Book Name:Murday ki Bebasi

نکال باہرکیا۔

 آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارَکباد

    ایک میجر کابیان ہے،میں اُن دِنوں منگلا ڈَیم میں ہوا کرتا تھا،’’دِینہ‘‘ (جہلم)کے اسلامی بھا ئیو ں نے سنتوں بھرے بیان کی بعض کیسٹیں تحفے میں دیں۔ وہ کیسٹیں گھر میں چلائی گئیں۔ ان میں بابُ الاسلام( سندھ) کے بزرگ والا واقعہ بھی تھا، سن کر ہم سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر گئے اوراتفاقِ رائے سے ٹی۔ وی کو گھر سے نکال دیا۔خدا کی قسم ! T.V. گھر سے نکالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد میرے بچوں کی امی نے (غیب کی خبر دینے والے) مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دیدار کیا اور پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  مبارَک ہو کہ تمہارا گھر سے ٹی ۔ وی نکال دینے کا عمل اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں منظور ہو گیا ہے۔

         یہ اُس وقت کے واقعات ہیں جب دعوتِ اسلامی نے عورت اور موسیقی وغیرہ سے پاک 100فیصدی اسلامی ’’ مدنی چینل‘‘ کا آغاز نہیں کیا تھا، ’’ مدنی چینل‘‘ کے علاوہ روئے زمین پر تادمِ تحریر میری معلومات کے مطابِق اب بھی کوئی صحیح شرعی چینل نہیں ۔لہٰذا بیان کردہ دونوں واقعات اُس دور کے اعتبار سے بالکل دُرُست ہیں کہ وہ لوگ گناہوں بھرے پروگرام دیکھا کرتے تھے۔ اب بھی مختلف چینلز پر گناہوں بھرے پروگرام دیکھنے والوں کیلئے یہی درخواست ہے کہ وہ T.V.کو گھر سے نکالا دے دیں اور اس کے ذریعے جتنے گناہ کئے اُن

 



Total Pages: 28

Go To