Book Name:Rasail e Madani Bahar

اور (۸) جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صَلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وَسَلَّم پڑھوں گا(۹) دوسروں کویہ رسالہ پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گااورحسب توفیق اس رسالے کو تقسیم بھی کروں گا۔

        دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی شعبے ’’مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ‘‘ کی طرف سے ان مَدَنی بہاروں میں سے 16مَدَنی بہاریں بنام ’’نادان عاشق‘‘( قسط اوّل )شائع ہوچکی ہے اوراب مزید 13 مدنی بہاریں بنام ’’بریک ڈانسر کیسے سُدھرا؟‘‘ ( قسط دوم)پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے۔ انْ شَآئَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّا س کا بغور مطالَعَہ ’’اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی مَدَنی سوچ ‘‘پانے کا سبب بنے گا۔لہٰذا مدنی ماحول کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لئے دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دلایئے۔

        اللّٰہ  تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کے لئے مدنی انعامات پرعمل اورمدنی قافلوں کامسافربنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِاَہلسنّت        مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

۱۳ربیع الغوث۱۴۳۳ ھ بمطابق 07مارچ 2012 ء 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُوْدِ پاک کی فَضِیلت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی اوراد و وظائف پر مشتمل کتاب’’مدنی پنج سورہ ‘‘میں دُرُودِپاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں کہ ’’شہنشاہِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ، صاحبِ معطرپسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وسلَّم  کافرمانِ عافیت نشان ہے :  اے لوگو! بے شک تم میں سے بروز قیامت اس کی دہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا وہ شخص ہو گا جس نے دنیا میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھاہو گا۔(فِرْدوسُ الْاَخْبَارج۲ص۲۷۱حدیث۸۲۱۰)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(1)بریک ڈانسرکیسے سُدھرا؟

        لیاقت پور (ضلع رحیم یارخان، پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  مَیں ۱۴۰۹ھ بمطابق1989ء میں خانپور (ضلع رحیم یارخان) میں رہائش پذیر تھا۔ ان دنوں میں ایک کراٹے کلب میں کراٹے سیکھتا تھا۔ کراٹے رینکنگ کے مطابق میری گرین بیلٹ تھی (کراٹے کے کھیل میں یہ ایک درجہ ہے)  میں اپنی ہی دنیا میں مست تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے نت نئے شوق و ارادے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ میں نے باقاعدہ ایک ماہر استاد سے بریک ڈانس (ایک مخصوص رقص، ناچ) سیکھنا شروع کر دیاا پنے فن میں میں نے اتنی مہارت حاصل کرلی کہ میرا استاد جو مجھے ڈانس سکھاتا تھا 1992ء میں پاک پتن چلا گیا۔ میں نے استاد کی غیر موجودگی میں ڈانس کلب بہترین انداز میں سنبھالا۔ ڈانس سیکھنے والے لڑکوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے شہرت ملی تو میں لیاقت پور شفٹ ہو گیا۔ یہاں بھی اپنے فن کاخوب مظاہرہ کیا اور جلد ہی شاگردوں میں اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران میں اسٹیج ڈرامے کروانے والی ایک مقامی آرٹ کونسل کا رکن بھی بن گیا۔ مجھے ڈراموں میں گانوں اور ڈانس کے لئے مدعو کیا جاتا۔ اس طرح میں لوگوں سے خوب دادِ تحسین حاصل کرتا۔ یوں میرے شب وروز مزید گناہوں کی نذر ہونے لگے۔ ان گناہوں میں گھِرے ہونے کے باوجود کبھی کبھار نماز پڑھنے مسجد چلا جایا کرتا تھا۔ یہی نماز پڑھنا ہی میری اصلاح کا سبب بنا۔ میری خوش نصیبی کہ میں جس مسجد میں نماز پڑھتاتھا وہاں کے امام صاحب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے۔ میں جب بھی مسجد جاتا وہ انتہائی ملنساری سے ملاقات فرماتے اور قبرو آخرت کی تیاری کا ذہن بناتے۔ ایک روز جب میں امام صاحب سے ملنے گیا تو میری نظر اچانک ایک ضخیم کتاب پر پڑی جس پر جلی حروف میں ’’فیضانِ سنّت‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں نے اسے اٹھایا اور مطالعہ کرنا شروع کر دیا، کتاب میں لکھے ایمان افروز واقعات اور بالخصوص دُرُود وسلام کے فضائل پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ کتاب کا حرف حرف عشقِ رسول میں ڈوبا ہوا تھا یہی وجہ تھی کہ دل بھرہی نہیں رہا تھا۔ اب تو میری عادت بن گئی کہ روزانہ شام کے وقت امام صاحب کے پاس آتا اور دیر تک مطالعہ کرتا رہتا۔ اس طرح میری دُرُودِ پاک کی بھی عادت بن گئی۔ ایک مرتبہ سردیوں کی شام مَیں ہوٹل پرفلم دیکھنے جا رہا تھا کہ اچانک میری ملاقات امام صاحب سے ہو گئی، انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں چونکہ شرکت نہیں کرنا چاہتا تھا لہٰذا بہانہ بنایا کہ سردی بہت ہے، میں گھر سے چادر لے آؤں ۔ میرا یہ کہناتھا کہ امام صاحب نے اپنی چادر اتاری اور مجھے اوڑھا دی۔ میں نے چادر لینے سے انکار کیا مگر ان کے پُرخلوص اصرار کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑے۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنی سردی میں کوئی اس طرح بھی ایثار کر سکتا ہے۔ بالآخر میں سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو ہی گیا۔ سنّتوں بھرے اجتماع کا روح پرور منظر دیکھ کر میری تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں مجھے احساس ہوا کہ افسوس! میں تو فانی دنیاکی محبت میں گم تھا۔ حقیقی زندگی تویہ ہے جہاں زندگی کا ہر رنگ اپنے اندر ہزاروں رحمتیں و برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اجتماع میں ’’عشقِ مصطفی‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سنّتوں بھرے بیان نے میری آنکھوں سے غفلت کے پردے دور کر دیے۔ میں بے اختیار رو پڑا۔ ذکر اللّٰہ کے دوران مجھے ایسا سکون ملا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا اطمینان نہ ملا تھا اور آخر میں ہونے والی رقّت انگیز دعا نے جیسے زنگ آلود دل کا میل اتار دیا۔ میں نے رو رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے دل کی دنیامیں مدنی انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ اجتماع کے اختتام پر اسلامی بھائی اس طرح مل رہے تھے کہ جیسے مجھے برسوں سے جانتے ہوں ۔ میں نے اسی وقت امام صاحب سے کہا ’’اب آپ آئیں یا نہ آئیں میں ہر جمعرات اجتماع میں ضرور آیا کروں گا۔‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ   میں ہمیشہ ہمیشہ کی راحتیں اور برکتیں حاصل کرنے کے جذبے کے تحت دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ 5، 6، 7 اپریل 1995 ء میں مینارِ پاکستان (لاہور) میں ہونے والے صوبائی اجتماع میں شریک ہو کر امیرِ اہلسنّت سے مرید ہوکر قادری عطاری بن گیا۔ کل تک گرین بیلٹ میری کمر پر تھی اور آج گرین عمامہ میرے سر پر



Total Pages: 81

Go To