Book Name:Murday ki Bebasi

ہوگا۔سنو!سنو! بندہ اپنے حصّے کی روزی کھا کر ،زندگی گزار کر لوگوں کے کندھوں پر جنازے کے پنجرے میں سوار ہو کر جب جانب قبرستان سدھارتا ہے اُس وَقت کیا کہتا ہے۔ چنانچہ

جناز ے کا اعلان

       سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر لوگ اس کا (یعنی مرنے والے کا)ٹھکانا دیکھ لیں اور اس کاکلام سن لیں تو مردے کو بھول جائیں اور اپنی جانوں پر روئیں۔جب مردے کو تخت پررکھ کر اُٹھایا جاتا ہے اُس کی رُوح پھڑپھڑا کر تخت پر بیٹھ کر ندا کرتی ہے:’’اے میرے اَہل وعیال! دنیا تمہارے ساتھ اِس طرح نہ کھیلے جیسا کہ اِس نے میرے ساتھ کھیلا،میں نے حلال اور غیر حلال مال جمع کیا اور پھروہ مال دوسروں کے لئے چھوڑ آیا۔اس کا نفع ان کیلئے ہے اور اس کا نقصان میرے لئے،پس جو کچھ مجھ پر گزری ہے اس سے ڈرو۔‘‘(یعنی عبرت حاصِل کرو)          (التَّذکِرۃ لِلقرطبی ص۶۹ )

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مقامِ غور ہے!واقعی ہر جنازہ زبردست مبلغ ہے ، گویاہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے پیچھے رَہ جانے والو! جس طرح آج میں دنیا سے جا رہا ہوں عنقریب تمہیں بھی میرے پیچھے پیچھے آنا ہے۔ یعنی جنازہ گویا ہماری رہنُمائی کر رہا ہے   ؎

جنازہ آگے بڑھ کے کہہ رہا ہے اے جہاں والو!

مِرے پیچھے چلے آؤ تمہارا رہنُما میں ہوں

 

 



Total Pages: 28

Go To