Book Name:Walidain kay Nafarman ki Tauba

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِپاک کی فضیلت

          شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنی مایہ ناز تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ کے باب ’’ آدابِ طعام‘‘ میں  حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں  کہ سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیضِ گنجینہ، صاحبِ مُعَطّر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمکا فرمانِ شفاعت نشان ہے :  ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ میری قبر پر مقرر فرمایا ہے، جسے تمام مخلوق کی آوازیں  سننے کی طاقت عطافرمائی ہے، پس قیامت تک جوکوئی مجھ پردُرُودِ پاک پڑھتاہے تووہ مجھے اُس کا اور اُس کے باپ کانام پیش کرتاہے کہتاہے :  فُلاں  بن فُلاں  نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردُرُودِ پاک پڑھاہے  ۔ ‘‘ (مجمع الزوائد، ۱۰/ ۲۵۱، حدیث :  ۱۷۲۹۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(1) والدین کے نافرمان کی توبہ

          مظفرگڑھ (پنجاب، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میری حالت  ناگفتہ بہ تھی ۔ داڑھی شریف سجا کر ثواب کا حقدار بننے کے بجائے دشمنانِ دین کی نقّالی کر کے اپنی آخرت برباد کر رہا تھا ۔ چھوٹوں  پر شفقت اور بڑوں  کے اَدب سے بالکل ہی نابلد تھا ۔ ہر ایک کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا میری عادتِ بد بن چکی تھی ۔ گانے باجے سننے کے علاوہ فلمیں  ڈرامے دیکھنے کا اس قدر جنونی تھا کہ ہر روز جب تک اپنا نامۂ اعمال بدنگاہی کے عظیم گناہ سے آلودہ نہ کرلیتا مجھے چین نہ آتا تھا ۔ کرکٹ میچ دیکھنے اور کھیلنے میں  زندگی کاایک حصہ ضائع کر چکا تھا ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ علمِ دین سے دوری کے سبب والدین کے مقام ومرتبے سے ہی لاعلم تھا یہی وجہ تھی کہ معاذاللّٰہ ان کی حکم عدولی کرنا بالخصوص والد صاحب کے سامنے اونچی آواز میں  بات کرنا اور اول فول بکنا میری عادات میں  شامل تھا ۔ جب کبھی گھر میں  ہوتا تو چھوٹے بہن بھائیوں  کی شامت آجاتی، میرے بے جا مارنے پیٹنے کی وجہ سے مجھے دیکھ کر گھبرا جاتے ۔ میری سوچ وفکر پر ہمہ وقت گناہوں  بھرے خیالات منڈلاتے رہتے اور مجھے کوئی اچھی بات سُجھائی نہ دیتی تھی ۔ الغرض اپنے پرائے سبھی میری شر انگیزیوں  سے تنگ تھے، گناہوں  کے اندھیرے میں  ڈوبی میری زندگی میں  نیکیوں  کا اُجالا کچھ اس طرح ہوا، جب میں  سردار آباد (فیصل آباد) میں  دنیاوی تعلیم کے سلسلے میں  ایک ہاسٹل میں  مقیم تھا ۔ ایک دِن دعوتِ اسلامی کے مدَنی مرکز ’’فیضانِ مدینہ‘‘ حاضری ہوئی ۔ واپسی پر میں  نے مکتبۃالمدینہ سے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تحریری بیانات کامجموعہ ’’بیاناتِ عطاریہ‘‘ ہدیۃً خرید لیا اور ہاسٹل آگیا ۔ جب میں  نے اسے مطالعہ کی غرض سے کھولا تو شروع میں  ہی یہ مدَنی پھول لکھا ہوا پایا کہ ’’شیطان لاکھ سُستی دلائے مگر یہ رسالہ ضرور پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے اندر مدَنی انقلاب برپا ہو جائے گا‘‘ یہ ترغیبی کلمات پڑھ کرمیں  نے بغور رسالہ کا مطالعہ شروع کردیا ۔ بیانات ِعطاریہ کے مدَنی گلدستے میں  جگہ بہ جگہ بزرگانِ دین کے ایمان افروز واقعات، نصیحت آموز حکایات، خوفِ خدا پیدا کرنے والے عذابات، فکرِ آخرت کی مدَنی سوچ اُجاگر کرنے والے نبیِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے فرمودات اور درس و ہدایت سے مہکتے مدَنی پھول میرے ایمان کو جِلا بخشنے لگے، جوں  جوں  پڑھتاگیا گناہوں  کا غُبار دِل سے دور ہوتا گیا ۔ فکرِآخرت پر مبنی عام فہم تحریر نے کچھ ایسا اثر دکھایا کہ میں  خوابِ غفلت سے بیدار ہوگیا، مقصدِ حیات سے آگاہ ہوگیا اور میرا باطن نورِ ایمانی سے جگمگا اُٹھا ۔ دنیا سے ایمان سلامت لے جانے، نزع کی سختیوں  سے خود کو بچانے اور اندھیری قبر کو اعمالِ صالحہ کے ذریعے روشن کرنے کی مدَنی تڑپ دل میں  پیداہوگئی ۔ چنانچہ نیک بننے اور گناہوں  سے چھٹکارا پانے کے لئے میں  دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔ بااخلاق عاشقانِ رسول کا قرب کیا ملا میری بَدخُلقی کی عادت دور ہوگئی، والدین کا ادب واحترام نصیب ہوگیا، چھوٹے بہن بھائیوں  پر شفقت میرا وتیرہ بن گیا اور میری ویران زندگی کا گلشن سنّتوں  کے پھولوں  سے مہک اٹھا  ۔ جلد ہی میں  نے سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا، چہرہ داڑھی شریف کی سنّت سے مُنَوَّر کرلیا اور زُلفوں  کی سنّت بھی اپنالی ۔ مزید علم وعمل سے مزیّن ہونے کے لیے 63 روزہ تربیتی کورس کرنے عالمی مدَنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پہنچا اور تربیتی کورس میں  داخلہ لے کر علمِ دین کے انمول موتی چننے میں  مشغول ہوگیا ۔ تکمیلِ کورس کے بعد خدمتِ دین میں  مصروف ہوگیا ۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مدَنی ماحول میں  استقامت عطا فرمائے ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولاد پر والدین کا ادب و احترام شرعاً لازم ہے لہٰذا بغیرکسی شرعی وجہ کے والدین کی نافرمانی کرنا حرام اور جہنم میں  لے جانے والا کام ہے ۔ آج کے اس پُرفتن دور میں  اچھی تربیّت نہ ہونے کی وجہ سے اولاد والدین کے مقام ومرتبے سے ناآشنا ہوتی جارہی ہے، جیسا کہ آپ نے مدنی بہار میں  پڑھا کہ وہ نوجوان والد صاحب کے ساتھ بدزبانی کرکے اپنی آخرت برباد کر رہاتھا اور نجانے کب تک اس گناہِ عظیم کا مرتکب ہوتا مگر اس کی قسمت کا ستارہ چمکا اور اُسے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول مل گیا جہاں  وہ والدین کے عظیم مقام ومرتبے سے روشناس ہوا اور اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوئی ۔ جولوگ والدین کی بے ادبی کرتے ہیں  انہیں  چاہئیے کہ فوراًاِس کبیرہ گناہ سے توبہ کریں  ورنہ یاد رکھیں  والدین کی نافرمانی کرنے اور ان کا دِل دکھانے کا عذاب برداشت نہیں ہوسکے گا ۔ احادیثِ مبارکہ میں  اس حوالے سے سخت وعیدیں  بیان کی گئی ہیں  چنانچہ

            حضرت سیّدنا امام احمد بن حجر مکی شافعی عَلیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہے :  سرورِ کائنات شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  معراج کی رات میں  نے کچھ لوگ دیکھے جو آگ کی شاخوں  سے لٹکے ہوئے تھے تو میں  نے پوچھا :  اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں  ؟ عرض کی : اَ لَّذِیْنَ یَشْتُمُوْنَ اٰبَائَھُمْ واُمَّھَاتِھِم فِی الدُّنیا یعنی یہ وہ لوگ ہیں  جو دنیا میں  اپنے باپوں  اور مائوں  کو برا بھلا کہتے تھے ۔ (الزواجرعن اقتراف الکبائر، ۲/ ۱۳۹، دارالمعرفۃ بیروت)

            منقول ہے :  جس نے اپنے والدین کو گالی دی اس کی قبر میں  آگ کے اتنے انگارے اترتے ہیں  جتنے (بارش کے) قطرے آسمان سے زمین پر آتے ہیں ۔  (ایضا، ص ۱۴۰)

            حضرت سیّدنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے :  رسولِ ذیشان نورِرحمٰن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  تین شخص جنت میں  نہیں  جائیں  گے (1) ماں  باپ کوستانے والا اور (2) دَیُّوث اور (3) مردوں  کی نقّالی کرنے والی عورت ۔ (المستدرک، ۱/ ۲۵۲، حدیث :  ۲۵۲)

 



Total Pages: 7

Go To