Book Name:Murday ki Bebasi

چوریوں اور لو ٹ مار کا سلسلہ ہے؟ روزی کے یہ حرام ذرائع آخرکیوں اپنا رکھے ہیں ؟

 تیسرا دعوٰی’’دنیا سے آخِرت بہتر ہے‘‘

      یقینا ’’دنیا سے آخرت بہتر ہے‘‘یہ دعوی کرنے کے باوجود صد کروڑ افسوس! انداز صرف اور صرف دنیاکو بہتر بنانے والا ہے ،فقط دنیا کی دولت سمیٹنے ہی کی مصروفیت ہے، بندہ اکثر دنیاکے مال ہی کا متو الا نظرآ رہا ہے اور اس کے جینے کا طرز یہ بتاتا ہے گویا دنیا سے کبھی جانا ہی نہیں ۔

چوتھا دعوٰی’’ایک دن مرنا پڑے گا‘‘

     یقینا’’ ہمیں ایک دِن مرنا پڑ ے گا‘‘ یہ تسلیم کرنے کے باوجودافسوس صد کروڑ افسوس! زندگی کا انداز ایسا ہے گویا کبھی مرنا ہی نہیں۔ دیکھئے! ’’حضرت سَیّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ’’ہمیں ایک دِن مرنا پڑ ے گا ‘‘کے دعوے کی عملی تصویر تھے، انکی زندگی کا انداز یہ تھا کہ ہر وقت اس طرح سہمے رہتے تھے جیسے انہیں سزائے موت سنادی گئی ہو۔‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۴ ص  ۲۳۱مُلخَّصاً ) جس کو آج کل ’’بلیک وارنٹ ‘‘کہتے ہیں۔ حالانکہ ان معنوں میں ہر ایک کے لئے       بلیک وارنٹ جاری ہو چکا ہے کہ جو بھی پیدا ہوا ہے اُسے مرنا ہی پڑے گا، ہر جاندارپیدا ہونے سے قبل ہی گویا ’’ہٹ لسٹ‘‘ پر آچکاہے ، یعنی پیدا ہونے سے پہلے ہی، اُس کی روزی اور عمر کا تعین ہو گیا بلکہ اس کے دفن ہونے کی جگہ بھی مقرر ہوچکی۔رِحمِ مادَرمیں انسان کا پتلا بنانے کیلئے فرشتہ زمین کے اُس حصّے سے مٹی لاتا ہے جہاں یہ بندہ عمر گزارنے کے بعد مر کر دفن

 



Total Pages: 28

Go To