Book Name:Rasail e Madani Bahar

ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ   تادمِ تحریر صوبائی مشاورت میں مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کے ذمہ دار کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔

اللّٰہ     عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)مَدَنی مُنّے کی دعوت

        مرکزالاولیاء (لاہور) کے علاقے نیونیشنل ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں ایک ورکشاپ میں ملازم تھا۔ ایک روز میری ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی تو اسے دیکھ کرحیرت کے مارے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ میرا وہ دوست کل تک جو نت نئے فیشن کا شائق اور ٹھٹھہ مسخری میں فائق، کلین شیوڈنوجوان تھا، بالکل ہی بدل چکا ہے۔ ان کے سر پر سبز سبز عمامے کا تاج سجا ہوا تھا اور جسم پر سنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک سفید کرتا، چہرے پرایک مُشت داڑھی شریف نے مزید ان کی شخصیت کو نکھار دیا تھا۔ میرے چہرے پر حیرانگی کے آثار دیکھ کر انہوں نے اپنی اس تبدیلی کا راز یوں آشکار کیا کہ کچھ عرصہ قبل میری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا دل موہ لینے والا تھا کہ میں ان سے وقتاً فوقتاً ملنے لگا۔ اس عاشقِ رسول کی صحبت میں مجھے اصلاح کے پیارے پیارے مدنی پھول ملتے۔ کئی بار انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت بھی پیش کی۔ آخر ایک روز مجھے شرکت کی سعادت مل ہی گئی۔ ان دنوں مرکزالاولیاء (لاہور) میں ہفتہ وار اجتماع ہر جمعرات کو جامع مسجد حنفیہ( سوڈیوال ملتان روڈ) میں ہوتا تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ   اجتماع میں شرکت ، مدنی قافلوں میں سفر اور عاشقانِ رسول کی صحبت نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کردیا۔ جسے دیکھ کر آپ حیرت زدہ ہیں ۔ میرا تو آپ کی خدمت میں مدنی مشورہ ہے کہ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کر کے دیکھیں ، کیسی بہاریں نصیب ہوتی ہیں ۔ اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے نیت تو کی مگر بدقسمتی سے جا نہ سکا۔ میرے چھوٹے بھائی نے دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ مدرستہ المدینہ میں قراٰنِ پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ ان کو پڑھانے والے استاد صاحب کے 12 سالہ بیٹے جو میرے بھائی سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے۔ وہ جمعرات کو جب کبھی ہمارے گھر آتے تو بڑی اپنائیت سے اجتماع کی دعوت پیش فرماتے۔ میں ٹال مٹول کر دیتا مگروہ جمعرات کو آ پہنچتے اور اصرار کرتے۔ آخرکار ایک روز وہ کامیاب ہو ہی گئے اور میں ان کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ میں نے پہلی بار اتنے نوجوان سنّتوں بھرے لباس میں ملبوس سبز عمامہ سجائے دیکھے تھے۔ ان کی مسکراہٹ و ملاقات کا پیار بھرا انداز میں بھلا نہ سکا پھر جب سنّتوں بھرا بیان سنا اور رِقَّت انگیز دُعا میں شرکت کی تو میرے تاریک دل میں عشقِ رسول کی ایسی شمع روشن ہوئی کہ کچھ ہی عرصہ میں نہ صرف چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی سجالی بلکہ سبز عمامے کا تاج بھی سر پر سج گیا۔ میں سلسلہ نقشبندیہ میں مرید تھا مزید فیوض و برکات کے حصول کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں طالب بھی ہوگیا ہوں ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکتوں کو دنیا بھر میں عام کرے کہ جس نے مجھ سے گنہگار انسان کوعمل کاجذبہ عطافرمایا اور میں اپنے محسن مَدَنی منے اور اپنے دوست کا بہت شکرگزار ہوں کہ جن کی انفرادی کوشش سے میں ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا اور میری زندگی اعمالِ صالحہ کے نور سے منور ہو گئی۔

اللّٰہ       عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)دوبھائیوں کی اصلاح کاراز

        ساہیوال (پنجاب، پاکستان) کے علاقے چک نمبر 97-/ 6A میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کالُبِّ لُباب ہے کہ میں مدنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل گناہوں کی وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے سے مجھے فرصت ہی نہ ملتی تھی۔ جھوٹ بولنا، آوارہ گردی کرنا میری عادت میں شامل تھا۔ میری قسمت کاستارہ یوں چمکا کہ میرے بڑے بھائی مرکز الاولیاء (لاہور) کی ایک اِنڈسٹِری(صنعتی کارخانے) میں کام کرتے تھے۔ وہاں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کر کے انہیں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میرے بھائی نے ان کی دعوت قبول کرنے کے بعد پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اجتماع میں ہونے والے پُرسوزبیان، ذکر اور رقت انگیز دعا نے ان کے دل میں مدنی انقلاب برپا کر دیا۔ وہاں سے انہوں نے علمِ دین حاصل کرنے اور پیکرِ سنّت بننے کے جذبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 63 دن کے مدنی تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ تربیتی کورس کرنے کے بعد جب بھائی جان گھر تشریف لائے تو سب گھر والے یہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ وہ یکسر بدل چکے تھے، مدنی لباس زیب تن کئے، سر پر سبز عمامے کا تاج سجائے کسی پاکیزہ صحبت کے اثر کا پیغام دے رہے تھے۔ میں ان کے اخلاق وانداز سے بے حدمتأثر ہوا۔ ایک دن وہ مجھے اپنے ساتھ ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں لے گئے، یہاں کا روحانی ماحول مجھے بہت اچھا لگا۔ سنّتوں بھرے بیان اور ذکرکے بعد رِقَّت انگیز دعا میں میں نے خوب رو ر و کر بارگاہِ خداوندی میں اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کی ۔ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی نیت کی اور ہاتھوں ہاتھ سبز سبز عمامے کاتاج سجا لیا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو گیا۔ میں نے بھی جامع مسجد توکل (ریلوے روڈ اندرون لاری اڈا) ساہیوال میں ہونے والے 63 دن کے تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ جس میں شریعت کے بے شمار مسائل، سنّتیں اور دعائیں سیکھنے کا موقع ملا۔ مجھ پر میرے کریم ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ جس نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے دعوتِ اسلامی کا پیارا پیارا مَدَنی ماحول عطا فرمایا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّوَجَلَّ   میں نے درسِ نظامی (عالِم کورس)کی نیت بھی کرلی ہے دعا فرمائیں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  قبول فرمائے اور عالم باعمل بنائے۔

اللّٰہ   عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 



Total Pages: 81

Go To