Book Name:Rasail e Madani Bahar

(4)اجتماع میں شرکت کی چاشنی

        شجاع آباد (ضلع مدینۃ الاولیاء ملتان، پنجاب) کے علاقے رضا آباد (بگڑیں ) کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے کہ میرا تعلق بدمذہب گھرانے سے تھا اور میں اپنے نانا کے ہاں رہائش پذیر تھا۔ کچھ عرصہ بعد میرے چچا نے وہاں سے مجھے واپس بلوالیا۔ ایک مرتبہ نمازپڑھنے کے لئے مسجد گیا تو ایک عاشقِ رسول سبز عمامے والے اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے نہایت دلنشیں انداز میں مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں ان کے محبت بھرے انداز سے بہت متأثرہوا اور ان کی دعوت پر لَبَّیْک کہتے ہوئے جب پہلی بار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا تو اجتماع میں ہونے والے پرسوز بیان اور رقت انگیز دعا نے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا کر دیا جس کی وجہ سے مجھے قلبی سکون ملا۔ بس پھر تو سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا۔ جب گھروالوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں ۔ مجھے بڑی سختی سے منع کر دیا گیا کہ آئندہ ان لوگوں کے ساتھ کہیں مت جانا، میری نیت اچھی تھی، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ توفیق سے میں کسی نہ کسی طرح اجتماع کی پرکیف بہاروں میں پہنچ ہی جاتا۔ اب میرا نیکیاں کرنے کا جذبہ روزبروز بڑھتا جا رہا تھا۔ اپنی والدۂ محترمہ سے مدنی قافلے میں سفر کی اجازت طلب کی، والدہ نے شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔ کچھ عرصہ بعد 12دن کے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کی۔ کرم بالائے کرم کہ رمضان المبارک میں اجتماعی اعتکاف کی برکتیں لوٹنے کا موقع بھی مل گیا میرے انداز کی سختی اب نرمی میں بدل چکی تھی۔ گھر والوں سے کسی بات پر زبان چلانے کے بجائے خاموش ہو جاتا۔ گھر والوں نے جب میرے اخلاق و کردار میں پیدا ہونے والی تبدیلی دیکھی تو آہستہ آہستہ انہوں نے بھی نرمی کرنا شروع کردی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  میں نے سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا ہے اور سنّت کے مطابق داڑھی شریف بھی رکھ لی ہے۔ تادم تحریر نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ درس وبیان کی خوب خوب برکتیں حاصل کر رہا ہوں ۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھے استقامت عطا فرمائے۔

اللّٰہ     عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5)بدعقیدہ، خوش عقیدہ ہوگئے

        مٹھیاں (کھاریاں ، ضلع گجرات، پنجاب) کے علاقے جھنڈوالی میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے کہ میں بدمذہبوں کے مدرسے میں پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ خوش نصیبی سے میرا گزر دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ مٹھیاں ( کھاریاں ) کے پاس سے ہوا۔ سبز سبز عمامے والے اسلامی بھائیوں کا ہجوم دیکھ کر میں بہت حیران ہوا کہ یہاں نجانے یہ ایک ہی وضع قطع والے لوگ کیوں جمع ہیں اور کیا ہو رہا ہے؟ معلومات کرنے پرپتہ چلاکہ دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع ہو رہا ہے جس میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا سنّتوں بھرا اصلاحی بیان بذریعہ ٹیلیفون سنا جا رہا ہے۔ میں بھی اس اجتماع میں شریک ہو گیا اور بغور بیان سننے لگا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی ایسا اصلاحی بیان نہیں سنا تھا۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے پُراثر کلمات تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہو گئے۔ اجتماع کے مناظر بالخصوص ذکر ، دعا اور سیکھنے سکھانے کے حلقے میرے ذہن پر ایسے نقش ہوئے کہ پھر کوئی اور تصویر خیال میں نہ ابھر سکی میں اجتماع کے پرکیف نظاروں سے بے حدمتأثر ہوا، میری زندگی تو ایسے رِقَّت انگیز مناظر سے ناآشنا تھی میں نے اپنے سابقہ گناہوں کے ساتھ ساتھ بدعقیدگی سے بھی توبہ کر لی اور پابندی سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا میرے گھر والے اجتماع میں آنے سے روکتے مگر میں نے حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائی پر انفرادی کوشش کر کے اسے بھی سنّتوں بھرے اجتماع کے لئے تیار کر لیا۔ میں ان کے ساتھ اجتماع میں شرکت کرتا رہا ، یوں میں اور میرا بھائی مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے لگے۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(6)قرینۂ زندگی مل گیا

        شاہدرہ (مرکزالاولیاء لاہور)کے حلقہ ماچس فیکٹری میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل نہ صرف نمازوں کی ادائیگی میں سستی کا شکار تھا بلکہ گناہوں کے سمندر میں بھی غرق تھا۔ میری والدہ مجھے بہت سمجھاتیں مگر میں ٹس سے مس نہ ہوتا۔ فجر کی نماز کے لئے جگاتیں تو میں یہ کہتے ہوئے کہ ابھی بہت وقت ہے پڑھ لوں گا، نماز قضا کر ڈالتا، میرے نمازنہ پڑھنے کی وجہ سے میری والدہ بہت رنجیدہ رہتی تھیں ۔ خوش قسمتی سے میں ایک مرتبہ نمازِمغرب ادا کرنے مسجد گیا تو وہاں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کے لئے روانہ ہونے کے لئے گاڑی تیار تھی۔ نجانے کیوں آج میں بے اختیار بس میں بیٹھ گیا۔ بس روانہ ہوئی اور یوں میں سنّتوں بھرے اجتماع میں پہنچ گیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد میری زندگی میں مدنی انقلاب برپاہوجائے گا۔ اجتماع کے پُرکیف روحانی مناظر سے میرا دل باغ باغ ہو گیا خاص کر سنّتوں بھرے اصلاحی بیان اور ذکر نے میرے دل کونرم کردیا اور رقت انگیز دعا نے تو میرے دل پر پڑے غفلت کے پردوں کو خوفِ خدا سے بہنے والے آنسوؤں کے ذریعے دھو دیا۔ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی، نمازکی پابندی

 اور سنّتوں پر عمل کا عزمِ مصمم (مُ-صَمْ-مَمْ)کیا اور پابندی سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ اجتماع میں شرکت کی برکت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگتا گیا، تادم تحریر ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں میں مشغول ہوں ۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To