Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو جُذَام کے مرض میں   مبتلا ہونے کے ساتھ اندھا ،  گونگا اور بہرا بھی تھا ،  جو اس کے ساتھ لوگ تھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن سے پوچھا:   ’’ هَلْ يَرَوْنَ فِيْ هٰذَا مِنْ نِعَمِ اللہِ شَيْئًا یعنی کیا تمہیں   اس کی ذات میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   میں   سے کوئی نعمت نظر آتی ہے؟ ‘‘   وہ کہنے لگے کہ نہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ کیوں   نہیں   ہے!کیا تم لوگ دیکھتے نہیں   ہو کہ یہ جب پیشاب کرتا ہے تو بغیر کسی تکلیف کے آسانی کے ساتھ کرتا ہے ،  یہ بھی تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   میں   سے ایک نعمت ہی ہے۔ ‘‘   ([1])

چھوٹی سی ناپسندیدہ بات بھی آزمائشہے:

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ لوگوں   نے عرض کیا:   ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے جوتے کے تسمے ٹوٹنے پر بھی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہیں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ اِنَّ كُلَّ شَيْءٍ اَصَابَ الْمُؤْمِنَ يَكْرَهُهُ فَهُوَ مُصِيْبَةٌ یعنی مؤمن کو پہنچنے والی ہر وہ چھوٹی سی چھوٹی بات جسے وہ ناپسند کرتا ہے اس کے لیے آزمائش ہی ہے۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا دونوں   فرامین  ’’ صبرو شکر ‘‘   کی دو عظیم نعمتوں   کی ترغیب سے مالامال ہیں   ،  یقیناً وہ شخص کامیاب وکامران ہے جو ہر حال میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرے ،  اگر کوئی مصیبت آئے تو اس پر صبر کرکے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پائے کیونکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پیارے بندوں   کو آزمائش میں   مبتلا فرماتاہے تاکہ وہ اس پر صبر کریں   اور پھر وہ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ چنانچہ ،

محبوبِ رَبُّ العزت ، محسنِ انسانیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بندے کا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   کوئی مرتبہ مقرر ہو اور وہ اس مرتبے تک کسی عمل سے نہ پہنچ سکے تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جسم ،  مال يا اولاد کی آزمائش ميں   مبتلا فرماتا ہے پھر اسے اُن تکاليف پر صبر کی توفيق عطافرماتاہے يہاں   تک کہ وہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اپنے مقرردرجے تک پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘    ([3])

حضرت سیِّدُنا عمیر بن واصل رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذَا کَانَ الرَّجُلُ مُقْصِراً فِی الْعَمَلِ اُبْتُلِیَ بِالْھَمِّ لِیُکَفَّرَ عَنْہُ یعنی جب کسی شخص سے نیک اعمال کرنے میں   کوتاہی ہوتی ہے تو اسے کسی نہ کسی آزمائش میں   مبتلا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ آزمائش اس کی کوتاہی کا کفارہ ہو جائے۔ ‘‘  ([4])       

آٹھ 8مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ مَنْ کَثُرَ ضِحْکُہُ قَلَّتْ ھَیْبَتُہُ یعنی جو زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت کم ہوجاتی ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنْ کَثُرَمَزَاحُہُ اِسْتَخَفَّ بِالنَّاسِ یعنی جو زیادہ مزاح کرتاہے لوگوں   کے نزدیک حقیر ہو جاتا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالنَّاسِ اِسْتَخَفَّ بِہٖ یعنی جو لوگوں   کے نزدیک حقیر ہو وہ اپنے نزدیک بھی حقیر ہو جاتا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنْ اَکْثَرَ فِیْ شَیْءٍ عُرِفَ بِہٖ یعنی جو کسی چیز کو کثرت سے کرتاہے تو اس کے سبب مشہور ہو جاتا ہے۔ ‘‘ 

 

٭… ’’ مَنْ کَثُرَ کَلَامُہُ کَثُرَ سَقَطُہُ یعنی جو زیادہ بات کرتاہے اس کی کمینگی بڑھ جاتی ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنْ کَثُرَ سَقَطُہُ قَلَّ حَیَاؤُہُ یعنی جس کی کمینگی بڑھ جاتی ہے اس کی حیا کم ہوجاتی ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنْ قَلَّ حَیَاؤُہُ قَلَّ وَرْعُہُ یعنی جس کی حیا کم ہوجاتی ہے اس کا تقویٰ کم ہوجاتاہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ مَنْ قَلَّ وَرْعُہُ مَاتَ قَلْبُہُ یعنی جس کا تقویٰ کم ہوجاتاہے اس کا دل مردہ ہوجاتاہے۔ ‘‘  ([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مذکورہ بالا فرامین زُہد وتقوی کے بہت بڑے بڑے ابواب ہیں   ،  اگر کوئی شخص اِخلاص کے ساتھ ان پر عمل کرے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں   جہاں   کی بھلائیاں   پائے گا۔ان پر عمل کرنے کا ایک آسان طریقہ شیخ طریقت ،  امیر اہل سنت ،  بانی دعوت اسلامی ،  حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنا بھی ہے۔ آپ بھی مدنی اِنعامات کا رِسالہ روزانہ پُرکے ہر ماہ اپنے ذمہ دار کو جمع کروانے کا



[1]     کنزالعمال ،  کتاب الاخلاق ،  الصبر علی البلایامطلقا ،  الجزء: ۳ ،  ج۲ ،  ص۳۰۱  ،  حدیث: ۸۶۵۰۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب الادب ،  فی الرجل ینقطع۔۔۔الخ ،  ج۶ ،  ص۲۵۹ ،  حدیث: ۳۔

[3]     سنن ابی داؤد  ، کتاب الجنائز  ،  باب الامراض المکفرۃ ۔۔۔الخ  ،  الامراض المکفرۃ لذنوب ،  ج۳ ،  ص۲۴۶ ،  حدیث: ۳۰۹۰۔

[4]     مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب ،  الباب السابع والخمسون ،  ص۱۷۲۔

[5]     المنبھات ،  ص۸۲۔



Total Pages: 349

Go To