے رہائشی اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے :  میں صحبت ِبدکی وجہ سے گناہوں کی  دلدل میں دھنستا جا رہا تھا، فلمیں ، ڈرامے دیکھنا میرا معمول تھا۔ نمازوں کی ادائیگی سے یکسر غافل تھا حتّٰی کہ جمعہ کی نمازتک نہ پڑھتا، شب وروز یونہی غفلت میں بسر ہو رہے تھے۔ میری خزاں رسیدہ زندگی میں بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک روز دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک اسلامی بھائی نے نہایت شفقت کے ساتھ انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی مگر میں نے انکارکردیا۔ اُن کی استقامت پرقربان! انھوں نے ہمت نہ ہاری اور خیرخواہی کے جذبے کے تحت مجھے وقتاًفوقتاً انفرادی کوشش کرتے ہوئے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کرتے



1      حدیثِ پاک میں اس جگہ ’’یا محمد‘‘ (صَلَّی اﷲ  تَعَالٰی عَلیہ وسَلَّم) ہے۔ مگر مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ’’یا محمد‘‘ (صَلَّی اﷲ  تَعَالٰی عَلیہ وسَلَّم) کہنے کے بجائے، یا رسولَ اﷲ (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اﷲ  تَعَالٰی عَلَیْہ وسَلَّم) کہنے کی تعلیم دی ہے۔



Total Pages: 81

Go To